عمران خان اگلے وزیراعظم ہوں گے یا شاہد خاقان عباسی؟

عمران خان اگلے وزیراعظم ہوں گے یا شاہد خاقان عباسی؟

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ انیسواں باب

پاکستان کے لیے جمہوریت ٹھیک ہے یا آمریت

جنرل درانی نے بھارتی صحافی کے سوال پر کہا کہ جمہوریت صرف الیکشن کا نام نہیں ہے۔ البتہ الیکشن جمہوریت کی طرف ایک اہم قدم ضرور ہوتے ہیں۔ جنرل درانی کا کہنا تھا کہ جب بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت آئی توجنرل اسلم بیگ سے کہا گیا کہ سویلین حکومت ناکام ہو رہی ہے۔ اس پر جنرل اسلم بیگ نے ایک بیان جاری کیا جس کا مقصد عوام کو واضح پیغام دینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے اپنی راہ چن لی ہے اور اب جو کوئی بھی جمہوریت کے راستے میں آئے گا اس کا انجام بہتر نہیں ہو گا۔ جنرل درانی کہتے ہیں ان سب کے باوجود جمہوریت درست طریقے سے آگے نہیں بڑھ سکی کیونکہ جو بھی باس بن جاتا ہے وہ چیزوں کو اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کرتا ہے اور ادارے بعض اوقات اپنی رائے دیتے ہیں اور بعض اوقات باس کی مرضی پر چلنے لگتےہ ہیں۔ بھارت میں جمہوریت ہے لیکن وہاں اصل میں اداروں کے درمیان اتفاق رائے موجود ہے۔

جنرل ضیا سب سے زیادہ مذہبی حکمران تھے

پاکستانی سیاست میں مذہب کے کردار پر جنرل درانی کہتے ہیں کہ جنرل ضیا سب سے زیادہ مذہبی شخصیت تھے۔ لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مذہب کا ملکی پالیسیوں میں زیادہ دخل نہیں ہوتا۔ بھارت سے تعلقات کے حوالے سے بھی مذہب کا کردار ایک خاص حد تک ہی لیکن لوگ صرف کسی خاص پالیسی کی وضاحت کے لیے مذہب کا سہارا لیتے ہیں۔

مودی کو مشکلات کا سامنا ہے

امرجیت سنگھ دلت کہتے ہیں کہ ڈکٹیٹر اپنی مرضی سے جو چاہے کر سکتا ہے وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا۔ لیکن جمہوری حکمرانوں کے لیے مشکلات ہوتی ہیں۔ نظام ان کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ اس کی سب سے اہم مثال نریندر مودی ہیں جنہیں نظام نے بار بار روکا ہے اور وہ اس مشکل کو محسوس بھی کررہے ہیں۔

بینظیر بھارت کے لیے بہتر تھیں یا مشرف؟

جنرل درانی کہتے ہیں کہ پاک،بھارت تعلقات میں مذہب کا کوئی کردار نہیں۔ اگر جنرل ضیا بھارت سے تعلقات بہتر کرنا چاہتے تھے تو انہیں کوئی نہیں روکتا تھا۔ اور اگر جنرل مشرف نے ایسا کرنا چاہا تو ان کے سیکولر مشہور ہونے کے باوجود کسی نے ان کی مخالفت نہیں کی۔ حتیٰ کہ سویلین حکمران بھی فیصلے کرتے ہوئے مذہب کو ذہن میں نہیں رکھتے۔ را کے سابق چیف سے جب پوچھا گیا کہ ان کی نظر میں کون سا پاکستانی لیڈر بھارت کے لیے بہتر ثابت ہوا تو ان کا جواب تھا کہ جنرل مشرف سے ڈیل کرنا بھارت کے لیے سب سے زیادہ آسان رہا ہے تاہم وہ خود بینظیر کو پسند کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کرشماتی شخصیت کی مالک اور جدید خیالات رکھنے والی سیاستدان تھیں۔ وہ جس طریقے سے لوگوں کو ساتھ لے کر چل سکتی تھیں یہ صلاحیت کسی اور میں نہیں تھی۔ اگر وہ زندہ رہتیں تو حالات کافی مختلف ہوتے۔ البتہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کی موجودگی میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات کتنے بہتر ہو سکتے تھے۔

