14-کارگل آپریشن بیوقوفی تھی؟

14-کارگل آپریشن بیوقوفی تھی؟

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیۘز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ چودھواں باب

پاکستان اور بھارت دشمن کیوں ہیں؟ را چیف کی رائے

را کے سابق چیف امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں کہ1947 کی تقسیم نے لوگوں کے دلوں پر گہرے زخم چھوڑے ہیں۔ خاص طور پر پنجاب کے سرحدی علاقوں میں لوگ اب بھی تقسیم کے دوران ہونے والے فسادات کو یاد کرتے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پاکستان سے دوستی ہونی چاہیے تو وہ سوال کرتے ہیں کہ دوستی کس سے کی جائے؟ دولت کہتے ہیں کشمیر کی لڑائی، 65 اور 71 کی جنگوں نے بھی دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کی دیوار کھڑی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے اور اس بداعتمادی میں مسلسل اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

پاک، بھارت دشمنی میں سارا قصور دہلی سرکار کا ہے؟

را چیف کہتے ہیں کہ نئی دہلی سے باہر پاکستان کے خلاف بات کرنے والے کم ہیں لیکن بھارتی دارالحکومت میں پاکستان سے بہت دشمنی پائی جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دہلی شہر اپنے رہنے والوں کے لیے بھی ایک سخت جگہ ہے کیونکہ بھارت کا دارالحکومت ہونے کی وجہ سے یہاں سختی ناگزیر ہو گئی ہے۔ امرجیت سنگھ دولت نے یہ بھی کہا کہ ان کے والد تقسیم سے پہلے پنجاب کی سول سروس کا حصہ تھے اور بعد میں بھی ان کی کئی پاکستانی سفیروں سے دوستی رہی اور وہ ان کے ساتھ برج کھیلا کرتے تھے۔

واجپائی نے دشمنی ختم کرنا چاہی

امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں کہ واجپائی پاکستان سے دوستی کے حامی تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ دونوں ممالک میں مسلسل دشمنی کا خاتمہ ہوجائے۔ بعد میں من موہن سنگھ نے بھی پنڈت جواہر لعل نہرو کی طرح امن کی کوششیں کیں۔ لیکن وہ بات چیت تو کر پائے مگر کسی سمجھوتے پرنہیں پہنچ سکے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے جوہری پروگرام بچانے کے لیے امریکہ سے ٹکر لی

جنرل درانی کہتے ہیں کہ امریکہ نے ذوالفقار علی بھٹو کے لیے مشکلات پیدا کی تھیں کیونکہ بھٹو جوہری پروگرام چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔ بھٹو علاقائی معاملات میں امریکی مداخلت کے سخت خلاف تھے کیونکہ ان کے خیال میں یہ تباہی کا راستہ تھا۔

بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے واجپائی کو ناکام بنایا؟

جنرل درانی کہتے ہیں کہ واجپائی میں اپنے مخالفین کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ وہ پاکستان سے بہتر تعلقات چاہتے ضرور تھے لیکن اس لئے کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں ناکام بنا دیا۔ تاہم امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں کہ واجپائی اسٹیبلشمنٹ پر حاوی تھے اور کوئی ان کی باتوں سے اختلاف کرنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔

واجپائی کو مشرف سے مل کر مایوسی ہوئی؟

را کے سابق چیف کہتے ہیں کہ واجپائی جہاں دیدہ سیاستدان تھے وہ پاک بھارت تعلقات میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے تھے۔ وہ دوستی بس کے ذریعے لاہور گئے اور پھر انہوں نے کارگل کے باوجود مشرف کو آگرہ آنے کی دعوت دی۔ لیکن آگرہ سے واجپائی مایوس واپس آئے۔

کارگل آپریشن بیوقوفی تھی

جنرل درانی کہتے ہیں کہ کارگل کا آپریشن بیوقوفی تھی۔ یہ لاہور میں دوستی بس کی آمد کے بعد کیا گیا تھا۔ اس آپریشن کی وجہ سے مشرف کے خلاف ایک ماحول بن گیا تھا۔

واجپائی نے نہ چاہتے ہوئے مشرف سے ہاتھ ملایا

امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں کہ مشرف جب کھٹمنڈو میں واجپائی سے ہاتھ ملانے پہنچے تو واجپائی نے مجبوری میں ان سے ہاتھ ملایا۔ وہ واضح طور پر ہچکچا رہے تھے اور انہیں لگ رہا تھا کہ ایک چھوٹے ملک پر حکومت کرنے والا فوجی آمر ان سے ملنے آیا ہے اور اس سے اچھے طریقے سے ملنا ان کی مجبوری ہے۔ دولت کہتے ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ پاکستان سے مسلسل دوستی کی کوشش کیوں کر رہے ہیں تو ان کا جواب تھا ہمیں نہیں معلوم کہ خطے میں امریکہ کے عزائم کیا ہیں؟

مشرف اور منموہن سنگھ میں کشمیر پر ڈیل ہونے والی تھی؟

امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں کہ منموہن سنگھ کے دور میں یہ کہا جا رہا تھا کہ مشرف سے ڈیل ہونے والی ہے۔ یہ ڈیل 2007 میں متوقع تھی۔ تاہم کانگریس اور بیوروکریسی نے منموہن سنگھ کی مدد نہیں کی۔ سونیا گاندھی ڈیل کی مخالف تو نہیں تھیں لیکن انہوں نے خود کو معاملے سے الگ تھلگ رکھا۔ جنرل درانی کہتے ہیں کہ مشرف کو2007 میں اندرونی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا تو کشمیرپر ڈیل ہو جانی تھی۔ امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں کہ بھارت کی اسٹیبلشمنٹ یا بیوروکریسی بہت طاقتور ہے جو سیاستدانوں کے مفادات کا خیال رکھتی ہے۔ آج کل بھارتی اسٹیبلشمنٹ پوری طرح سے نریندر مودی کی مٹھی میں ہے۔

پاک فوج بھارت مخالف نہیں ہے

جنرل درانی کہتے ہیں کہ پاک فوج بطور ادارہ بھارت کے خلاف نہیں ہے۔ اس لئے جب جرنیل آپس میں ملتے ہیں تو وہ کوئی سخت بات نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم معاملات کو سنبھال سکتے ہیں۔ پاک فوج اس وقت اندرون ملک بھی کئی چیلنجز کا سامنا کررہی ہے اس لئے مشرقی سرحدوں پرامن برقرار رکھنا ضروری ہو گیا ہے۔

نرسیما راؤ نے نواز شریف کو انتظار کرایا

جنرل درانی کہتے ہیں جب نوے کی دہائی میں نرسیما راؤ وزیراعظم تھے تو نواز شریف بھارت سے دوستی کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے نرسیما راؤ کو اس حوالے سے پیغام بھی بھیجا لیکن نواز شریف ناتجربہ کار تھے۔ نرسیما راؤ نے انہیں 6 ماہ تک کوئی جواب نہیں دیا جس سے نواز شریف پریشان ہو گئے کہ بھارت تو ہمیں جواب ہی نہیں دیتا۔ حالانکہ سیاست میں ایسے حربے چلتے رہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top