21-حافظ سعید، امریکہ اور پاک بھارت تعلقات

21-حافظ سعید، امریکہ اور پاک بھارت تعلقات

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب (Spy Chronicles) کا خلاصہ ۔۔۔ اکیسواں باب

ممبئی حملوں نے ہمارے لیے مشکلات پیدا کیں

جنرل درانی نے ممبئی دھماکوں کے حوالے سے کہا کہ جب یہ حملے ہوئے تو میں نے فیصلہ کیا کہ بھارتی چینل ہو یا پاکستانی میں کھل کر بولوں گا کہ جس نے بھی ممبئی حملے کیے ہیں اسے پکڑا جائے اور سزا دی جائے چاہے ان حملہ آوروں کو آئی ایس آئی نے سپانسر کیا، چاہے فوج نے، چاہے ریاست نے، کوئی بھی ہو، سزا ضرور ملنی چاہیے۔ اور یہ میں فقط اس وجہ سے بھی نہیں کہہ رہا کہ ان حملوں میں 168 لوگ مارے گئے یا چار دن تک قتل و غارت کا سماں رہا بلکہ اس وجہ سے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان اس وقت کوئی اور جنگ برداشت ہی نہیں کر سکتا تھا۔ ہم مغربی سرحدوں پر الجھے تھے۔ مجھے نہیں معلوم یہ حملے کس نے کرائے مگر ڈیوڈ ہیڈلی نے آئی ایس آئی کے ایک میجر کا نام لیا تھا ، جس پر سوالیہ نشان موجود ہے ، اور اس نے ہمارے لیے مشکلات بھی پیدا کیں۔

ممبئی حملوں میں نہ آئی ایس آئی ملوث ہے نہ حافظ سعید

 اس پر دولت نے کہا کہ کہانی تو یہ ہے کہ ہیڈلی حافظ سعید سے ملا تھا۔ جنرل درانی نے کہا کہ یہ ساری کہانیاں ہیں تو لوگ جائیں تفتیش کریں۔ میں اپنی اور مسٹر دولت کی بات کروں تو ہم آٹھ سال سے کہہ رہے ہیں کہ مشترکہ تفتیش، جوائنٹ ٹرائل کیا جائے ، انٹیلی جنس کا تبادلہ کیا جائے۔ جب تک یہ نہیں ہوگا کبھی حافظ سعید، کبھی آئی ایس آئی کبھی جیش محمد کا نام لیتے رہیں گے اور ممکن ہے کہ یہ ان کا کام نہ ہو بلکہ کوئی تیسری چوتھی یا پھر پانچویں پارٹی اس میں ملوث ہو۔

ٹرمپ کو حافظ سعید میں کیا دلچسپی؟

سنہا نے سوال کیا کہ اپنی آخری کتاب میں آپ نے لکھا تھا کہ جب پاک بھارت تعلقات آگے نہ بڑھ رہے ہوں، اور پاکستان کو محسوس ہو کہ انڈیا کو ایک دھکا دینا چاہیے تو اس وقت ممبئی حملوں جیسی کوئی نہ کوئی حرکت ہو جاتی ہے۔ سنہا نے کہا کہ حال ہی میں حافظ سعید کو نظر بند کیا گیا ہے بھارتی ٹی وی چینل کہہ رہے ہیں کہ اسکی وجہ ٹرمپ ہے۔ دولت نے کہا کہ ٹرمپ کو حافظ سعید میں کیا دلچسپی ہوگی۔ جنرل درانی نے اس پر کہا کہ ہو سکتا ہے انہیں اس لیے نظر بند کیا گیا ہو کہ طوفان گزر جائے پھر باہر آجائیں گے۔ وہ اگلے چھ ماہ بعد باہر ہوگا۔

کیاحافظ سعید کی نظربندی ڈرامہ ہے؟

اس پر سنہا نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حافظ سعید کی نظربندی ڈرامہ ہے۔ اس پر جنرل درانی نے کہا کہ اس میں نئی بات کیا ہے اس کے ساتھ انتظامات کا ایک سلسلہ موجود ہے۔ یہ کسے پتہ نہیں۔ کیا ایسا اکثر نہیں ہوتا؟ گجرات کے حوالے سے انکوائری رپورٹ میں مودی جی کو کہاں بری کیا گیا تھا؟ مگر عدالتوں نے انہیں رہا کر دیا اور اب کوئی اس پر بات نہیں کرتا۔ اس سے بڑی مثال ٹونی بلئیر کی دیکھ لیں چلکوٹ رپورٹ میں اسے ملزم قرار دیا گیا مگر عدالتیں اسے نہیں پکڑ رہیں۔ نائن الیون رپورٹ کے 28صفحات غائب ہیں کیونکہ شاید اس میں حساس معلومات ہوں یا امریکیوں کی نااہلی کا سراغ یا پھر کسی سازش کے تانے بانے۔ اس میں موجود کچھ لوگوں کو رہا کر دیا گیا کیونکہ بش فیملی کے ساتھ ان کے تجارتی تعلقات تھے۔

امریکہ نے پاکستان کو تباہ کیا

جنرل درانی نے افغانستان کے حوالے سے کہا کہ افغانستان میں ہم طالبان یا اشرف غنی یا امریکہ سے کم مجرم ہیں۔ حقانی نیٹ ورک کیوں نیٹ ورک ہے؟ میں بھی نہیں جانتا۔ بھارت ہمیشہ ایسی صورت حال تخلیق کرتا رہتا ہے کہ جس میں پاکستان کو مجرم دکھایا جا سکے لیکن امریکہ کو نہیں جس نے پاکستان کوتباہ کیا ہے۔ امریکہ کی پچھلے پندرہ سال کی رپورٹیں دیکھ لیں جو شہری ہلاکتوں، پیسوں کے خرچ کے حوالے سے شائع ہوئیں مگر کسی کو سزا نہ ہوئی کیوں؟ کیونکہ سیاسی شرمندگی ہوتی تھی اور کہہ کیا دیا جاتا ہےکہ یہ پاکستان کی سازش ہے۔

حافظ سعید اس لیے اہم ہے کہ وہ بھارت کو گالیاں دیتا ہے

دولت نے جنرل درانی سے پوچھا کہ مجھے یہ تو بتائیں کہ حافظ سعید کی پاکستان کے لیے اہمیت کیا ہے۔ اس پر جنرل درانی نے جواب دیا کہ اگر حافظ سعید کو سزا ملتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ انڈیا کو خوش کرنے کے لیے ہے اور وہ بے گناہ ہے۔ حافظ سعید کو سزا دینے کے سیاسی اثرات بہت زیادہ ہیں۔ دولت نے کہا کہ حافظ سعید صرف اس لیے اہم ہے کہ وہ بھارت کو گالیاں دیتا ہے۔ جنرل درانی نے کہا نہیں حافظ سعید کو لٹکائیں تو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top