11-بھارت امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ کا ہدف سی پیک ہے

11-بھارت امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ کا ہدف سی پیک ہے

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ گیارہواں باب

وزیراعلی مقبوضہ کشمیر کی پریس کانفرنس اور پاکستان کا شکریہ

آدیتیہ سنہا نے سابق راچیف صاحب سے پوچھا کہ جنرل دورانی کئی بار برہان وانی کا ذکر کر چکے ہیں جن کی موت 2016 میں ہوئی تھی، لیکن 2017 خاصا پرامن سال رہا۔ کیا آپ کو اس کی توقع تھی۔ امرجیت سنگھ دولت نے کہا برہان وانی کی موت ایک بڑا واقعہ تھا۔ برہان وانی خوبصورت نوجوان تھا جس کی تصویریں فیس بک پر ہوتی تھیں۔ کچھ تو اسے سی آئی ڈی کا جاسوس بھی کہتے تھے مگر خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ یہ کہانی شروع ہوئی 2014کے الیکشن سے جن سے کوئی بھی راضی نہیں تھا۔ بے جے پی کا مشن تھا وہاں 44 سیٹیں لینا۔ میرا دوست پمپے گل سرینگر میں بی جے پی کی مہم چلا رہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہاں سے پانچ چھ سیٹیں پکی ہیں اور آٹھ تک سیٹیں مل جائیں گی، مگر ہوا کیا کہ ایک سیٹ بھی نہ ملی۔ بی جے پی پریشان ہو گئی، پی ڈی پی بھی پریشان تھی کیونکہ ان کا بھی خواب تھا 45 سیٹیں لینا۔ انہیں 28 سیٹیں ملیں۔ مفتی صاحب کو تین چار سیٹیں اور مل جاتیں تو وہ طاقتور وزیراعلی بن سکتے تھے۔ مگر وہ بھی غیر محفوظ تھے اس لیے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت بنانا پڑی۔ مجھے انہوں نے تقریب حلف برداری میں بلایا۔ تقریب کے بعد جب بے جے پی، آر ایس ایس کے لوگ چلے گئے تو انہوں نے غلطی کرتے ہوئے پریس کانفرنس بلائی جس میں علیحدگی پسندوں اور پاکستان کا شکریہ ادا کیا گیا۔ مفتی نے اصل میں مودی کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ اس لیے مصیبت میں پڑ گیا۔ مگر پرانا سیاستدان تھا چیزیں سنبھال لیں۔ مگر پھر ستمبر 2014 کا سیلاب آیا، لوگ مرے نقصان ہوا، کشمیریوں کا خیال تھا کہ پی ڈی پی بی جے پی کا اتحاد سے انہیں فائدہ ہوگا مگر کوئی فائدہ نہ ملا۔ بے چینی جاری رہی ، اسی دوران مفتی صاحب کا انتقال ہوگیا اور محبوبہ مفتی کو حلف اٹھانے کے لیے بھی تین ماہ لگ گئے۔ مفتی صاحب کے جنازے میں صرف تین ہزار پینتیس سو لوگ آئے۔ اس پر جنرل درانی نے کہا کہ دولت صاحب شکریہ کہ آپ نے یہ بات کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا تو انحصار ہی آپ لوگوں کی غلطیوں پر ہے۔

کشمیر اب تھک چکے ہیں اور امن چاہتے ہیں

سابق را چیف نے کہا کہ محبوبہ مفتی بے بس وزیراعلی تھیں، آر ایس ایس نے وہاں اپنی سرگرمیاں بڑھا دیں اور کشمیری اپنی ہی سرزمین پر خود کو اقلیت سمجھنے لگے۔ 2016 میں میں سری نگر میں تھا سب کہہ رہے تھے کہ حالات ٹھیک ہیں، سیاحت عروج پر ہے پروازیں آ جا رہی ہیں۔ ہوٹلوں میں کمرے نہیں مل رہے۔ مگر وہاں سرگوشیاں تھیں کہ دیکھتے ہیں عید کے بعد کیا ہوتا ہے۔ اس وقت میں جنرل درانی سے لندن میں ملا اور میں نے کہا کہ کشمیر میں کچھ ہونے والا ہے۔ کشمیر کے بارے میں کوئی پیش گوئی ممکن نہیں ، یہ راتوں رات بدل سکتا ہے۔ اور یہی کچھ برہان وانی کی موت کے وقت ہوا۔ مگر یہ بات واضح تھی کہ کشمیری اب تھک چکے ہیں اور امن چاہتے ہیں۔ بھارتی فوج اس لحاظ سے کامیاب رہی کہ 2017 میں امن رہا۔ ہوسکتا ہے کہ دلی کو غلط فہمی ہو کہ کشمیر کے حالات ٹھیک ہیں مگر وہاں حالات ابھی برے ہیں۔

سرجیکل سٹرائیک کے بعد خاموشی ناممکن تھی

2016میں برہان وانی کی موت کے بعد پاکستان میں ردعمل کے حوالے سے جنرل درانی نے کہا کہ پاکستان میں یہ اتفاق رائے تھا کہ مداخلت نہیں کرنی۔ مگر نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کے بعد ہم نے سوچا کہ خاموش بیٹھنا اب آپشن نہیں ہے۔

