10-خودمختار کشمیر کا آئیڈیا برا نہیں

10-خودمختار کشمیر کا آئیڈیا برا نہیں

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ دسواں باب

’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کانعرہ لگانے والوں کی سرپرستی

آدیتیہ سنہا نے جنرل درانی سے پوچھا کہ کیا آپ صلاح الدین یا امان اللہ سے ملے ہیں؟ جنرل درانی نے کہا کہ ہاں، جب تحریک شروع ہوئی تو میں اس سے ملا تھا۔ امان اللہ تحریک مزاحمت کے اولین جنگجوئوں میں سے ایک تھا۔ خود مختار کشمیر کا اس کا نظریہ زیادہ برا نہیں تھا۔ مگر اس سے بہت سے پاکستانی خصوصا اسٹیبلشمنٹ ناراض ہو گئی۔ یہ کہنا کہ اسے حمایت حاصل نہیں تھا ، نا انصافی ہوگی، اگرچہ کئی لوگوں کو یہ بات پسند نہیں آئے گی۔ مجھے اس کی بعض باتیں پسند تھیں اور وہ بہت منظم انداز میں کام کر رہا تھا۔ امان اللہ ہم سے ناراض تھا اور اس کی جائز وجوہات بھی تھیں۔ کشمیر کی پاکستان سے الحاق کی ہماری خواہش اتنی شدید تھی کہ ان لوگوں کو ہماری سیاسی حمایت ملی جو کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگاتے تھے جیسے سردار قیوم اور جماعت اسلامی۔ ہم نے امان اللہ کو بتانے کی کوشش کی کہ دیکھ بھائی تو ٹھیک کہتا ہے مگر یہ لوگ بھی ہیں جو ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ مگر امان اللہ بدل گیا بعد میں مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا مگر دیر ہو چکی تھی

خودمختار کشمیر کا زیادہ نقصان بھارت کو ہوگا

کیا امان اللہ آئی ایس آئی کا پسندیدہ نہیں تھا۔ اس پر جنرل درانی نے کہا قطعا نہیں۔ وہ نہ آئی ایس آئی کا فیورٹ تھا نہ پاکستان کا۔ ہمیں کسی کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں دینا چاہیے ، نتائج پسند ہوتے تو ہمارا سوال یہ ہوتا کہ اگر کشیمر خودمختار ہوتا تو اس کا زیادہ نقصان کس کو ہوتا۔ میرا خیال ہے کہ بھارت کا نقصان زیادہ تھا کیونکہ زیادہ حصہ کشمیر کا بھی اسی کے پاس ہے۔ اگر کشمیر آزاد ہوتا تو اس کے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات ہوتے ، مجھے اس بات کا یقین ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ امان اللہ کو ہم نے بہتر ڈیل نہیں کیا۔ اے ایس دولت نے کہا کہ مگر پاکستان کے لیے خودمختار کشمیر کا آپشن قابل قبول کب تھا؟ اس پر درانی نے کہا کشمیریوں کے دل ہمارے ساتھ دھڑکتے ہیں اگر کشمیر آزاد ہوتا تو اس کا جھکائو ہماری طرف ہی ہوتا۔ مجھے خود مختار اور آزاد کشمیر کے تصور سے کوئی مسئلہ نہیں

پاکستان کشمیریوں کو ناقابل اعتبار سمجھتا ہے

دولت نے کہا کہ خودمختار کشمیر سے آپ کو کوئی مسئلہ نہیں مگر اسٹیبلشمنٹ کو تو تھا۔ اسٹیبلشمنٹ زیادہ محتاط ہوتی ہے۔ کچھ کو تو یہ احمقانہ خیال ہے کہ خودمختار کشمیر بڑی تباہی ہوگی۔ دولت نے کہا یہی تو میں کہہ رہا ہوں آپ نے اب کی نہ اصل بات۔ سنہا نے اس موقع پر سوال پوچھا کہ خود مختار کشمیر کو کیوں بڑی تباہی سمجھا گیا۔ اس پر درانی نے کہا دماغی خلل اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ دولت نے اس موقع پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ دماغ خلل یا یہ کہ آپ کشمیریوں پر بھروسہ نہیں کرتے۔ جنرل درانی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ کشمیریوں کے ناقابل اعتماد ہونے کی بات کرتے ہیں مگر یہ تو پاکستان، برصغیر بلکہ پوری دنیا کی عادت ہے کہ وہ صرف خود پر اعتبار کرتے ہیں۔  

