24-بھارتی سرجیکل سٹرائیک نقلی تھیں

24-بھارتی سرجیکل سٹرائیک نقلی تھیں

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔چوبیسواں باب

 

چند بھیڑیں مارلینے کو سرجیکل سٹرائیک (surgical strike) نہیں کہتے

سرجیکل سٹرائیک کے حوالے سے سوال کے جواب میں جنرل درانی نے کہا کہ 2016میں کشمیر میں جو تحریک ابھری وہ مقامی تھی، اس کا الزام پاکستان کو نہیں دیا جا سکتا۔ مگر مودی اور اس کی ٹیم نے اس کو کنٹرول کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا وہ درست نہیں تھا۔ اور بھی کئی آپشن تھے۔ فوجی اصطلاحات میں سرجیکل سٹرائیک کا مطلب ہوتا ہے دشمن ملک کی اہم تنصیبات جیسے جوہری تنصیبات، جیسے جی ایچ کیو جیسے اسامہ بن لادن پر حملہ کرنا۔ لائن آف کنٹرول پر شیلنگ یا دشمن علاقے میں گھس کر چند بھیڑوں کو مارنے کا نام سرجیکل سٹرائیک نہیں ہوتا۔ ہاں اس سے آپ کا سیاسی مقصد پورا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے کچھ لوگ اسے سیاسی سرجیکل سٹرائیک قرار دے رہے ہیں بلکہ کچھ لوگ تو اسے نقلی سرجیکل سٹرائیک کہتے ہیں۔

سرجیکل سٹرائیک(surgical strike) پر پاکستان نے مکمل خاموشی اختیار کی

سابق را چیف نے کہا میں دہلی سے باہر تھا جب ٹی وی پر ایک اینکر کو کہتے سنا کہ ہم نے سرجیکل سٹرائیکس کی ہیں اور اس کے آگے ہمارے کوئی عزائم نہیں۔ دوسری طرف جب میں نے پاکستانی ردعمل کو دیکھا تو وہ مکمل لاتعلقی کا ردعمل تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ لیکن سابق بھارتی سکیورٹی ایڈوائزر شو شنکر مینن بتاتے ہیں کہ ایسا تو پہلے بھی کئی دفعہ ہو چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی چیزیں بارڈر پر ہوتی رہتی ہیں مثال کے طور پر پانچ سال قبل دو بھارتی فوجیوں کے بارڈر پر سر قلم کر دیے گئے، میں وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملا تو وہ پریشان تھے۔ میں نے بتایا کہ سر یہ بارڈر ہے ایسی چیزیں ہوتی رہتی ہیں۔ اس پر منموہن سنگھ نے کہا کہ لیکن وہ ٹی وی پر دکھائے گئے ہیں۔

جوہری ملکوں کے درمیان بھی مختصر جنگ ممکن ہے

جنرل درانی نے کہا کہ صرف 2001میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے اور 2008کے ممبئی حملے کی بات نہیں، مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ بھارت کبھی ردعمل بھی نہ دے۔ بھارت جانتا ہے کہ وہ پاکستان پر حملہ نہیں کر سکتا اس لیے وہ دیگر آپشنز پر غور کرتا رہتا ہے۔ ہماری طرف سے دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جوہری صلاحیتوں کے حامل ملکوں میں جنگ ناممکن ہے، مگر یہ ہو سکتی ہے۔ ایٹمی صلاحیت دو چار روزہ کراس بارڈر فائرنگ کو نہیں روک سکتے۔ کارگل کا واقعہ بھی تو جوہری صلاحیتوں کے اعلان کے بعد ہی ہوا تھا۔

میڈیا ہر چیز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے

آدیتیہ سنہا نے سوال کیا کہ اگر پٹھانکوٹ جیسا کوئی اور واقعہ ہوتا ہے تو کیسے سبنھالا جائے گا اور کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟ اس پر سابق را چیف نے کہا کہ پٹھان کوٹ، گرداس پور یا اڑی اور اخنور جیسے واقعات کئی بار ہو چکے ہیں۔۔ اس پر کافی سارا شور اٹھے گا اور ہو سکتا ہے کہ اس پر سرجیکل سٹرائیک بھی ہوں۔ مگر یہ قیاس آرائیاں ہیں ۔ اصل مسئلہ ہے میڈیا جو ہر چیز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ اس پر جنرل درانی نے کہا کہ میڈیا امن کا دشمن ہے، اگر امن ہوگا تو میڈیا کے لوگ بے روزگار ہو جائیں گے، چینل بند ہو جائیں گے۔

حیرت ہے کہ پٹھان کوٹ واقعے پر کیوں بھارت کا ردعمل نہیں آیا

جنرل درانی نے کہا کہ پارلیمنٹ پر حملے کے بعد بھارت نے بارڈر پر فوج جمع کر لی تھی، ممبئی حملوں کے بعد سخت ردعمل ہوا۔ لیکن مجھے نہیں معلوم کہ کیوں پٹھانکوٹ پر شدید ردعمل نہیں آیا۔ پتہ نہیں اب اس کی وجہ 2002سے سیکھے سبق تھے، نئی حکومت یا میاں نوازشریف یا شاید کوئی باہمی رضامندی کا پہلو تھا۔ مگر اڑی کے واقعے کے بعد سرجیکل سٹرائیک کرنے کا اعلان ہوااور اس پر بڑی واہ واہ کی گئی۔ عمل ردعمل کا یہ سلسلہ کئی طرح سے قابو میں رکھا جا سکتا ہے مگر بعض اوقات اس کی حرکیات قابو میں نہیں رہتیں۔

ممبئی حملوں جیسا واقعہ دوبارہ ہوا تو کیا ہوگا؟

سابق را چیف نے کہا کہ واجپائی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ہمیشہ خود کو روکے رکھا مگر نئی حکومت کے لیے یہ زیادہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ یہ زیادہ جنگجو اور طاقت کا اظہار کرنے والے لوگوں کی حکومت ہے۔ میں گرداسپور، پٹھان کوٹ یا اخنور جیسے واقعات پر فکر مند نہیں ہوں، لیکن اگر خدانخواستہ ممبئی جیسا کوئی اور واقعہ ہوتا ہے تو کیا ہوگا یا پارلیمنٹ پر حملے جیسا کوئی اور واقعہ ہوا تو کیا ہوگا؟ جب بھی اس طرح کا کوئی واقعہ ہوا امریکہ اور دوسرے ملک فورا حمایت کی پیشکش لے کے آئے مگر اس کو طے کرنے کے اور طریقے بھی ہو سکتے ہیں

بھارت دہشت گردی کے حوالے سے خود کو مظلوم دکھاتا ہے

جنرل درانی کا کہنا تھا کہ میں وہ شخص نہیں جو خطروں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا شوقین ہو مگر بہت سے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر ایسے ہیں جو خطے میں استحکام نہیں چاہتے۔ سابق را چیف نے کہا کہ بھارت دہشتگردی کے حوالے سے خود کو مظلوم دکھاتا ہے مگر بے چارے کشمیریوں کی حالت دیکھیں۔ وہ لوگ جو خطے میں استحکام نہیں چاہتے وہ بھی کبھی کبھار بے چارے کشمیریوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے کچھ دیر چپ بیٹھ رہتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ 2017کا سال قدرے پرسکون رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top