22- کلبھوشن یادو اور بلوچستان میں امریکی جاسوس

22- کلبھوشن یادو اور بلوچستان میں امریکی جاسوس

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب (Spy Chronicles) کا خلاصہ ۔۔۔ بائیسواں باب

کلبھوشن یادو کا قصہ کیا ہے؟

آدیتیہ سنہا نے پوچھا کہ کلبھوشن یادو کی کیا کہانی ہے۔ اس پر دولت نے کہا کہ جنرل صاحب ہی بتا سکتے ہیں کہ یہ پاکستان کا قصہ ہے۔ جنرل صاحب نے جواب دیا جناب دولت صاحب آپ زیادہ تجربہ کار ہیں۔ جنرل درانی نے کہا کہ پاکستان بھارت کی طرف سے پٹھانکوٹ کے خطرے کی پیشگی تیاری کے طور پر کلبھوشن یادو کو سامنے لایا تھا۔ دولت نے اس پر کہا کہ وہ کیا خطرہ تھا۔ اس پر جنرل درانی نے کہا بھارت پٹھان کوٹ کے واقعے کو ہماری اسٹیبلشمنٹ سے جوڑنے کی کوشش کر رہا تھا اس لیے ہم جوابی دلیل لائے تھے کہ تم لوگ پاکستان میں یہ کر رہے ہو۔ اور دوسری بات یہ کہ پاکستان اس وقت بلوچستان میں مصروف تھا، بلوچ مزاحمت کاروں کو پسپا کیا جا چکا تھا،ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد شہباز تاثیر کو رہا کرایا جا چکاتھا، اور بھارت کو خوفزدہ کرنا چاہتا تھا۔ یہ میرا اندازہ ہے ، ہو سکتا ہے حقیقت اس سے مختلف ہو۔ بہرحال ہم بھی جانتے ہیں کہ یہ کھیل کیسے کھیلا جاتا ہے۔ آپ لوگوں نے ہمارے اتنے لوگ پکڑ رکھے ہیں اور اب آپ کا ایک اہم بندہ ہمارے ہاتھ میں تھا۔

جب پاکستان مشکل میں گھرجاتا ہے تو ۔۔۔

جنرل درانی نے کہا کہ پاکستان جیسا ملک جب یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ہر سمت سے گھر چکا ہے، جیسے بھارت سے تعلقات، افغانستان کی صورت حال، امریکی جو پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے ہوں۔ جب یہ سب کچھ ہو رہا ہو تو کچھ نہ کچھ ایسا کر کے ہم بھی اپنے عوام کو بتا سکتے ہیں کہ ہم صرف الزامات کا سامنا نہیں کر رہے بلکہ ہمارے پس بھی ایسے شواہد موجود ہیں۔ کلبھوشن یادو اسی کی ایک مثال تھا۔

کلبھوشن یادو کا خفیہ مشن بڑی ناکامی تھا

سابق راچیف نے کلبھوشن کے حوالے سے جنرل درانی کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مجھے معلوم نہیں اس پورے معاملے کے بارے میں لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ بھارت نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا ہے کہ کلبھوشن ان کا جاسوس تھا اور یہ معقول بھی ہے کہ جب جاسوس پکڑا جاتا ہے تو ملک اس سے انکار کرتے ہیں اگر وہ جاسوس ہو بھی تو۔ اور اگر جاسوس نہ بھی ہو تو پھر بھی انکار کیا جاتا ہے۔ میرے پاس زیادہ معلومات نہیں لیکن اگر کلبھوشن را کا جاسوس تھا اور را کے کسی مشن پر تھا تو یہ ایک ناکام آپریشن تھا۔ یہ حیران کن بات ہے کہ ایک سینئر نیول افسر بلوچستان یا چمن کے علاقے میں مٹر گشت کر رہا ہو۔ شروع میں ہمارا خیال یہ تھا کہ اسے اغوا کر کے وہاں لے جایا گیا تھا۔ اور پھر اگلے دن مجھے کسی نے فون پر بتایا کہ تمھارا بندہ ٹی وی پر بول رہا ہے، میں تو حیران رہ گیا اگر یہ کوئی خفیہ آپریشن تھا تو اس کا کوئی بھی فائدہ کسی کو نہیں ہوا۔