کشمیر خودمختار ہوا تو مغربی طاقتیں قابض ہو جائیں گی

پاکستان میں پنجابیوں کی طرف سے  پشتونوں بلوچوں اور بعد میں مہاجروں پر بہتان لگتے رہے ہیں۔ پنجابی سمجھتے ہیں کہ ہم پاکستان کی سب سے بڑی کمیونٹی ہیں۔ مگر یہی پنجابی تھے جن پر برطانوی اور مغل سلطنتیں اعتماد کرتی تھیں۔ تو پنجابی  اور پشتون بھی کرائے کے سپاہی کا کردار نبھاتے رہے ہیں ،تو انہیں آخر کیوں زیادہ قابل اعتماد سمجھا جائے۔ ویسے کشمیر کے خوالے سے کوئی بھی نہیں سمجھتا کہ خودمختار کشمیر میں ان کا بھلا ہے۔ وہ زیادہ پریشان اس بات پر ہوتے ہیں کہ منگلا ڈیم کا کیا ہوگا۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ منگلا کے لیے پانی کیا کسی اور ملک سے آیا کرے گا۔ خودمختار کشمیر کی صورت میں جو بدترین دلیل پاکستان میں دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ کشمیر آزاد ہوگیا تو غیرملکی مدد اور امریکہ جرمنی جاپان کی فوجیں وہاں آجائیں گی۔ وہ پیسے خرچ کریں گے کیونکہ تزویراتی طور پر کشمیر اہم جگہ ہے۔ وہ وہاں بیس کیمپ بنائیں گے ، افغانستان کی طرح۔ بھارت اور پاکستان دونوں کا اثر ورسوخ کم ہو جائے گا۔ اور طاقت ور مغربی طاقتیں کشیمرپر قابض ہو جائیں گی۔یہ جو ٹریک ٹو ڈپلومیسی والے ہیں میں تو انہیں بھی یہی کہوں گا کہ خودمختار کشمیرکے آپشن کو اپنے مباحث میں شامل کریں۔ اگر کشمیریوں کا عظیم حصہ یا کہہ لیں اکثریت ہی ، خودمختار کشمیر چاہتی ہے تو انہیں انتخاب کا حق ملنا چاہیے۔

کشمیریوں کو کبھی آزادی نہیں مل سکتی، سابق راچیف

دولت نے اس موقع پر کہا کہ ایک بار میں نے یسین ملک سے کشمیر کی آزادی پر بات کی، اور بات کرنے کی وجہ تھی ان کا فقرہ ’’آپ سے کیا بات کریں گے، ہم تو آزادی چاہتے ہیں‘‘ میں نے اس پر جواب دیا اگر تمھیں آزادی مل گئی تو میں تمھارے ساتھ کشمیر کا جھنڈا لہرائوں گا۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ کشمیریوں کو کبھ آزادی نہیں مل سکتی ۔ بھارت یہ کبھی نہیں کرے گا۔ پاکستان بھی پر ابہام کا شکار ہے اور امان اللہ کے معاملے کو سامنے رکھیں تو خودمختار کشمیر کے حوالے سے وہ بھی نروس ہے۔

کشمیر کے حوالے سے تھرڈ آپشن پاکستان میں قابل قبول ہے

جنرل درانی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے تھرڈ آپشن پاکستان میں قابل قبول ہو سکتا ہے۔ اپنے پہلے دور میں نوازشریف نے ایران کے دورے کے دوران یہ بات کی تھی۔ سابق صدر پاکستان غلام اسحق خان تک یہ کہہ چکے ہیں کہ کہ تیسرے آپشن پر غور کیا جا سکتا ہے۔ بس شوروغوغا ہوگا۔ لیکن پاکستان میں کشمیر کے حوالے سے تھرڈ آپشن اتنا زیادہ ناقابل قبول خیال نہیں ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top