2- ایک چوکیدار کی گواہی نے تاریخ بدل دی

2- ایک چوکیدار کی گواہی نے تاریخ بدل دی

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ دوسرا باب

 ایک چوکیدار نے مجھے جاسوس بنوا دیا

سپائی کرونیکلز میں ایک جگہ آدیتیہ سنہا نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی سے پوچھا کہ وہ آئی ایس آئی کا حصہ کیسے بنے۔ اسد درانی کا جواب تھا کہ حادثہ تھا جو مجھے آئی ایس آئی میں لے گیا۔ مجھے تو اس کام کی تربیت ہی نہیں ملی تھی بلکہ میں ایک نارمل سا لائن آفیسر تھا۔ آئی ایس آئی کے لیے کام کرنے کا پہلا تجربہ 1980سے1984کے درمیان اس وقت ہوا جب میں جرمن ایمبیسی میں دفاعی مشیر تھا۔ اور یہ تجربہ بھی بس برائے نام ہی تھا۔ اور میری پوسٹنگ کا جو قصہ ہے وہ بڑے ہی مزے کا ہے۔ ہوا یوں کہ میرا نام اس پوسٹ کے لیے گیا تو معمول کے مطابق مختلف ایجنسیوں نے میرے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ ایک ایجنسی کے لوگ ماڈل ٹائون لاہور میں میرے سسرال بھی گئے ۔ میرے سسرال والے گھر پر نہیں تھے توانہوں نے پڑوسی گھر کے چوکیدار سے سوال پوچھا کہ یہ کیسے لوگ ہیں ۔ چوکیدار نے جواب میں کہا یہ اچھے لوگ ہیں۔ اس چوکیدار کی گواہی نے مجھے یہ پوسٹ دلادی بلکہ میں اکثر اس بات کا ذکر کرتا ہوں کہ میری جرمنی پوسٹنگ کا سرٹیفکیٹ اس چوکیدار نے دیا تھا۔

اسد درانی جرمنی سے راز کیسے معلوم کرتے تھے

خیرجرمن سفارت خانے میں بطور مشیر دفاع میں آئی ایس آئی کے لیے کام کررہا تھا مگر مجھے کوئی خفیہ مشن نہیں سونپا ہوا تھا۔ سادہ لفظوں میں کہوں تو میں جرمنی میں جاسوسی نہیں کررہا تھا۔ میرے میزبان مجھے اچھی طرح جانتے تھے اور کچھ بھی مجھے پوچھنا ہوتا وہ مجھے بتا دیتے تھے، اس کی وجہ میری یہ خوش قسمتی  تھی کہ اس دور میں افغانستان میں سوویت فوجیں داخل ہو چکی تھیں اور پاکستان مغرب کا اتحادی تھا، سو مجھے جو جاننا ہوتا وہ میں آسانی سے معلوم کر لیتا۔ میں نے نیٹو مشیر کے بعد سب سے زیادہ معلومات وہاں سے نکالیں۔ بلکہ اکثر تو خصوصی اور اہم معلومات مجھے آسانی سے مل جاتیں۔

بھارت مجھے سخت گیر موقف فوجی سمجھتا تھا، درانی

84میں میں پاکستان واپس آگیا اور حسب سابق لائن افسر کے طور پر کام میں لگ گیا۔ ضیا طیارہ حادثے میں ہلاک ہو گئے تو جنرل اسلم بیگ نے مجھے ملٹری انٹیلی جینس کا سربراہ بنا دیا۔ سچ کہوں تو میرے لیے یہ ناگہانی آفت تھی۔ اس کے بعد آئی ایس آئے میں واپسی ہوئی تو وہ بھی حادثاتی تھی۔ ہوا یوں کہ اگست 1990میں بے نظیر حکومت ختم کی گئی تو مجھے اس وقت تک کے لیے عارضی طور پر آئی ایس آئی کا سربراہ بنادیا گیا اور کہا گیا کہ جیسے ہی کوئی مناسب بندہ ہمیں ملے گا آپ کو واپس بلا لیا جائے گا۔ مگر دوسال کی ایم آئی کی سربراہی اور افغانستان، کشمیر اور عراق کویت پر میری گہری نظر تھی اس لیے میری نوکری پکی ہوگئی۔میں اٹھارہ ماہ تک آئی ایس آئی کا حصہ رہا اس کے بعد واپس ایم آئی آگیا وہاں مجھے بھارت کی ایک خفیہ رپورٹ دیکھنے کو ملی جس میں مجھے سخت گیر موقف رکھنے والا فوجی لکھا گیا تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ آج تک جرمنی میں بھارتی اتاشی کے علاوہ میری کسی ہندوستانی سے بات چیت نہیں ہوئی تھی مگر یہ موقف بنا لیا گیا۔ جب ہم دوسرے ملکوں میں کام کرتے ہیں تو نہ ہم سخت گیر ہوتے ہیں نہ نرم خو(نہ باز نہ فاختہ) بلکہ کولیگ ہوتے ہیں جو تیسرے ملک میں کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اور اس دوران عام سے موضوعات پر معمول کی بات چیت بھی ہوتی رہتی ہے۔