پاکستان بھٹو نے توڑا یا جنرل یحیٰ خان نے؟

جنرل درانی کہتے ہیں کہ کئی لوگ پاکستان توڑنے کا ذمہ دار بھٹو کو سمجھتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان توڑنے کی حتمی ذمہ داری جنرل یحیٰ خان پر عائد ہوتی ہے لیکن بھٹو نے جنرل یحیٰ اور مجیب کی طرف سے حالات ٹھیک کرنے کی کئی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ درحقیقت بھٹو اس وقت تک وزیراعظم بن ہی نہیں سکتے تھے جب تک سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ الگ نہ ہو جاتا ہے۔ جنرل درانی کہتے ہیں بھٹو جتنے مرضی عالم فاضل ہوں لیکن ان کے قریبی ساتھی بھی کہتے ہیں کہ وہ اپنی ذات میں خود ایک آمر تھے۔ انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں مبشر حسن، معراج محمد خان، مصطفیٰ کھر اور جے اے رحیم کو بھی خود سے دور کر لیا۔ کیونکہ ان کی نظر میں کوئی بھی شخص زیادہ اہمیت کا حامل نہیں تھا۔ بھٹو شراب پی کر ساری رات بلیئرڈ کھیل سکتے تھے لیکن پھر بھی ان میں اتنی توانائی رہتی تھی کہ وہ صبح کوئی ٹیلیگرام لکھوا کر بھیج سکیں۔

بینظیر بھارتی وزیراعظم کو جواب نہ دے سکیں

جنرل درانی کہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو ایک ناتجربہ کار وزیراعظم تھیں۔ لوگ انہیں ان کے والد کی پھانسی اور جلاوطنی کی وجہ سے مظلوم خیال کرتے تھے۔ لیکن جب وہ غریبوں کی مدد سے حکمران بنیں تو انہوں نے غریبوں کے لیے پانچ فیصد بھی کام نہیں کیا۔ پہلے ان کے شوہر پر کرپشن کا الزام لگا تھا لیکن اپنے دوسرے دور حکومت میں وہ خود بھی کرپشن میں ملوث ہو گئیں۔ پہلے دور حکومت سے انہوں نے یہ سیکھا تھا کہ وہ فوج کے ساتھ بنا کر رکھیں گی توان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔ حالانکہ فوج ان کے جانے پر خوش تو ہوئی تھی لیکن فوج نے کبھی بھی ایسے حالات پیدا نہیں کئے تھے جن سے ان کی حکومت گر جاتی۔ بینظیر کو یہ بھی لگتا تھا کہ امریکہ ان کے ساتھ ہے حالانکہ انہوں نے دو، تین مرتبہ امریکہ سے مدد کی درخواست کی تو وہاں سے انہیں کوئی مدد نہیں ملی۔ جنرل درانی کے مطابق بینظیر پروٹوکول کا زیادہ خیال نہیں رکھتی تھیں، ایک تقریب میں تو وہ اپنے بچوں سمیت آ گئی تھیں جیسے یہ کوئی خاندانی تقریب ہو، شاید امریکی ایسا کرتے ہوں گے۔

جنرل درانی یہ بھی کہتے ہیں کہ جب بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی پاکستان آئے تو انہوں نے بینظیر کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی انہوں نے کہہ دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں الیکشن کرا چکے ہیں اب وہ اس معاملے پر بات نہیں کریں گے۔ بینظیر اس پر کوئی مناسب ردعمل نہ دے سکیں کیونکہ انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ جواب کیسے دیں۔ وہ ناتجربہ کار تھیں اور انہوں نے جو کچھ کہا اس سے بھارتی پالیسی کو تقویت ملی۔ اس واقعے سے لوگوں نے بینظیر کی نیت اور اہلیت پر سوالات اٹھانا شروع کر دیئے۔

نواز شریف بھارت میں فیورٹ ہیں؟

را کے سابق چیف کہتے ہیں کہ نواز شریف کو بھارت میں فیورٹ سمجھا جاتا ہے۔ ان کا اور واجپائی کے درمیان مضبوط تعلق قائم ہو گیا تھا۔ واجپائی کا پاکستان سے متعلق سارا منصوبہ نواز شریف پر منحصر تھا۔ جب نواز شریف کا تختہ الٹ دیا گیا تو واجپائی کو بہت دکھ ہوا تھا۔ جب دوہزار تیرہ کا الیکشن ہوا تھا اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر شرت سھبروال کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی گئی تھی۔ کیونکہ ان کے نواز شریف سے اچھے تعلقات ہیں اور یہ امید کی جا رہی تھی کہ اس الیکشن میں نواز شریف ہی وزیراعظم بنیں گے۔ جنرل درانی کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ نواز شریف کو بھارت میں فیورٹ کیوں سمجھا جاتا ہے۔ وہ ہمیشہ ایک کال یا سیٹی کے فاصلے پر ہوتے ہیں اور انہوں نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

