17-ٹرمپ کی طرح اجیت ڈووال چیختا زیادہ ہے

17-ٹرمپ کی طرح اجیت ڈووال چیختا زیادہ ہے

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ سترہواں باب

اجیت ڈووال کون ہے؟

امرجیت سنگھ دولت نے کہا کہ ان دنوں بھارت کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈووال پاکستان میں موضوع بحث ہی نہیں درد سر بنے ہوئے ہیں۔ اس پر جنرل اسد درانی نے کہا کہ میں تو ایسا نہیں سمجھتا ہو سکتا ہے کچھ پاکستانی یہ تاثر رکھتے ہوں۔ وہ ایک خفیہ کا بندہ ہے جو اپنا کام کررہا ہے۔ بس۔ اور شاید وہ اپنا کام احسن طریقے سے بھی کر رہا ہے۔ مگر اس کتاب میں اس کا ذکر ہم کس بنیاد پر کریں؟ ایسا کیا کیا ہے انہوں نے۔ میری اس سے چند ملاقاتیں ہیں۔ وہ خاموش طبع ، مشاہدہ کرنے والا اور ایسا شخص ہے جس کو سمجھنا اتنا آسان نہیں ۔ لیکن لاکھ خاموش طبع سہی بولنا تو ہوتا ہی ہے اور جب وہ بولتا ہے اسے آسانی سے پڑھا جا سکتا ہے۔امرجیت سنگھ نے کہا کہ ڈووال کو میں کافی عرصے سے جانتا ہوں، اچھا دوست اور کلیگ ہے۔ وہ میدان میں کام کرنے والا آدمی ہے مگر وہ اپنے کام میں اتنا مگن ہوتا ہے کہ اکثر تنہا رہ جاتا ہے۔ ویسے تو خفیہ والوں کی اکثریت ایسی ہی ہے جو تنہا ہو جاتے ہیں ۔ وہ کسی پر بھی اعتماد نہیں کرتا۔

ٹرمپ کی طرح اجیت ڈووال چیختا زیادہ ہے

آدیتیہ سنہا نے اس پر کہا کہ بھارتی میڈیا میں ہم نے کبھی پاکستان کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جنرل جنجوعہ کا ذکر کبھی نہیں سنا لیکن پاکستانی میڈیا میں اجیت ڈووال کا اکثر ذکر رہتا ہے۔ اس پر جنرل درانی نے کہا بسا اوقات جب میڈیا کسی شخص کو ٹارگٹ بناتا ہے تو اسی کا ہی فائدہ ہوتا ہے۔ میرے خیال میں اجیت ڈووال کی کوئی الگ پالیسی نہیں۔ اس کی وہی پالیسی ہے جو بھارت کی کافی عرصے سے ہے بس وہ تھوڑا سا سخت گیر موقف رکھتا ہے۔ وہ چیختا زیادہ ہے جیسے ڈونلڈ ٹرمپ کرتا ہے۔ مطلب آسان لفظوں میں کہوں تو یہ کہ وہ میڈیا کے مسالہ مہیا کرنے والا شخص ہے۔ ہم یہاں تعلقات کے حوالے سے ٹھوس معاملات پر بات کر رہے ہیں شخصیات پر نہیں۔

اجیت ڈووال وہی کہہ رہا ہے جو اس کا باس بتا رہا ہے

سنہا نے جنرل درانی سے پوچھا کہ آپ مسٹر دولت کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ تجربہ کار شخصیت ہیں یہی کچھ اجیت ڈووال کے بارے میں بھی کہا جا سکتا ہے۔ بلکہ اس کا تجربہ تو مسٹر دولت سے بھی زیادہ ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے مگر تجربہ شخصیت پر کیا اثر ڈالتا ہے یہ بھی تو دیکھنا چاہیے۔ یہی معاملہ اجیت ڈووال ہے وہ پاکستان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہتا ہے۔ ایسے عناصر ہر ملک میں ہوتے ہیں مگر وہ وہی کہہ رہا ہے جو اس کا باس اسے بتا رہا ہے۔ دوسری طرف مسٹر دولت ہیں جنہوں نے کشمیر میں طویل عرصہ کام کیا ہے اور وہ دوسری اپروچز پر کشادہ دلی رکھتے ہیں۔

