5- آئی ایس آئی یا بھارتی ایجنسی را، کون زیادہ طاقتور ہے؟

5- آئی ایس آئی یا بھارتی ایجنسی را، کون زیادہ طاقتور ہے؟

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ پانچواں باب

آئی ایس آئی یا را۔۔۔ کونسی ایجنسی طاقتور ہے؟

آدیتیہ سنہا نے را اور آئی ایس آئی کے دونوں سابق چیفس سے سوال پوچھا کہ آئی ایس آئی اور را میں سے کون سی ایجنسی بہتر ہے۔ اس پر امرجیت سنگھ دولت نے کہا کہ دونوں ایجنسیوں کا تقابل ٹھیک نہیں کیونکہ آئی ایس آئی زیادہ پرانی ایجنسی ہے جبکہ را صرف پچاس سال پہلے وجود میں آئی تھی۔ اسد درانی نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ایک بار ایک امریکی صحافی نے مجھ سے پوچھا تھا کہ را آپ کی نظر میں کس سطح کی خفیہ ایجنسی ہے۔ سوال عام سے انداز میں پوچھا گیا تھا مگر اس کے پیچھے نیت یہ تھی کہ مجھے بھڑکایا جائے۔ میں نے اس وقت بھی جواب دیا تھا کہ را کم سے کم اتنی تو باصلاحیت ہے جتنی آئی ایس آئی ہے۔ اسد درانی نے کہا کہ اگرچہ افغان مسئلہ ان کے چیف بننے سے پہلے کا ہے مگر بعد میں عالمی سطح کے جتنے بھی دوست ملے انہوں نے آئی ایس آئی کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ۔ ایک بار ایک عالمی وفد کے ایک نمائندے نے مجھ سے پوچھا تھا کہ آئی ایس آئی کا فوکس کیا ہے؟ اس وقت ہمارا مرکزی فوکس تو افغانستان ہی تھا مگر میں نے کہا بھارت۔ را بمقابلہ آئی ایس آئی کے سوال پر سابق را چیف امرجیت سنگھ نے بھی کہا کہ دونوں ہی ایجنسیاں مضبوط اور قابل ہیں۔اسد درانی نے کہا کہ کچھ سال قبل ایک ویب سائٹ نے ایجنسیوں کی ریٹنگ کی تھی اس نے آئی ایس آئی کو دنیا کی سب سے بہترین خفیہ ایجنسی قرار دیا تھا۔ اس کے بعد موساد، پھر سی آئی اے اور باقیوں کے نام تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس ویب سائٹ نے کس بنیاد پر یہ درجہ بندی کی تھی لیکن پاکستان کو درپیش اندرونی اور بنیرونی خطرات، اور دستیاب وسائل کی روشنی میں دیکھا جائے تو آئی ایس آئی اعلی تر درجے کی خفیہ ایجنسی ہے۔ میرا دور وہ تھا کہ جب ہمیں سعودی اور امریکہ سے پیسے ملنا بھی بند ہو گئے تھے اس لیے ہم نے محدود بجٹ میں ہی یہ کامیابیاں حاصل کیں۔ سوال نمبر ایک دو یا تین کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کامیابی سے اور خفیہ طریقے سے کام کرنا جیسا کہ را کے لوگوں نے مکتی باہنی کے وقت کیا۔

ہمارا کوئی بھی جاسوس آج تک پکڑا نہیں گیا

جنرل اسد درانی نے کہا کہ آئی ایس آئی کی کامیابیوں کو جانچنا ہو تو افغانستان پر سوویت روس کے حملے کو دیکھنا چاہیے۔ اس وقت پورے مغرب سے ہم نے مدد لی تعاون لیے مگر آئی ایس آئی نے اپنا جو کردار طے کر رکھا تھا اس میں کسی کو مداخلت نہیں کرنے دی۔ جب سرد جنگ ختم ہوگئی تو ہم نے بھی خطے میں اپنے مقاصد بدل لیے اور آئی ایس آئی کا اس میں کلیدی کردار تھا۔ اور ہماری کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہمارا کوئی بھی جاسوس آج تک پکڑا نہیں گیا۔

را کی سب سے بڑی ناکامی کیا ہے؟

سنہا نے جب سابق را چیف سے سوال کیا کہ پاکستان کے خلاف ان کی سب سے بڑی ناکامی کیا ہے۔ تو ان کا جواب تھا کہ ہماری سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ ہم آج تک کسی ایک بھی آئی ایس آئی ایجنٹ کو اپنے لیے کام کرنے کے لیے تیار نہیں کرا سکے۔ کم ازکم میری معلومات کی حدتک تو ایسا نہیں ہے۔ سرد جنگ کے دوران امریکی سی آئی اے کا کوئی بندہ اگر دشمن ملک کے کسی بندے کو غدار بنا لیتا تھا تو اس کے بعد اسے زندگی بھر کچھ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی تھی کیونکہ ایجنسیوں کی دنیا میں یہ سب سے بڑی کامیابی تصور ہوتی ہے۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہمارے تصور میں بھی کبھی یہ نہیں آیا کہ ہم آئی ایس آئی میں ایسا کوئی بندہ ڈھونڈ سکتے ہیں ۔ ہاں ڈبل ایجنٹ ڈھونڈ لینا بھی کامیابی ہے مگر دوسری ایجنسیوں میں سے بندے ڈھونڈ پانا بہت بڑی کامیابی ہے اور یہی را کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔

آئی ایس آئی کی سب سے بڑی ناکامی کیا ہے؟

اس سوال کے جواب میں جنرل درانی نے کہا کہ آپریشنل سطح پر 65کی جنگ میں دشمن علاقے کی معلومات ہمارے پاس بہتر تھی، ہمیں پتہ تھا کہ وہ جنگ کی تیاری میں ہیں۔ مگر اس کا فائدہ ہم نہیں اٹھا سکے۔ 71کی جنگ میں آئی ایس آئی مشرقی پاکستان میں جنگ کی پیش بنینی نہ کر سکی۔ میرے دور میں ہم نے یہ تخمینہ لگایا تھا کہ کشمیرمیں اٹھنے والی بے چینی کے جواب میں بھارت جو جنگی تیاری کر رہا ہے وہ دکھاوا ہے جنگ نہیں ہوگی۔ اس تخمینے پر تو میں خود کو بھی داد دیتا ہوں۔ لیکن اگر مجھ سے پوچھیں کہ ہماری سب سے بڑی ناکامی کیا ہے تو میں کہوں گا کہ کشمیر میں جو بے چینی کی لہر پیدا ہوئی تھی اسے کے بارے میں ہم اندازہ لگانے میں ناکام رہے کہ یہ لہر کہاں تک جائے گی۔ ایسی لہریں عموما چھ ماہ سال تک رہتی ہیں لیکن جب یہ طویل ہو گئی تو ہمیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب کیا کریں۔ ہم دونوں ہی ملک اس کو جنگ تک نہیں لے جانا چاہتے تھے۔ مجھے آج بھی پچھتاوا ہے کہ امان اللہ گلگتی کو ہم نے سنجیدہ نہیں لیا تھا۔ اس وقت وہ اہم نہیں لگا تھا لیکن خیر کشمیر کی الگ حیثیت سے آزادی کے اس کے نعرے نے صورت حال کو بہت گنجلک کر دیاتھا۔ بہرحال گلگلتی بہت سنجیدہ تھا جبکہ باقی لوگ بس تقریریں کرکے چلے جاتے تھے جبکہ اس نے اپنی تحریک کو بہت منظم طریقے سے چلایا تھا۔ لیکن حریت کانفرنس کی تشکیل کے ذریعے کشمیری مزاحمت کو سیاسی رخ دینے کا آئیڈیا اچھا تھا۔

جب را چیف نے کہا کہ آئو کشیمر پر بات کریں

سابق راچیف دولت کا کہنا تھا کہ بھارتی عوام کی نظر میں دائود ابراہیم یا حافظ سعید یا مسعود اظہر کو نہ پکڑ سکنا ہماری بڑی ناکامیاں ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ دائود ابراہیم کی سپاری دینے سے بڑی کامیابی جو ہم کو ملی وہ یہ تھی کہ ہم نے دلی میں آئی ایس آئی کے سٹیشن چیف کو صفایا کردیا۔ جہاں تک پاکستان کی کشمیرمیں مداخلت کا تعلق ہے جیسے وہاں تنظیمیں بنانا،اپنے بندے بھیجنا یا احکامات بھیجنا تو یہ اوکے ہے۔ کشمیربے صبری کا معاملہ نہیں اور یہی وہ مسئلہ جو پاکستان کے لیے مشکل مقام ہے۔ میں اپنے پاکستانی دوستوں کو ٹریک ٹو ڈپلومیسی میں کہتا آیا ہوں کہ آئیے بیٹھتے ہیں اور آپ کے مرکزے مدعے کشمیر پر بات کریں ۔ خود جنرل صاحب یہ مانیں گے کہ کشمیر میں ان کی دلچسپی کافی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فی الحال اسے جانے دیں۔ یہ ایسے ہی چلا آرہا ہے ، یہ خالص فوجی ردعمل ہے جو کشمیر پر دیا جاتا ہے اور آئی ایس آی کی یہی سب سے بڑی خامی ہے۔ جنرل درانی نے اس پر کہا یہ چیز ہمارے سسٹم میں ہے۔ دولت نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا اسی طرح آپ نے اپنی راہ میں کانٹے بچھائے ہیں۔ اب کشمیری جان چکے ہیں کہ انہیں کب کونسی سائیڈ لینی ہے۔

 

اگلا باب پڑھیں

ہم لال قلعہ دہلی پر سبز پرچم لہرانے کا عزم نہیں رکھتے: اسد درانی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top