12-فاروق عبداللہ اور ہم دو کو بٹھا دیں، کشمیر حل ہو جائے گا

12-فاروق عبداللہ اور ہم دو کو بٹھا دیں، کشمیر حل ہو جائے گا

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ بارہواں باب

فاروق عبداللہ کو پاکستان جانا چاہیے

سابق را چیف نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہے تو مجھے جنرل درانی اور فاروق عبداللہ کو ساتھ بٹھا دیں ، مجھے پورا اعتماد ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اگر ان پر اتفاق نہیں ہوتا اور فاروق عبداللہ قابل قبول نہیں تو فاروق عبداللہ، گیلانی صاحب جیسا کوئی علیحدگی پسند، جنرل درانی اور میں اور دو کشمیریوں کو بٹھا دیں تو بھی یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ بات صرف معقول ہونے کی ہی۔ فاروق عبداللہ کافی عرصے سے پاکستان نہیں گئے انہین وہاں بھی جانا چاہیے تاکہ وہاں کے حقائق کو بھی جان لیں۔ اس پر جنرل درانی نے کہا کہ مزے کی بات ہے کہ جب میں نوے کی دہائی میں گلگتی سے ملا تو ایک تجویز یہ بھی دی گئی کہ فاروق عبداللہ کو پاکستان بلایا جائے۔ مگر پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ نے اس تجویز کو رد کر دیا۔ لندن میں تہلکہ کانفرنس کے دوران میری ایک ملاقات فاروق صاحب سے ہوئی تھی، اگرچہ انہوں نے مجھ سے بچنے کی بڑی کوشش کی تھی۔ لیکن میری باتیں سن کر وہ مایوس نہیں ہوئے تھے۔

فاروق عبداللہ کشمیر کو ہی نہیں دہلی کو بھی سمجھتے ہیں

سابق را چیف کا کہنا تھا کہ سب لوگ فاروق صاحب کو میرا دوست سمجھتے ہیں۔ مگر میں ان کا نام اس لیے نہیں لے رہا کہ وہ میرے دوست ہیں بلکہ یہ واحد شخصیت ہیں جو کشمیر کو ہی نہیں سمجھتے بلکہ دہلی کو بھی خوب سمجھتے ہیں۔ وہ دہلی اور سری نگر کے درمیان بہترین پل کا کردار نبھا سکتے ہیں۔ اب وہ اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ انہیں پاکستان کو بھی سمجھنا چاہیے۔ جنرل درانی نے اس موقع پر کہا کہ اگر اس کتاب کی اشاعت کے بعد ایسا ہوتا ہے تو ہم بہت خوش قسمت ہوں گے۔ سابق را چیف نے کہا کہ لیکن دہلی کبھی انہیں مقرر نہیں کرےگا۔ واحد طریقہ اس کا یہ ہے کہ فاروق صاحب پاکستان جائیں اور پاکستان کی حکومت قائل ہو جائے کہ وہ کشمیر پر بہترین ثالث ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر تجویز پاکستان، اس کے وزیر اعظم، آرمی چیف، آئی ایس آئی چیف یا نیشنل سکیورٹی کونسل کی طرف سے آتی ہے تو یہ ممکن ہے۔ جنرل درانی نے کہا کہ طریقہ بھی یہی ہوتا ہے۔

فاروق عبداللہ نے پاکستان جانے کی اجازت مانگی تو واجپائی نے ہنس کر ٹال دیا

سابق را چیف نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ 2002 میں جب فاروق عبداللہ انتخابات ہار گئے تو انہوں نے اچانک پاکستان جانے کا فیصلہ کیا انہوں نے اپنے گھر پر ہنگامی پریس کانفرنس بلائی اور پاکستان جانے کا اعلان کر دیا۔ مجھے بہت حیرت ہوئی میں نے پوچھا کیا آپ نے وزیراعظم سے بات کی ہے؟ فاروق عبداللہ نے جواب دیا کہ میں ابھی وزیراعظم کو ملنے جا رہا ہوں اور ان سے پوچھتا ہوں۔ مگر واجپائی نے جواب دینے کی بجائے کہا فاروق صاحب بیٹھیں کھانا شانا کھائیں۔ اگر پاکستان کی طرف سے ایسی پیشکش آتی تو ردعمل مختلف ہوتا۔ جب 2017کے انتخابات میں فاروق عبداللہ نے سرینگر کا الیکشن جیت لیا تو اس وقت عام احساس یہ تھا کہ بھارت انہیں پارلیمنٹ میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ علیحدگی پسندوں کا بھی یہی رویہ ہوتا ہے کہ فاروق عبداللہ قابل بھروسہ نہیں ہے۔ وہ بھارت نواز ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top