4- کیا آئی ایس آئی ریاست کے اندر ریاست ہے؟

4- کیا آئی ایس آئی ریاست کے اندر ریاست ہے؟

  آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ چوتھا باب (پارٹ 1)

امریکہ میں بھی ریاست کے اندر ریاست ہے

جنرل درانی کہتے ہیں، ریاست کے اندر ریاست کا مطلب ہے کوئی ایسا ادارہ جو پس پردہ رہ کر ملکی معاملات چلا رہا ہو۔ صرف پاکستان ہی نہیں ساری دنیا میں خفیہ ایجنسیاں اسی طرح کام کرتی ہیں۔ امریکہ میں بھی سی آئی اے، فوجی صنعتیں اور یہودی لابی، ریاست کے اندر ریاست کا کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی ریاست کے اندر ریاست نے اوباما کو بیرون ممالک میں جاری جنگوں سے ہاتھ کھینچنے سے روک دیا۔ اور اب یہی قوتیں ٹرمپ کو اپنے انتخابی وعدے پورے کرنے سے روک رہی ہیں۔ ان کی وجہ سے ٹرمپ روس سے تعلقات بہتر بنا پا رہے ہیں نہ ہی جنگوں سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔

کیا آئی ایس آئی نے اسامہ بن لادن کو پناہ دی تھی؟

جنرل اسد درانی کا موقف ہے کہ یا تو اسامہ کو چھپا کر رکھا گیا تھا یا پھر آئی ایس آئی کسی موقع پراسامہ بن لادن کی موجودگی سے آگاہ ہو گئی تھی۔ اس لئے آئی امریکہ کو اطلاع دے دی گئی اور ایک متفقہ طریقہ کار کے ذریعے انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا گیا۔ لیکن سرکاری سطح پر اس تعاون کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ کیونکہ اسامہ کو پاکستان میں بہت پسند کیا جاتا تھا اس لئے انہیں کھلے عام امریکہ کے حوالے کرنے سے حکومت کو شرمندگی ہو سکتی تھی۔ جنرل امرجیت سنگھ دولت نے بھی کہا کہ بھارت میں بھی یہی اندازہ لگایا گیا تھا کہ اسامہ کے خلاف کارروائی میں پاکستان کا تعاون شامل تھا۔

را کے سابق چیف کو آئی ایس آئی کتنی پسند ہے؟

امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی ایک بڑی اور زبردست خفیہ ایجنسی ہے اسی لئے بھارت میں ہر روز اس کا نام لیا جاتا ہے۔ بھارت میں کچھ بھی غلط ہو جائے تو اس کا الزام آئی ایس آئی پر ڈال دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ میں آئی ایس آئی کا چیف بننا پسند کرتا۔

کیا پاکستانی حکومتیں آئی ایس آئی سے ڈرتی ہیں؟

جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستانی وزرائے اعظم آئی ایس آئی سے خوفزدہ ہیں۔ آئی ایس آئی اکثر اہم ایشوز پر اپنی مرضی کرتی ہے کیونکہ اسے فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ عسکری یا سیاسی قیادت کو چونکانا بھی نہیں چاہتی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آئی ایس آئی سب کو اپنی مرضی پر چلا سکتی ہے لیکن اگر وہ ایسا کر بھی پاتی تو بھی سویلین حکومت کی رضامندی کے بغیر اس کا تعاون حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔ امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی ایک چھوٹی سی ریاست اور آمریت ہے۔ جب بھی وہ کچھ کرنا چاہتی ہے تو اس کے پاس افرادی قوت بھی ہے اور کئی طریقوں سے اپنا کام نکالنے کی صلاحیت بھی۔ وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنا مقصد حاصل کر لیتی ہے۔

آئی ایس آئی افغان جہاد کے دوران مضبوط ہوئی

جنرل اسد درانی کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی 1980 کی دہائی میں افغان جنگ کے دوران مضبوط ہوئی تھی۔ جب سوویت روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو آئی ایس آئی کو بہت زیادہ وسائل فراہم کئے گئے۔ ورنہ آئی ایس آئی کو کبھی بھی ایسی طاقت نہ ملتی جو بہت زیادہ اندرونی اور بیرونی خطرات کا شکارملک کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ تاہم ابی بھی آئی ایس آئی کے پاس افرادی قوت کی کمی ہے اور وہ زیادہ توجہ بہتر کام پردیتی ہے۔

امریکہ نے آئی ایس آئی کو کمزور بنانے کی کوشش کی؟

جنرل درانی کہتے ہیں کہ سوویت روس کے افغانستان سے نکلنے کے بعد امریکہ آئی ایس آئی کو کمزور بنانا چاہتا تھا۔ اسے پریشانی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آئی ایس آئی حد سے زیادہ طاقتور ہو جائے۔

آئی ایس آئی کی کارکردگی سی آئی اے سے بہتر تھی، امریکی جنرل کا اعتراف

جنرل درانی نے بتایا کہ امریکی جنرل برینٹ سکوکرافٹ جو کہ امریکی صدر بش سینئر کے قومی سلامتی کے مشیر تھے انہوں نے 1991 کی عراق جنگ کے 2 سال بعد اعتراف کیا تھا کہ آئی ایس آئی نے عراقی فوج کی طاقت کے متعلق سی آئی اے سے بہتر اندازہ لگایا تھا۔ جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی کی عراق میں کوئی موجودگی نہیں تھی انہوں نے صرف غیرجذباتی انداز میں حالات کا جائزہ لے کر اندازہ لگایا تھا۔ جبکہ امریکی سی آئی اے نے اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ جنرل درانی اس موقع پر طنزیہ کہتے ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ جب بھارت 1998میں پوکھران میں ایٹمی دھماکوں کی تیاری کر رہا تھا تو امریکی سیٹلائٹس کہاں دیکھ رہی تھیں۔

–اگلا باب ہڑھیں–

4-B کیا آئی ایس آئی ریاست کے اندر ریاست ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top