اجیت ڈووال پاکستانی وفد سے ہاتھ ملائے بغیر چلا گیا

سنہا نے اس پر سوال کیا کہ 2016 میں سابق پاکستانی ہائی کمشنروں کا ایک وفد دہلی میں ڈووال سے ملا تھا اس پر کیا کہتے ہیں۔ جنرل درانی نے بتایا کہ چھ لوگ اس سے ملے تو وہ ان سے کھردرے طریقے سے ملا اور انہیں دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ اگر آپ لوگوں کی طرف سے کچھ غلط ہوا اور پٹھانکوٹ ممبئی یا دیگر ریاستی معاملات کے ساتھ آپ کا کوئی تعلق ہوا تو نتائج بھگتنا ہوں گے۔ اس کے بعد میٹنگ ختم ہوئی تو اس نے وفد سے ہاتھ ملانے کی زحمت بھی نہیں کی اور اٹھ کر چلا گیا۔ مطلب اس کا پیغام پہنچ گیا۔ اس پر دولت نے کہا کے میں نے تو اس کے برعکس سنا ہے۔ میں نے تو سنا ہے کہ وہ بڑے خوشگوار انداز میں ملا تھا اور پاکستانی وفد حیران ہوا تھا کہ جس شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تلخ ہے وہ اصل میں تو نرم خو ہے۔ جنرل درانی نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہاں اس نے نرم انداز سے یہ پیغام پہنچ دیا کہ بھارت پاکستان سے اچھے تعلقات نہیں چاہتا اور آپ کے آنے کا شکریہ۔

پاکستان اجیٹ ڈووال کو اسلام آباد آنے کی دعوت کیوں دے؟

امرجیت سنگھ نے کہا کہ اگر پاکستان اجیت ڈووال کو اسلام آباد یا لاہور آنے کی دعوت دے تو یہ بہتر اقدام ہوگا۔ مجھے معلوم ہے کہ دونوں ملکوں کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزرز کے درمیان فون پر بات ہوتی ہے مگر ان کی ملاقات کافی عرصے سے نہیں ہوئی۔ اس پر جنرل درانی نے کہا کہ اول تو پاکستان کی طرف سے ایسی دعوت کا جانا پاکستانی اچھی نظر سے نہیں دیکھیں گے اور دوم یہ کہ اگر اجیت صاحب کہتے ہیں کہ میں کیوں پاکستان آئوں تو پھر کیا ہوگا۔ مسٹر دولت نے اس پر کہا کہ میری معلومات کے مطابق جب اجیت سے پوچھا گیا کہ دعوت آئے تو کیا وہ پاکستان جائے گا تو اس کا جواب تھا ہاں۔ مگر پاکستان کی طرف سے ایسی کوئی دعوت دی ہی نہیں گئی۔

ڈووال پاکستان سے پیار کرتا ہے

جنرل درانی نے کہا کہ اجیت ڈووال اور مودی کی ڈرامے بازیاں ایسی رہیں تو صورت حال کہیں نہیں جائے گی۔ سابق را چیف نے کہا کہ ان دونوں کی طرف سے ملے جلے اقدامات سے ہم دہلی میں بھی کنفیوز ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر کے کردار کے حوالے سے بات ہوئی تو سابق را چیف نے کہا کہ اجیت ڈووال ایک کھڑکی ثاب ہو سکتے ہیں دونوں ملکوں کے اچھے تعلقات کے حوالے سے اس پر جنرل درانی نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ ڈووال وہ شخص ہے۔ ویسے میرے بس میں ہوتا تو میں تو اس پر بات بھی نہ کرتا۔ بہر حال میرا خیال ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں ڈووال کوئی کردار نہیں نبھا سکتا۔ سابق را چیف نے اس پر کہا کہ لگتا ہے پاکستانی ڈووال پر اعتماد کرنے کو تیار ہی نہیں۔ اس پر جنرل درانی نے کہا کہ آپ کی باتوں سے تو لگتا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کو مودی سے نہیں ڈووال سے معاملہ کرنا ہوگا۔ سابق راچیف نے کہا اسی لیے تو میں کہہ رہا ہوں کہ اسے لاہور بلائیے۔ ڈووال پاکستان سے پیار کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top