حریت پاکستان کی ٹیم ہے

حریت کے حوالے سے بھارتی را چیف نے کہا کہ حریت پاکستانی ٹیم ہے، بھارتی کی اپنی ٹیم ہے اور کشمیری ان کے درمیان۔ جنرل درانی نے کہا کہ ہمارے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم کشمیر کو پل بنائیں۔ ہم دونوں ملکوں کو کشمیر کی آزادی یا دونوں کشمیروں کے اتحاد کی بجائے ایسے اقدامات پر زور دینا چاہیے جس سے لوگوں کو سکھ ملے۔ سابق را چیف نے کلی اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ میں ہمیشہ سے کہتا رہا ہوں کہ آئو کشمیر پر بات کریں جب یہاں پیش رفت ہوگی تو دہشت گردی پر بھی پیش رفت ضرور ہوگی۔

پاکستان کی توثیق چاہیے تو مسٹر دولت جیسے شخص کو نمائندہ بنائیں

آدیتیہ سنہا نے جنرل درانی سے پوچھا کہ سابق آئی بی چیف دینیشور شرما کو کشمیریوں سے مذاکرات کے لیے بھارت کی طرف سے خصوصی نمائندہ بنائے جانے کے معاملے پر آپ کیا کہتے ہیں۔ تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی توثیق چاہیے تو مسٹر دولت جیسے شخص کو نمائندہ بنائیں۔ یہ وہ شخص ہے جو کشمیریوں کے حقیقی مسائل کو جانتا ہے۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ کے کسی آدمی کو خصوصی نمائندہ بنادینے سے کچھ خاص نہیں ہوگا۔ میرا تو خیال ہے کہ یہ بھارت کی بس ایک اور چال ہے۔

بھارت امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ کا ہدف سی پیک ہے

پاک چائنا تعلقات کے حوالے سے جنرل درانی کا کہنا تھا کہ اس وقت بھارت، امریکہ اور اسرائیل گٹھ جوڑ ہے اور کابل حکومت ان کی زبان بولتی ہے۔ ان کا ہدف پاک چائنا، خاص طور پر سی پیک ہے۔ کشمیر کے حوالے سے بھارت امریکہ کو جتا رہا ہے کہ کشمیر کی فکر نہ کریں وہاں ہم نے اپنا نمائندہ لگا دیا ہے جو کشمیریوں سے بات کر رہا ہے۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں ہے مگر وہ چپ رہے گا۔

کشمیر کا مسئلہ 200 سال تک جاری رہے گا

آدیتیہ سنہا نے جنرل درانی سے پوچھا کہ آپ نے کہیں کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ 200 سال تک جاری رہے گا۔ جنرل درانی نے کہا نہیں نہیں میرا مطلب یہ نہیں تھا میں یہ کہہ رہا تھا کہ جب تک یہ مسئلہ موجود ہے تب تک بھی کشمیریوں کا خیال رکھنا ضروری ہے کشمیر میں سڑکیں بنائیں، انفراسٹرکچر بنائیں، ان کو نمائندگی دیں۔ میرا یہ مطلب تھا۔

فوج کشمیر کی آزادی کی تحریک دبا سکتی ہے، مٹا نہیں سکتی

آدیتیہ سنہا نے کہا کہ یہ کتاب 2018 میں آئے گی تب تک کشمیر کے حالات کو کس رخ جاتا دیکھ رہے ہیں۔ جواب میں سابق را چیف نے کہا کہ کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔ ہم نے کشمیریوں سے بات کرنا شروع کر دی ہے مگر ہمیں پاکستان سے بھی بات کرنا ہوگی۔ اگر ہم نے کشمیریوں سے مہذب طریقے سے بات کرنی ہے تو ہمیں ان کو پاکستان سے بھی بات کرنے کی اجازت دینا ہوگی۔ جنرل درانی نے اس موقع پر کہا کہ کشمیر میں کیا ہونا چاہیے اس کو سمجھنے کے لیے سائنس دان ہونا ضروری نہیں۔ فوجیں لاٹھی چارج کر سکتی ہیں ، تحریک کو دبا سکتی ہیں مگر تحریک ہے اور رہے گی۔ چھ ماہ میں نہیں تو چھ سال میں مزاحمت پھر سطح پر ہوگی۔ کشمیر ہو یا بلوچستان مزاحمت ابھرے گی۔ کیونکہ مزاحمت حقیقی ہو تو دوبارہ ضرور ابھرتی ہے۔ جیسے برہان وانی کی موت کے بعد شدت سے کشمیر کی تحریک ابھری تھی، ایسے کسی بھی واقعے سے یہ پھر سلگے گی۔ میں آپ کو افغان مجاہدین کی مثال دیتا ہوں وہ سادہ لوگ تھا جو بیرونی جارحیت کے خلاف لڑ رہے تھے، کوئی طالبان بن گیا، کچھ زیادہ شدت آئی تو القاعدہ ہو گئے ۔ القاعدہ مری تو داعش آگئی۔ یہی پیٹرن ہوتا ہے۔ مجھے مایوسی پھیلانے والا کہہ لیں مگر میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ مستقبل قریب میں کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے مابین بامعنی مذاکرات مجھے دکھائی نہیں دے رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top