15-کارگل آپریشن مشرف کی ضد تھا، جنرل درانی

15-کارگل آپریشن مشرف کی ضد تھا، جنرل درانی

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیۘز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ پندرھواں باب

کارگل آپریشن مشرف کی خواہش تھی

جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ کارگل آپریشن جنرل مشرف کی ضد تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ 71 میں کارگل کی جن چوٹیوں کو بھارت نے چھین لیا تھا وہ انہیں ہر قیمت پر واپس لیں۔ جب وہ بریگیڈیئر تھے تو انہوں نے وزیراعظم بینظیر سے بھی آپریشن کی اجازت مانگی تھی لیکن بینظیر نے جواب دیا کہ شاید آپ اس آپریشن میں کامیاب ہو بھی جائیں لیکن سیاسی لحاظ سے یہ معاملہ غیرمستحکم رہے گا۔ بعد میں نواز شریف نے جنرل مشرف کو اس آپریشن کی اجازت دے دی۔

نواز شریف کارگل آپریشن کے متعلق بہت کم جانتے تھے

جنرل درانی کہتے ہیں کہ نواز شریف کو کارگل آپریشن کی بہت کم تفصیلات کا علم تھا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ بات بڑھ جائے گی۔ ان کا خیال تھا کہ کسی چھوٹے سے علاقے پر ہی قبضہ کیا جائے گا۔ لیکن چونکہ انہیں اس آپریشن کا علم تھا اس لئے سیاسی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔

جب را نے جنرل مشرف کی گفتگو ٹیپ کر لی

امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں کہ را نے آرمی چیف جنرل مشرف اور جنرل عزیز کے درمیان ہونے والی گفتگو ٹیپ کرلی تھی۔ اس گفتگو میں کارگل آپریشن سے متعلق باتیں بھی ہوئی تھیں۔ جنرل مشرف نے جنرل عزیز سے پوچھا کہ سیاستدان پریشان تو نہیں ہیں۔ بھارتی حکومت اس ٹیپ کو دنیا کے سامنے لے آئی۔ لیکن اس وجہ سے بھارت نے وہ ذریعہ ضائع کر دیا جس کے ذریعے وہ پاکستانی آرمی چیف کی اہم گفتگو سن رہے تھے۔ جنرل درانی کہتے ہیں کہ انہیں بھارتی سفارتی مشن کی طرف سے گفتگو کا متن موصول ہوا تھا۔ جنرل مشرف کو ایسے غیرمحفوظ ذریعے سے بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔

جنرل مشرف نے بھارت سے متعلق غلط اندازہ لگایا

جنرل درانی کہتےہیں مشرف نے کارگل آپریشن میں بھارت سے متعلق غلط اندازہ لگایا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ بھارت اس علاقے کو واپس نہیں لے سکے گا اور دونوں ممالک میں جنگ نہیں ہو گی۔ کیونکہ تب پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا تھا اس لئے مشرف کو یقین تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں معاملہ زیادہ دورتک نہیں جائے گا۔ اس لئے وہ پراعتماد تھے لیکن بھارتی ردعمل ان کی توقع کے خلاف تھا۔ جنرل مشرف باقی دنیا کا ردعمل دیکھ کر بھی پریشان ہوئے کیونکہ ساری دنیا انہیں الزام دے رہی تھی۔

کیا بھارت کارگل سے پہلے پاکستان پر کسی حملے کی تیاری کررہا تھا؟

جنرل درانی کہتے ہیں کہ جنرل مشرف کو خوف تھا کہ بھارت کسی مہم جوئی کی تیاری میں ہے۔ کشمیر اور سیاچن میں بھارت نے پہل کی تھی۔ اس لئے مشرف کسی بھی ایسی مہم جوئی کا راستہ بند کرنا چاہتے تھے۔

