18-کیا کشمیری بھی اقوام متحدہ کی قراردایں تسلیم نہیں کرتے؟

18-کیا کشمیری بھی اقوام متحدہ کی قراردایں تسلیم نہیں کرتے؟

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ اٹھارہواں باب

پاک بھارت سفارتکاروں کا لہجہ تلخ کیوں ہے؟

جنرل درانی اور امرجیت سنگھ دلت دونوں تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے سفیر اور خاص طور پر دفتر خارجہ ایک دوسرے کے سخت خلاف ہیں۔ ان کے لہجے میں اکثر تلخی ہوتی ہے۔ اسد درانی کہتے ہیں کہ 2004 میں وہ نئی دہلی میں ایک کانفرنس میں شریک تھے۔ وہاں بظاہر تو سب ٹھیک ٹھاک تھا اور لوگ اچھے طریقے سے بات چیت کر رہے تھے۔ لیکن کچھ جونیئربھارتی سفارتکاروں کا لہجہ انتہائی تلخ تھا۔ انہوں نے پاکستانی شرکاء کودھمکیاں دیں کہ اگر پاکستان کا رویہ بہتر نہ ہوا تو سب کچھ بدل جائے گا۔

جنرل درانی اور دلت دونوں کہتے ہیں کہ دفترخارجہ کے ملازمین اور سفیروں کے لیے سخت لہجہ ایک مجبوری ہے۔ کیونکہ انہیں یہی سکھایا جاتا ہے کہ وہ کسی طور پر بھی مخالفین پر اپنی کوئی کمزوری ظاہر نہیں کر سکتے۔ اگر وہ اپنے الفاظ نرم کریں گے تو اسے کمزور سمجھا جائے گا۔ اس لئے وہ سوچ سمجھ کر بولتے ہیں۔ جنرل درانی کہتے ہیں کہ امریکہ میں بھی یہی طریقہ کار ہے۔ امریکی دفترخارجہ کے ملازمین کا لہجہ انتہائی سخت ہوتا ہے اور ان کا پارہ ہر وقت چڑھا رہتا ہے۔

پاکستان سفیروں کی زیادہ جاسوسی کرتا ہے یا بھارت؟

بھارتی صحافی نے سوال کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر بھارتی سفیروں پر جتنی سختی کرتا ہے اتنی بھارت پاکستانی سفارتکاروں پر نہیں کرتا۔ اس کے جواب میں جنرل درانی کا کہنا تھا کہ یہ بات بالکل ممکن ہو سکتی ہے۔ جبکہ دلت نے کہا کہ یہ بات حقیقت ہے۔ جنرل درانی نے اس پر کہا کہ آپ اپنی سرزمین پر کسی کو دیکھتے ہیں تو اس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ دلت کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کے پاس بھارتی ہائی کمشنر کا پیچھا کرنے کے لیے زیادہ نفری موجود ہے۔ جبکہ بھارتی انٹیلیجنس بیورو کے پاس پاکستانی سفیروں کی جاسوسی کے لیے زیادہ نفری نہیں ہے۔

کیا کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھول چکے ہیں؟

امرجیت سنگھ دلت کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ اور جنیوا جیسے فورمز پر دونوں ممالک کے سفیر سخت لہجہ اختیار کرتے ہیں۔ سینہ ٹھونک کر ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہیں۔ یہ سب اس وجہ سے ہوتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھنا چاہتے اور نہ ہی بات کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم پاکستان جب بھی مسئلہ کشمیر اٹھاتا ہے اور کشمیریوں کی تکالیف کا ذکر کرتا ہے تو لوگ اسے برداشت کرلیتے ہیں۔ لیکن جب پاکستان پانچ ہزار سالہ جنگ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بات کرتا ہے تو دنیا اس کی بات نہیں سنتی۔ کیونکہ یہ باتیں پرانی ہو چکی ہیں۔ حتیٰ کہ کشمیری بھی کہتے ہیں کہ پاکستان ہمارے معاملے میں سنجیدہ نہیں رہا۔ وہ ایک ایسا معاملہ دوہرا رہا ہے جسے دنیا فراموش کر چکی ہے۔ اس لئے اس کا بار بار ذکر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ دلت کہتے ہیں کہ انہوں نے لندن میں جنرل احسان سے کہا تھا کہ وہ کشمیر کو متنازعہ کیوں کہتے ہیں جبکہ ذوالفقار علی بھٹو اور اندراگاندھی نے شملہ میں طے کیا تھا کہ اب تمام مسائل کو دو طرفہ بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ شملہ معاہدہ بھی اقوام متحدہ سے رجوع نہ کرنے کی ایک وجہ ہے۔

کیا پاکستانی سفارتکار آئی ایس آئی کو جوابدہ ہیں؟

بھارتی صحافی نے جنرل درانی سے سوال کیا کہ کیا پاکستانی سفارتکار آئی ایس آئی یا جی ایچ کیو کو جواب دہ ہیں یا ان سے بریفنگ لیتے ہیں۔ جنرل درانی نے کہا کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے بلکہ بھارتی سفارتکاروں کا انداز زیادہ جارحانہ ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top