23a-بھارت میں سب کچھ آئی ایس آئی کرواتی ہے؟

23a-بھارت میں سب کچھ آئی ایس آئی کرواتی ہے؟

 آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب (Spy Chronicles) کا خلاصہ ۔۔۔ تئیسواں باب (پارٹ ون)

پاک، بھارت مذاکرات کیوں نہیں ہوتے؟

اجیت سنگھ دلت کہتے ہیں کہ پاک بھارت مذاکرات نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بھارت میں کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ وہ کہتے ہیں پاکستان مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے۔ جب واجپائی لاہور گئے تھے تو دہلی میں ہر کوئی خوش تھا۔ اگر آپ آج کسی سے کہیں کہ پاکستان سے مذاکرات ہونے چاہئیں تو وہ سمجھے گاکہ آپ کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ دہلی میں لوگ سوال کرتے ہیں کہ پاکستان سے مذاکرات کر کے کیا ملے گا؟ کشمیر کے مسئلے پر تو ہم پاکستان کی بات نہیں مان سکتے، دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ، ساتھ نہیں چل سکتے، ہم دہشت گردوں سے بات نہیں کر سکتے وغیرہ وغیرہ۔ وہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ انہیں پاکستان سے تب بات کرنی چاہیے جب ان کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہو۔ دلت کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں سے کہتا ہوں کہ ہماری پوزیشن کیسے مضبوط ہو گی۔ جب سب کچھ ٹھیک ہوتا ہے تو آپ کہتے ہیں اب مذاکرات نہیں کریں گے اور جب کچھ کام خراب ہوتا ہے تو بھی آپ کہتے ہیں مذاکرات نہیں کریں گے۔

کیا سب کشمیری مجاہدین دہشت گرد ہیں؟

امرجیت سنگھ دلت کی نظر میں سب کشمیری مجاہدین دہشت گرد ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں انیس سو اسی کی دہائی کے شروع میں دہشت گردی کا آغاز ہوا تھا۔ سکھ ٹریننگ لینے پاکستان جاتے تھے۔ پھر سکھوں کے بعد کشمیریوں کو بھی پاکستان میں ٹریننگ ملنا شروع ہو گئی۔ ہم نے سکھوں کے ساتھ کئی کشمیریوں کو بھی ایک جیل میں بند کیا تھا۔ ہمیں پتہ چلا کہ کشمیری اور سکھ عسکریت پسند ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔ جب ہم نے سکھوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو لڑائی کا طریقہ نہیں ہے۔ امرجیت سنگھ کہتے ہیں کہ کشمیر میں بھی شروع میں جے کے ایل ایف کے چند لڑکے ٹریننگ لینے ایل او سی کے پار گئے تھے۔ پھر بہت سے لوگ جانے لگے۔ ہم نے کشمیریوں سے پوچھا کیا ہو رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ سرحد پر آمدورفت روکنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ امرجیت سنگھ کہتے ہیں کہ انیس سو نوے کی دہائی کے شروع تک کشمیر میں مقامی لوگ لڑ رہے تھے لیکن پھر یہ سب ختم ہو گیا۔ پہلے کشمیری نوجوان ٹریننگ لے کر آتے تھے تو ہمیں ان کا علم ہوتا تھا وہ سرینگر میں پریڈ بھی کیا کرتے تھے۔ برہان وانی کے بعد کے دور سے یہ لوگ فیس بک تک محدود ہیں البتہ کبھی کبھار اڑی سیکٹر حملے اور پٹھان کوٹ جیسے واقعات سے بھارت کی پریشانی بڑھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شروع میں امریکی بھی دہشت گردوں کو آزادی کے سپاہی سمجھتے تھے۔ اس بات کا خطرہ بھی ہے کہ کشمیری عسکریت پسندی پنجاب کا رخ نہ کر لے۔ یہ سب کچھ پاکستان کے کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے کشمیری عسکریت پسندوں کے ہاتھوں غیرملکی سیاحوں کے اغوا کا ایک واقعہ بھی بیان کیا جس میں ایک سیاح کی گردن اڑا دی گئی تھی جبکہ دوسرا فرار ہو گیا۔ تین لوگ لاپتہ ہو گئے جن کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

دہشت گردی کے نام پر مذاکرات ختم نہیں ہوسکتے

جنرل درانی کہتے ہیں کہ دونوں ممالک میں مذاکرات ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے آپ ہر وقت بات کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ خفیہ ایجنسیوں کا کام ہے۔ اگر فرض کریں کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں طالبان سے بات نہیں کر رہیں تو یہ ان کی غلطی ہے۔ تو دہشت گردوں سے بات چیت کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مذاکرات ضروری ہیں اور ان میں دہشت گردی کے عنصر کو شامل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے یا کسی بھی اور مقام پر کوئی کارروائی ہوتی ہےتو ضروری نہیں ہوتا کہ ریاست ہر جگہ موجود ہو۔ انہوں نے کہا افغانستان پر حملے کے بعد امریکی کہتے تھے کہ طالبان ختم ہو گئے ہیں۔ لیکن دوہزار اٹھارہ میں امریکی کہتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات کیلئے ہماری مدد کرو۔ لیکن اب طالبان کہتے ہیں کہ ہم کیوں مذاکرات کریں کیونکہ ہم جیت سکتے ہیں۔ امریکی ہمیشہ تو یہاں نہیں ٹھہریں گے۔ جنرل درانی کہتے ہیں کہ طالبان پورے افغانستان پر قبضہ نہیں کر سکتے اور امریکی بھی فی الحال یہاں سے جانے والے نہیں ہیں۔

پنجابی طالبان

جنرل درانی کہتے ہیں کہ افغان طالبان ہم سے کہتے تھے کہ پنجابی طالبان کو ہم سے دور رکھیں۔ وہ کہتے ہیں پنجابی طالبان لڑائی میں بہتر نہیں ہیں۔ ان کا ایک رکن صبح اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ مجھے آج کا پلان بتایا جائے۔ جبکہ افغان طالبان نے اپنے لڑائی کے طریقوں میں ورائٹی پیدا کی ہے۔

بینظیر نے سکھوں کے خلاف بھارت کی مدد کی تھی

جنرل درانی کہتے ہیں کہ بینظیر نے سکھ تحریک کے خلاف بھارت کی مدد کی تھی۔ وہ کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ بینظیر کی طرف سے دی گئی مدد سے بھارت نے اتنی تاخیر سے کیوں فائدہ اٹھایا۔

کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دینا غلط ہے

جنرل درانی نے کہا کہ آج آزادی کی جنگ کو دہشت گردی کا نام دے دیا گیا ہے۔ جو کوئی ہتھیار اٹھاتا ہے اسے دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس طرح کشمیریوں کی تمام تر جدوجہدو کو دہشت گردی کا نام دینے کی کوشش کی ہے۔ جنرل درانی نے غیرملکی سیاحوں کے اغوا کو بھارتی انٹیلیجنس کا فلیگ آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس گروپ نے انہیں اغوا کیا تھا اس کا بعد میں کبھی کوئی ذکر نہیں سنا گیا۔ لیکن اس اغوا سے راتوں رات کشمیریوں کی ساری جدوجہد کو دہشت گردی قرار دے دیا گیا۔ کیونکہ اس واقعے میں امریکی سیاح بھی اغوا ہوئے تھے اس لئے دہشت گردی کا لیبل لگ گیا۔ انہوں نے کہا کشمیری جانتے ہیں کہ صرف جنگ لڑنے سے آزادی نہیں ملے گی اس لئے وہ سیاسی میدان میں بھی سرگرم ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top