کیا نواز شریف کو کارگل جنگ ختم کرنے واشنگٹن جانا چاہیے تھا؟

جنرل درانی کہتے ہیں کہ نواز شریف کو کارگل جنگ کے معاملے پر واشنگٹن نہیں جانا چاہیے تھا۔ ان کے پاس کافی آپشنز موجود تھیں۔ اس دور میں چین پاکستان سے کہہ رہا تھا کہ آپ اس مسئلے کو اجاگر کرنا چاہتے تھے آپ نے کر دیا اور اب آپ پیچھے ہٹ جائیں۔ واجپائی نے بھی نواز شریف کو فون کر کے کہا تھا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ نواز شریف کو چاہیے تھا کہ وہ کہہ دیتے کہ جناب آپ کی وجہ سے ہم کارگل سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

مسٹر مشرف، نواز شریف آپ کو برداشت نہیں کریں گے

جنرل درانی کے مطابق کارگل جنگ کے بعد جنرل مشرف اور نواز شریف میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ نواز شریف جنرل مشرف کو برداشت نہیں کر پا رہے تھے۔ لیکن ان کے مشیروں نے انہیں جنرل مشرف کو برطرف کرنے سے روک دیا۔ تاہم اسد درانی کہتے ہیں کہ ان کی جنرل مشرف سے ملاقات ہوئی تھی۔ ملاقات میں انہوں نے جنرل مشرف کو بتا دیا تھا کہ نواز شریف زیادہ دیر آپ کو برداشت نہیں کریں گے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے جنرل مشرف کو یہ مشورہ بھی دیا کہ کسی قسم کی سیاسی بغاوت کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔ جنرل مشرف کو حکومت پرقبضے کے لیے کسی موقعے کی تلاش تھی اور نواز شریف نے انہیں برطرف کرکے اور طیارے کو امرتسر یا کہیں اور لے جانے کی بات کہہ کر انہیں یہ موقع دے دیا۔

کیا مشرف کشمیر پر ڈیل کرسکتے تھے؟

جنرل درانی کہتے ہیں کہ مشرف کشمیر پر ڈیل کر سکتے تھے۔ وہ معاملات کو سمجھتے بھی تھے لیکن ان کا طریقہ کار غلط تھا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اسلام آباد کی طرف سے بھارت کو مسلسل تجاویز دی جا رہی ہوں اور ان پر مثبت ردعمل بھی آئے۔ خاص طور پر ایسی باتوں کو میڈیا پر بیان کرنے سے بھارت کو فائدہ ہو سکتا تھا۔ را کے سابق چیف کہتے ہیں کہ جنرل مشرف نے کشمیر کے مسئلے پر پیشرفت کی کوشش کی جس پر وہ ان کی تعریف کرتے ہیں۔

آگرہ میں مشرف، واجپائی مذاکرات کیسے ناکام ہوئے؟

امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں کہ آگرہ سمٹ کی ناکامی کی وجہ ایل کے ایڈوانی ہیں۔ ایڈوانی کو یہ پسند نہیں تھا کہ سارے آپشنز واجپائی کے پاس تھے اور معاملات پر ان کی گرفت مضبوط تھی۔ ایڈوانی کے انا آڑے آ گئی اور آگرہ سمٹ ناکام ہو گیا۔

واجپائی مشرف کو کار تک چھوڑنے بھی نہ آئے

جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ جب آگرہ سمٹ ناکام ہو گیا تو واجپائی جنرل مشرف کو کار تک چھوڑنے بھی نہ آئے۔ وہ صرف ہاتھ ملا کر چلے گئے۔ حالانکہ یہ عجیب اور نازیبا حرکت تھی کہ وزیراعظم ایک مہمان صدر کو کار تک چھوڑنے بھی نہ جائے۔ وہ کہتے ہیں جنرل ضیا کو کسی مہمان سے اختلاف بھی ہوتا تھا تو بھی وہ اسے کار تک چھوڑنے آتے اور اس کے لیے خود دروازہ کھولتے تھے۔ جب جنرل مشرف واپس جا رہے تھے تو صاف نظر آ رہا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ اس موقع پر کوئی ان کی تصویر بھی نہ لے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top