13-جو ملتا ہے لے لو

13-جو ملتا ہے لے لو

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ تیرہواں باب

کشمیر پر پاکستان اور بھارت کو تصادم کی بجائے تعاون کی پالیسی اپنانی چاہیے

جنرل اسد درانی کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل کا ایک پرانا طریقہ ہے۔ ایک تو آپ کو حقیقت پسند ہونا چاہیے اور یہ جاننا چاہیے کے دونوں ملکوں کے اس سے کیا مفادات وابستہ ہیں۔ ہم ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ کشمیر اہم ترین مسئلہ ہے، مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈا جائے، مگر اس بیانیے کو الٹا کر کے دیکھنے کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ دونوں ملکوں کو اسے مسئلہ سمجھنے کی بجائے اس پر تعاون بڑھانا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ معقول ترین نعرہ یہ ہو سکتا ہے کہ ’تصادم سے تعاون کی طرف‘۔ اے ایس دولت نے بھی اس پر مکمل اتفاق کیا۔ جنرل درانی نے مزید کہا کہ لائن آف کنٹرول کو نہ دیکھیں، اس کی آزادی کو نہ دیکھیں۔ بلکہ وہ راہ دیکھیں جس پر تعاون ہو سکتا ہے۔

متحد یا منقسم کشمیر کی بجائے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے چاہئیں

کشمیر پر اس تعاون کی تشکیل کے لیے پہلا قدم کیا اٹھایا جا سکتا ہے اس سوال کے جواب میں جنرل درانی نے کہا کہ ہم سے زیادہ سیانے لوگ اس پر پہلے کام کر چکے ہیں، پہلا قدم ہے لوگوں کی سطح پر۔ لائن آف کنٹرول سے آمدوروفت، کچھ تجارت، دہلی اور اسلام آباد کچھ وقت پس منظر میں چپ بیٹھے رہیں اور دونوں طرف کے کشمیریوں کو ملنے جلنے دیں۔ جب دونوں طرف کے کشمیری پرسکون ہو جائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ وہ خود ہی کہیں کہ ہم آپ دو ملکوں کے درمیان جنگ کی وجہ نہیں بننا چاہتے۔ ہم جیسے ہیں ٹھیک ہیں اور ان حالات میں تبدیلی نہیں چاہتے۔ اپروچ بالواسطہ ہونی چاہیے منقسم یا متحد کشمیر کی بات کرنے کی بجائے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے جائیں جیسے بس یا تجارت۔ یعنی اعتماد سازی کے اقدامات۔

کشمیر کا حل یہ ہے کہ جو ملے لے لو

جنرل درانی نے کہا کہ 2000 میں ایہود باراک نے یاسرعرفات کو ایک پیکیج دیا۔ باراک سابق وزیر دفاع اور فوجی تھا۔ بجا کہ وہ اسرائیل کے کامیاب ترین وزیراعظموں میں شامل نہیں ہوں گے مگر جو کام اس نے کیا وہ اچھا تھا۔ میں حضورﷺ کی سیرت پر کوئی اتھارٹی نہیں مگر صلح حدیبیہ کو قبول کرنے کا مقصد ہمیں یہی سبق دینا تھا کہ سمجھوتہ اور وقت پر فیصلہ کتنی اہم چیز ہے۔  سمجھوتوں اور مذاکرات کا اصول یہی ہے کہ جو مل رہا ہو وہ لے لو۔ کبھی یہ نہ سمجھیں کہ بس ختم ہوگیا۔ جو ملے وہ لے لو پھر اپنی پوزیشن کو بہتر کریں اور نئے سوال کے ساتھ سامنے آئیں۔ میرا خیال ہے کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کا یہ طریقہ ہونا چاہیے۔

امریکہ نے یسین ملک کو کہا دہلی کے ساتھ لین دین کر لو

سابق را چیف نے کہا کہ اصل کہانی یہ ہے کہ جب 1975میں شیخ عبداللہ ، افضل بیگ کے ساتھ معاملات آگے بڑھا رہے تھے تو اس وقت انہوں نے فاروق عبداللہ کو پاکستان بھیجا، فاروق عبداللہ ، ذوالفقار علی بھٹو سے ملے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس وقت جواب دیا کہ اس موڑ پر ہم آپ کی مدد نہیں کر سکتے۔ اسی طرح ایک کہانی یہ ہے کہ امریکیوں نے کشمیری لیڈر یسین ملک کو نصیحت کی کہ دہلی کے ساتھ لین دین کر لو ، اس پر یسین ملک نے کہا کہ مگر دہلی والے بہت نامعقول ہیں، اس پر امریکہ نے کہا جو ملتا ہے وہ لے لو۔ کیونکہ یہ کوئی آخری ڈیل نہیں ہے، اس لیے اگر کچھ ہاتھ لگتا ہے تو لے لو۔ ہر مباحثے کو فائنل نہیں سیمی فائنل یا کوارٹر فائنل سمجھ کر کھیلنا چاہیے۔

بھٹو کی نصیحت ’’جو ملے لے لو‘‘

سابق را چیف نے بتایا کہ جو ملے وہ لے لو، یہی وہ پالیسی ہے جس کی فاروق عبداللہ حمایت کرتے ہیں۔ کشمیر آپ کچھ بھی نہیں بدل سکتے، وہاں جو ان کا ہے وہ ان  کا ہے جو ہمارا ہے وہ ہمارا ہے۔ ہمیں فی الوقت لائن آف کنٹرول کو سنبھالنا ہے۔ مشرف کے چار نکاتی فارمولے کی مرکزی بات بھی یہی تھی۔ جنرل درانی نے اس پر کہا کہ بھٹو کی نصیحت شاندار تھی۔ جو بھی لوگ کچھ نہیں یا سب کچھ لینے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں لے پاتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top