میں نے فوج میں انٹیلی جینس کور بنائے

آدیتیہ سنہا کی طرف سے جب یہ پوچھا گیا کہ جرمنی جانے سے پہلے خفیہ ایجنسی کا آپ کا تصور کیا تھا، تو اس کے جواب میں جنرل اسد درانی  نے کہا کہ وہی تصور تھا جو ایک عام پاکستانی، ہندوستانی یا کسی بھی ملک کے باشندے کا ہو سکتا ہے۔ سائے جیسے، خفیہ، خاموش ایسے لوگ جن سے محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جب میں نے کام کیا تو مجھے حیرت ہوئی کہ پتہ نہیں ایسا تصور کیوں قائم ہوا ہے۔ ہم صرف ملک کو درپیش خطرات کا تخمینہ لگاتے ہیں۔ ایسے خطرات جن کی سرپرستی بیرونی عناصر کررہے ہوتے ہیں۔ ہم آئی ایس آئی میں بس یہی کرتے تھے کہ متعلقہ حکام کو خطرات سے آگاہ کردیں۔ مجموعی طور پر مجھے یہ کام ویسا نہیں لگا جیسا عام تاثر ہے بلکہ مجھے تو یہ معزز پیشہ لگا۔ اور یہی ذہن میں رکھ کر میں نے پاکستان آرمی میں انٹیلی جینس کارپس تشکیل دیے۔ میراماننا ہے کہ انٹیلی جینس کے کچھ پہلو ایسے ہیں جنہیں سپیشلسٹس کو ہی ڈیل کرنا چاہیے۔ انٹیلی جینس کارپس کا خیال پہلے بھی آرمی میں موجود تھا مگر خدشات یہ تھے کہ اس سے مافیا بن جاتا ہے اور ملکی مفاد سے زیادہ برادری کے مفادات سامنے رہتے ہیں۔ اور دوسرے اس سے ڈرے سہمے رہتے ہیں۔ لیکن میں نے اس کے باوجود یہ قدم اٹھایا۔

بعض جاسوسوں کی معلومات ضرورت سے زیادہ کیوں ہوتی ہیں

ہمارے اس کام میں ایک چیز البتہ ہے جسے کولیٹرل ڈیمیج کہا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا کہ میں ایسے لوگوں کے پیچھے ہوتا تھا جو دشمن ملک کے پیرول پر ہوتے تھے یا ایسے لوگوں کے لیے کام کررہے ہوتے جن کے مفادات میرے مفادات سے متصادم تھے تو اس دوران ان کی کوئی ایسی سرگرمی ہمارے ہاتھ لگ جاتی جس کا ملکی مفاد سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا تھا ۔ جیسے کسی لڑکی کے ساتھ پکڑلیا اور بلیک میل کرنا شروع کردیا ، اب اس معاملے کا ملکی مفاد سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا تھا لیکن چونکہ خفیہ معلومات جمع کرنے والے ہر وقت پیچھے ہوتے تھے تو ان کے پاس ایسی معلومات بھی آجاتیں۔ میری کوشش یہ رہی کہ ایسے معاملات پر کڑی نگرانی رکھوں اور ملکی مفاد کے خلاف معلومات کے علاوہ اور معلومات کو بلیک میلنگ کا ذریعہ نہ بننے دوں۔ اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں لیکن یہ ہمارا اصل کام نہیں ہے۔ مگر ایسی حرکتوں کی وجہ سے لوگ خفیہ ایجنسیوں کے کردار کے مخالف ہو جاتے ہیں۔ جاسوس بعض اوقات ایسی بھی باتیں جان جاتے ہیں جو ہم نہیں چاہتے کہ وہ جانیں۔ مگر اس کام کی اب نوعیت ہی ایسی ہے۔ کیونکہ لوگوں کو اگر معلوم ہو جائے کہ انہیں ڈرایا جا سکتا ہے معلومات کا استحصال کیا جا سکتا ہے تو وہ ڈر جاتے ہیں۔