کلبھوشن یادو منشیات کے دھندے سے جڑا تھا

سنہا نےسابق را چیف سے سوال کیا کہ اگر آپ را کے چیف ہوتے اور کلبھوشن یادو کا معاملہ ہوتا تو کیا کرتے۔ اس پر را چیف نے کہا کہ میں قطعا بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ اگر میں ہوتا تو اسے بہتر ڈیل کرتا میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر یہ شخص جاسوس تھا تو یہ خفیہ آپریشن انتہائی احمقانہ تھا۔ اس پر سنہا نہ کہا کہ کلبھوشن یادو ممبئی سے تھا اور اس کے دو رشتے دار ممبئی پولیس میں تھے۔ سابق را چیف نے کہا کہ ہاں یہ بات درست ہے اور وہ کسی قسم کا کاروبار چلا رہا تھا۔ سنہا نے کہا کہ کسی نے بتایا کہ اس کی اپنی کشتی تھی اور منشیات کے دھندے سے جڑا تھا۔ اس پر دولت نے کہا مجھے اس کا پتہ نہیں مگر وہ کسی نہ کسی قسم کے کاروبار سے ضرور جڑا تھا۔

پاکستان اور بھارت کی انٹیلی جینس ایجنسیاں تعاون کر سکتی ہیں؟

مسٹر دولت کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادو کے معاملے کو خاموشی سے ڈیل کیا جانا چاہیے تھا۔ بلکہ اس کو خیرسگالی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے تھا۔ جنرل جنجوعہ کو چاہیے تھا کہ وہ اجیت ڈووال کو فون کرتے اور انہیں بتاتے کہ ہم نے آپ کا بندہ پکڑ لیا ہے اور آپ فکر نہ کریں اس کا خیال رکھا جائے گا۔ کچھ عرصے بعد بتائیے گا کہ اس کا کیا کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان اور بھارت کی انٹیلی جینس ایجنسیاں تعاون کر سکتی ہیں کہ نہیں اگر نہیں تو کیوں؟ مگر آئی ایس آئی ایسی ہی ذہین ہے اس نے ہمارا بندہ پکڑا اور ٹی وی پر لے آئے جیسے ہم نے کارگل وار میں کیا تھا جب پرویزمشرف اور جنرل عزیز کی کال ہم نے انٹر سیپٹ کی اور ٹی وی پر چلا دی۔

کلبھوشن یادو کے معاملے پر خاموشی کیوں ہو گئی

سنہا نے اس پر سوال کیا کہ کلبھوشن کے معاملے پر پہلے تو بہت شور مچا مگر پھر اچانک خاموش چھا گئی اس کی وجہ کیا ہے۔ اس پر جنرل درانی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے اس پر زیادہ شورشرابا کھڑا نہیں کیا گیا۔

شروع دن سے ہی بلوچستان کو ٹھیک طریقے سے ڈیل نہیں کیا گی

بلوچستان کے حوالے سے جنرل درانی نے کہا کہ شروع دن سے ہی بلوچستان کو ٹھیک طریقے سے ڈیل نہیں کیا گیا۔ قائداعظم حالات کو بہتر سمجھتے تھے۔ بلوچستان میں کچھ پشتو ڈویژن ہیں کچھ بلوچ، جہاں بلوچ قبائل ہیں اور ان سب سے اوپر براہوی۔ بلوچستان میں قدرتی وسائل کا بڑا ذخیرہ ہے۔ مگر ہم نے جس طرح وہاں حالات بگاڑے اس کی وجہ سے ان وسائل کو استعمال نہیں کیا جا سکا۔ بلوچستان بہت ہی اہم علاقہ ہے اس خطے میں سب کو ہی دلچسپی ہے کیونکہ یہاں قدرتی گیس ہے اور یہ شاندار گزرگاہ ہے۔ وہاں چند ہزار لوگ ہی شر پسندہیں جنہیں اسلحہ باہر سے مل رہا ہے۔

بلوچستان میں بھارت سے زیادہ امریکی جاسوس موجود ہیں

افغانستان کے حوالے سے جنرل درانی نے کہا کہا افغانستان میں بھارتی سفارت خانہ اور چار قونصلیٹ ہیں۔ افغانستان میں کچھ بھارتی تعمیراتی کمپنیاں بھی ہیں جو جاسوس بھرتی کرتی ہیں۔ اورجہاں تک بلوچستان میں بھارتی جاسوسوں کی موجودگی کا تعلق ہے تو ہمارے ہاں اس حوالے سے مبالغہ کیا جاتا ہے جبکہ میں سمجھتا ہوں بلوچستان میں بھارت سے زیادہ امریکی جاسوس موجود ہیں۔ امریکہ کے علاوہ اور بھی ملکوں کے جاسوس وہاں موجود ہیں۔ امریکہ کی اس دلچسپی کی وجہ ایک تو ایران ہے اور دوسری یہ کہ اگر وہاں بے چینی جاری رہتی ہے تو امریکہ اپنی موجودگی کا جواز مل جائے گا۔ اگر بے چینی جاری رہتی ہے تو امریکہ نئی گریٹ گیم خراب کر سکتا ہے یا خود کھیل سکتا ہے۔ اصل میں یہ سارا کھیل افغانستان اور وسطی ایشیا کے وسائل کا ہے۔ افغانستان میں زیرزمین وسائل ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہیں اس حوالے سے بلوچستان بہت اہم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top