جنرل درانی کہتے ہیں کہ بینظیر بھارت کے متعلق انتہائی رویہ نہیں اپناتی تھیں۔ لیکن نواز شریف اپنی ناسمجھی کی وجہ سے غلط اقدامات اٹھاتے ہیں۔ وہ نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں حصہ لینے گئے اور ان سے برا سلوک ہوا انہیں سبق سیکھ لینا چاہیے تھا۔ بعد میں نریندر مودی ڈھاکہ اور کابل میں پاکستان پر تنقید کرنے کے بعد راولپنڈی میں لینڈ کر گئے تو ہم حیران ہوتے تھے کہ آخر یہ کس قسم کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ لیکن نواز شریف اپنی سادہ لوحی میں سمجھ رہے تھے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس موقع پر امرجیت سنگھ دلت کہتے ہیں کہ وہ پاکستان میں نواز شریف سے متعلق پائے جانے والے تصور سے اتفاق نہیں کرتے۔ تاہم وہ یہ ضرور کہیں گے کہ نواز شریف سے بھارت میں ناروا سلوک نہیں ہونا چاہیے تھا۔

نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کر کے بڑا کام کیا

جنرل درانی کہتے ہیں کہ وہ نواز شریف سے صرف تب خوش ہوئے تھے جب انہوں نے ایٹمی دھماکے کئے۔ اس وقت ان پر بہت دباؤ تھا۔ امریکی صدر بل کلنٹن کی طرف سے بھی فون کالز آئیں۔ نواز شریف کی اپنی بزنس کمیونٹی بھی دھماکوں کے حق میں نہیں تھی۔ لیکن انہوں نے اس دباؤ کا مقابلہ کیا اور دھماکے کر دیئے حالانکہ وہ شاید جوہری بموں کی طاقت کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے لیکن انہوں نے دھماکے کئے اور اس پر میں نے میڈیا پر آ کر ان کی بھرپور حمایت کی۔

نواز شریف کے جانے سے فرق نہیں پڑا؟

جنرل درانی کہتے ہیں کہ نواز شریف کے جانے سے ملک میں کوئی عدم استحکام نہیں آیا بلکہ حالات پرسکون ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروباری طبقے کا اعتماد لوٹ آیا ہے۔

شاہد خاقان عباسی پھر وزیراعظم ہوں گے یا عمران؟

جنرل درانی کہتے ہیں کہ شاہد خاقان عباسی محنتی وزیراعظم ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے امریکہ سے بھی تعلقات کو اچھے طریقے سے آگے بڑھایا۔ جب امریکی وزیرخارجہ ٹیلرسن پاکستان آئے تو فوجی اور سیاسی قیادت نے ان سے اکٹھے ملاقات کر کے انہیں ایک واضح پیغام دیا۔ شاہد خاقان عباسی ایک کموڈور کے بیٹے تھے لیکن انہوں نے جنرل مشرف کا ساتھ دینے سے انکار کیا اور جیل چلے گئے لیکن انہوں نے نواز شریف  کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

امرجیت سنگھ دولت کہتےہیں کہ انہوں نے لندن میں جنرل احسان سے پاکستانی سیاست کے متعلق پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ اگلے حکمران عمران خان ہوں گے لیکن بعد میں لوگوں کا یہ اتفاق رائے تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ دلت کہتےہیں کہ جو کچھ انہوں نے اپنے پاکستانی دوستوں سے سنا ہے اس سے لگتا ہے کہ شاہد خاقان عباسی ہی اگلے وزیراعظم بھی ہوں گے۔ کیونکہ پنجاب پر ن لیگ کا کنٹرول ہے اور آئندہ الیکشن میں بھی ن لیگ کامیاب ہو گی اور جو پنجاب میں کامیاب ہوتا ہے پاکستان بھی اس کے کنٹرول میں آ جاتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ شاہد خاقان عباسی کا انتخاب میاں صاحب نے خود کیا ہے اور نواز شریف انہیں اپنے بھائی پر ترجیح دے رہے ہیں۔ کیونکہ ان کے خیال میں عباسی ان کی کمر میں چھرا نہیں گھونپیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top