20-جب بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کے حق میں آواز اٹھائی

20-جب بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کے حق میں آواز اٹھائی

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب (Spy Chronicles) کا خلاصہ ۔۔۔ بیسواں باب

پاکستان اور بھارت کی ہاٹ لائنز:

جنرل درانی کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی مثبت باتیں بھی ہوئی ہیں۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد دونوں ممالک میں ایک ہاٹ لائن قائم کی گئی۔ اس ہاٹ لائن کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے کو میزائل تجربات کی اطلاع دیتے ہیں تاکہ جوہری جنگ کا خطرہ پیدا نہ ہو۔ اس کے علاوہ فوج کی سطح پر بھی رابطے کا ایک نظام موجود ہے۔ عام طور پر ہر ہاٹ لائن رابطے میں تعطل ہو سکتا ہے لیکن جوہری سطح کی ہاٹ لائن میں کبھی تعطل نہیں آتا۔ جنرل درانی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور بھارت بعض اوقات جان بوجھ کر بھی ہاٹ لائن پر ایک دوسرے کو ردعمل نہیں دیتے تاکہ کوئی سخت بات نہ ہو جائے۔ پاکستان اور بھارت نے انیس سو پینسٹھ اور اکہتر کی جنگوں میں جان بوجھ کر سویلین اہداف کو نشانہ بنانے سے گریز کیا۔

جب بھارتی وزیراعظم پاکستان کے حق میں بولے:

امرجیت سنگھ دلت کہتے ہیں کہ بھارتی وزیراعظم واجپائی تمام تر مخالفت کے باوجود پاکستان گئے اور پھر انہوں نے خود خواہش کی کہ وہ مینار پاکستان پر جانا چاہتے ہیں۔ وہاں انہوں نے پاکستان کو آزاد اور خودمختار ملک قرار دیا۔ واجپائی یہ بھی کہتے تھے کہ ان کی جماعت کے لوگ ان کے لاہور جانے کے خلاف تھے۔ پھر کئی لوگوں نے واجپائی سے کہا کہ آپ لاہور تو چلے گئے لیکن مہر لگانے کی کیا ضرورت تھی۔ تو واجپائی نے جواب دیا کہ پاکستان کو میری مہر کی ضرورت نہیں ہے اس کے پاس اپنی مہر موجود ہے۔

پاک، بھارت جنگی قیدیوں سے کیا سلوک ہوا؟

جنرل درانی اور امرجیت سنگھ دلت دونوں ہی کہتے ہیں کہ پاکستانی اور بھارتی فوجی اپنے جنگی قیدیوں سے اچھا سلوک کرتے تھے۔ امرجیت سنگھ نے کہا کہ اکہتر کی جنگ کے بعد بھارتی فوجی پاکستانی قیدیوں کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھ کر کھانا کھا لیتے تھے۔ فوجی افسر ان لوگوں کے متعلق پوچھتے تھے جن کی پیدائش بھارتی علاقوں میں ہوئی تھی۔ اس پر امریکی بہت حیران ہوتے تھے کہ یہ لوگ اتنی مشکل مراحل سے گزر کر بھی ایک دوسرے سے گھل مل جاتے ہیں۔ جنرل درانی کہتے ہیں کہ پینسٹھ کی جنگ میں ان کے جوانوں نے دو بھارتی فوجیوں کو پکڑ لیا۔ وہ فوجی بھوکے تھے اس لئے پاکستانیوں نے انہیں چائے پلائی۔ پاکستانی فوجی بھارتی قیدیوں سے پوچھتے تھے کہ تم کس علاقے سے آئے ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی فوجی مذاق میں کہا کرتے تھے کہ سارے بھارتی فوجی گجرات یا لالہ موسیٰ کے ہیں اور ان میں کوئی بھارتی نہیں ہے۔

بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کی خاطر امریکیوں کو ڈانٹ پلائی:

سابق آئی ایس آئی چیف جنرل درانی کہتے ہیں کہ امریکیوں نے بھارتی وزیراعظم مورارجی ڈیسائی سے کہا تھا کہ وہ پاکستان پر سختی کریں۔ لیکن بھارتی وزیراعظم نے انہیں جواب دیا کہ میں تمہارے کہنے پر اپنے ہمسائیوں سے جھگڑا نہیں کر سکتا۔

جنرل ضیا نے ایران کے معاملے پر امریکیوں کو سخت جواب دیا:

آئی ایس آئی کے سابق چیف جنرل درانی کہتے ہیں کہ جنرل ضیا نے ایران کے معاملے پر امریکہ کو سخت جواب دیا تھا۔ امریکی ان سے کہتے تھے کہ ایرانیوں نے ان کے شہریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اس لئے پاکستان ان سے دوستی نہ بڑھائے۔ اس پرجنرل ضیا نے جواب دیا کہ ہم نے امریکہ کی مخالفت کے باوجود چین سے دوستی کی تھی اور پھر امریکہ کو چین سے دوستی کی ضرورت پڑی تو ہم نے راہداری کا کردار ادا کیا۔ اب ہو سکتا ہے کہ آج امریکہ ایران کے خلاف ہو اور کل وہ ان سے بات کرنے کیلے ہماری مدد طلب کر لے۔ لیکن ایسا نہ بھی ہو تو بھی ہم اپنے ہمسایوں سے تعلقات خراب نہیں کر سکتے۔ جنرل درانی کہتے ہیں کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں کچھ تلخی ضرور آئی تھی لیکن پھر بھی پاکستان، واشنگٹن میں ایران کے سفارتی معاملات کی حفاظت کرتا رہا۔

جنرل ضیاء نے بھارتی سیکیورٹی چیف کو چٹھی لکھی:

امرجیت سنگھ دلت کہتے ہیں کہ جنرل ضیا سفارتی آداب کا بہت خیال رکھتے تھے۔ جب وہ بھارت آئے تو بھارت کی طرف سے انٹیلیجنس بیورو کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو ان کا سیکیورٹی چیف مقرر کیا گیا۔ ان کا نام او پی شرما تھا۔ جنرل ضیا سے ملاقات کے بعد وہ کہنے لگے کہ بھائی یہ تو بہت غضب کا آدمی ہے، بہت نرم خو اور بہت ہی عزت دینے والا۔ پانچ روز بعد انہیں جنرل ضیا کی چٹھی ملی جس میں جنرل ضیا نے ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔ اس پر او پی شرما بہت خوش ہوئے اور سب کو چٹھی دکھا کر کہا کہ دیکھئے جنرل صاحب نے ذاتی طورپر یہ چٹھی مجھے بھیجی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top