16-نریندر مودی پاکستان کے لیے اچھے یا بُرے؟

16-نریندر مودی پاکستان کے لیے اچھے یا بُرے؟

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیۘز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ سولہواں باب

نریندر مودی نے پاکستان سے دوستی کی کوشش کی

سابق را چیف کہتے ہیں کہ نریندر مودی نے اپنی حکومت کے پہلے دو برس پاکستان سے دوستی کی بہت کوشش کی۔ وہ وزیراعظم بنے تو انہوں نے نواز شریف کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی۔ وہ نواز شریف سے ملنے لاہور بھی گئے۔ لیکن پھر پٹھان کوٹ کا واقعہ ہو گیا۔ نریندر مودی کا خیال تھا کہ وہ اس واقعے کو بھی نظرانداز کر دیں گے لیکن جب اُڑی سیکٹر کا واقع ہوا تو پھر انہوں نے بھی طے کر لیا کہ اب دوستی نہیں ہو سکتی۔

مودی کی نیت ٹھیک نہیں تھی

جنرل درانی کہتے ہیں کہ مودی نے نیک نیتی سے پاکستان سے دوستی کی کوشش کی ہی نہیں۔ وہ صرف بھارتی عوام کی سپورٹ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ڈھاکہ اور کابل میں پاکستان کے خلاف باتیں کیں اور پھر لاہور پہنچ گئے تاکہ ہر کوئی یہی کہے کہ یہ آدمی ہی کام کا ہے اور اب سب کچھ بدلے گا۔ لیکن اصل میں کچھ نہیں بدلا۔ وہ کہتے ہیں کہ نریندر مودی چالاک انسان ہیں اور وہ اپنا فائدہ دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ وہ پاکستان کے خلاف اجیت دوول جیسے لوگوں کو استعمال کررہے ہیں۔

نریندر مودی بھارت کے لیے بھی نقصان دہ ہیں

جنرل درانی کہتے ہیں کہ جب مودی وزیراعظم بنے تھے تو پاکستان میں ہر کسی نے یہی خیال کیا تھا کہ اس سے بھارت کے امیج کو نقصان پہنچے گا۔ بلکہ پاکستانی خوش تھے کہ یہ شخص بھارت کو اندر سے تباہ کر دے گا۔

کیا نریندر مودی کی موجودگی میں پاک،بھارت دوستی ہو گی؟

جنرل درانی کہتے ہیں کہ حالات جوں کے توں رہیں گے۔ نریندر مودی کی موجودگی میں دونوں ممالک میں کوئی صلح نہیں ہو گی۔ اس بات کا امکان ہے کہ نریندر مودی دوبارہ الیکشن جیت جائیں گے۔ لیکن اگر وہ الیکشن ہار بھی گئے تو بھی یہ رجحان ختم نہیں ہو گا اور حالات ہمیشہ ایک جیسے رہیں گے۔ امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں کہ نریندر مودی سے بہت سے لوگوں کو توقعات تھیں۔ بھارت کی ایلیٹ کلاس سمجھتی تھی کہ نریندر مودی کے آنے سے مسائل حل ہوں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اسی طرح پاک، بھارت تعلقات میں بہتری کی بھی امید نہیں کی جا سکتی۔ لیکن اگر مودی الیکشن ہار گئے تو پھرحالات بدل بھی سکتے ہیں۔

نوازشریف اونٹ، مودی لومڑی

جنرل درانی کہتے ہیں کہ نواز شریف کو مودی سے دوستی میں غالباً مالی فائدہ دکھائی دیتا ہے۔ وہ سوچ سمجھ کر نہیں بلکہ اپنی جبلت کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ نواز شریف کو ملک کے اندر تو اپنی سیاسی بقاء کو یقینی بنانا آتا ہے لیکن بیرونی محاذ پر ان کی سوجھ بوجھ اونٹ جیسی ہے۔ جبکہ نریندر مودی کو لومڑی کہا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top