نوازشریف کو ایک لاعلاج مرض ہے

آدیتیہ سنہا نے جنرل درانی سے ایک دلچسپ سوال کیا کہ نوازشریف کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا۔ اس پر جنرل درانی کا کہنا تھا کہ ان کےساتھ میری کبھی نہیں بن سکی۔ان کے پہلے دور حکومت میں میں آئی آیس آئی کا سربراہ تھا۔ میرے خیال میں نوازشریف اعلی ذہنی صلاحیتوں کے مالک نہیں تھے بلکہ میرا تو خیال ہے کہ بعض چیزوں کے بارے میں انہیں مالیخولیا تھا۔ وہ ہروقت اسی تاک میں رہتے کہ پتہ نہیں فوج اب کیا کرے گی، پتہ نہیں آئی ایس کیا کرے گی، آئی ایس آئی چیف میری پسند کا ہونا چاہیے۔  جب میرے باس مرزا اسلم بیگ ریٹائر ہو گئے اور چونکہ آئی ایس آئی کے سربراہ کا تعین وزیراعظم کو کرنا ہوتا ہے اور آرمی کبھی نہیں کہتی کہ ’’اسی آدمی کو لگائو‘‘۔ تو میں اس وقت جانے کو تیار تھا۔ ویسے بھی میں ٹوسٹار جنرل تھا اور عارضی طور پر آئی ایس آئی کا انتظام دیکھ رہا تھا۔ اور پھر میں تھری سٹار جنرل بن گیا اور میاں صاحب نے کہا کہ آپ ہی کام کو جاری رکھیں کیونکہ آرمی چیف مرزا اسلم بیگ گئے اور اب آصف نواز جنجوعہ آرمی چیف ہیں۔ یہ دماغی خلل ہے، نوازشریف نے سوچا کہ اگر آصف نواز نے نیا ڈی جی آئی ایس آئی لگایا توان دونوں کا گٹھ جوڑ ہو جائے گا۔ نوازشریف میرے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار تھے مگر جب آصف نواز آرمی چیف بن گئے تو انہوں نے کہا یہی بندہ آئی ایس آئی چیف لگا رہے۔

سیاستدانوں میں ہمارا غلط تاثر پایا جاتا ہے

یہ وہ غلط تاثر ہے جو سویلین سیاستدانوں میں پایا جاتا ہے۔ انہیں معلوم ہی نہیں کہ فوج میں وفاداریاں کیسے کام کرتی ہیں۔ ہم کسی کے آدمی نہیں ہوتے ۔ اس موقع پر را کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ میں اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کیونکہ مجھے بھی فاروق عبداللہ کا بندہ کہا جاتا تھا، اس کے بعد مجھے برجیش مشرا کا بندہ کہا جانے لگا۔ جنرل اسد درانی نے اپنی بات پھر شروع کی اور کہا  ہم کسی کو پسند نا پسند تو کرسکتے ہیں مگر جب ہمارا کام آتا ہے تو ہم صرف اپنے ادارے کے وفادار ہوتے ہیں۔ یہ آج بھی ہمارا ایک پلس پوائنٹ ہے۔ مثال کے طور پر 1991میں خلیج کی جنگ پر میں اسلم بیگ سے متفق نہیں تھا جبکہ نوازشریف کی افغان پالیسی پر میرا اختلاف ہوا۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ افغان لویہ جرگہ کے لیے ہم وسیع تراتفاق رائے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں اقوام متحدہ کو بھی شامل کیا جائے کیونکہ پاکستان اکیلا، یا پاکستان ایران یا سعودی عرب اکیلے یہ کام نہیں کر سکتے۔ اسی طرح یہ سب کو معلوم ہے کہ خلیجی بحران کو اسلم بیگ کس نظر سے دیکھتے تھے مگر ڈی جی ملٹری آپریشنز نے ان سے اختلاف کیا۔ بطور ڈی جی آئی ایس آئی میں بھی ان سے متفق نہیں تھا۔ مگر اس مخالف پر اسلم بیگ ہمارے دشمن نہیں ہو گئے ۔ جب ان کا اندازہ غلط ثابت ہوگیا تو انہوں نے سرعام تسلیم کیا کہ وہ غلط تھے۔ یہ تھی اس آدمی کی عظمت۔ جہاں تک نوازشریف کا تعلق ہے وہ مجھ پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ اس لیے چھ ماہ بعد جب انہیں موقع ملا تو وہ اپنی پسند کا بندہ لے آیا۔ میں چلا گیا۔ بلکہ میرے لیے تو یہ بہتر ہوا۔ میں واپس فوج کے مین سٹریم میں چلا گیا۔ اس کے بعد میں ملٹری ٹریننگ کے شعبے میں چلا گیا۔ اس دور میں میں بہت خوش تھا۔ اس کے بعد میں نیشنل ڈیفنس کالج چلا گیا۔ میں خوش قسمت رہا کہ میں نے فوج کے تمام ہی شعبوں میں کام کیا۔

اگلا باب پڑھیں

3- جب را نے کہا ’’یہ تو ہمارا فرض تھا‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top