25a-بھارتی سمجھتے ہیں کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا

25a-بھارتی سمجھتے ہیں کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔پچیسواں باب، پارٹ ون

بھارتی فوج کے جرنیلوں نے کہا ہم پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں لڑ سکتے

2002میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد بھارت نے آپریشن پراکرام کے تحت پاکستان کی سرحد پر فوج جمع کرنا شروع کی۔ اس وقت مسٹر دولت حکومت میں تھے اور بھارت کے وزیراعظم تھے واجپائی۔ اس حوالے سے سابق را چیف نے کہا کہ واجپائی کے پاس اس وقت واحد آپشن یہی تھی کہ بارڈر پر فوجیں جمع کر کے پاکستان کو دبائو میں لایا جائے۔ آپریشن پراکرم کا مقصد قطعا بھی جنگ نہیں تھا ، بھارتی فوج کے جنرل بھی کہہ رہے تھے کہ ہم جنگ نہیں لڑ سکتے اور ویسے بھی پاکستان کے ساتھ جنگ ممکن نہیں تھی نہ ہی اس سے کوئی نتیجہ نکل سکتا تھا۔

امریکہ کی موجودگی میں بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا

2002میں بھارتی فوج کی بارڈر پر نقل وحرکت کے حوالے سے جنرل درانی کا کہنا یہ تھا کہ نائن الیون کے بعد بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے حقیقی اہداف کیا تھا یہ تو میں نہیں جانتا لیکن اس کی وجہ سے خطے کی صورت حال بہت کشیدہ ہوگئی۔ امریکہ کے پاکستان حملے کے بعد دہلی میں پاکستان کے خلاف اس طرح کی کارروائی کی آوازیں اٹھنے لگی تھیں۔ پاکستان مغربی سرحدوں پر مصروف تھا اور مشرقی سرحدوں کو گرم کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ جہاں تک بات ہے بھارت کا فوج کو سرحد پر لانے کی، تو اگرچہ میں اس وقت ملک میں نہیں تھا لیکن پاکستان میں یہ سب کو معلوم تھا کہ یہ فوجی نقل و حرکت جنگ کے لیے نہیں ہے بلکہ پاکستان کو دبائو میں لانے کے لیے ہے۔ جوہری ہتھیاروں اور امریکہ کی پاکستان کی موجودگی میں جنگ ہوتی تو پاکستان کو زیادہ فائدہ ہونا تھا۔ اور پاکستان کو اس کا ایک اور فائدہ بھی ہوا۔ پاکستانی فوج عرصے سے غیر جنگی حالت میں تھی بھارت کی فوجی موبلائزیشن کے بعد پاکستان آرمی کو جنگی تربیت کا اچھا موقع مل گیا۔

پاکستان جنگ سے نہیں حماقتوں کی وجہ سے ٹوٹا تھا: سابق را چیف

آدیتیہ سنہا نے سوال کیا کہ جب بھارتی فوجیں سرحد پر آ بیٹھی تھیں تو کیا پاکستان ذرا سا بھی نہیں ڈرا تھا۔ اس پر جنرل درانی نے کہا دشمن آمنے سامنے ہوں تو کوئی سکون سے نہیں بیٹھ سکتا۔ فوجیں سرحد پر ہوں اور کچھ غلط ہو جائے تو مشکل پیدا ہو سکتی ہے۔ میں نے اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احسان سے پوچھا تو ان کا جواب تھا جنگ کا امکان نہیں ہے۔ بھارت نے صرف پاکستان کو دبائو میں لانے کے لیے فوجیں سرحد پر جمع کی ہیں۔ جس کے فائدے بھی ہیں نقصان بھی۔ اس پر سابق را چیف نے کہا کہ یہ بات بجا ہے کہ جنگ کوئی آپشن نہیں ہے۔ پچھلی جنگوں سے بھی ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ہاں 71کی جنگ میں پاکستان کو مشرقی پاکستان سے محروم ہونا پڑا مگر اس کی وجہ بھی جنگ نہیں تھی بلکہ دیگر حماقتیں تھیں جو پہلے ہوئی تھیں۔

واجپائی نے کہا جنگ نہیں ہونے دیں گے

سابق را چیف کا کہنا تھا کہ جب واجپائی لاہور گئے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہم جنگ نہیں ہونے دیں گے اور میاں نوازشریف بھی اس موقف میں ان کے ساتھ تھے۔ مشرف نے اپنے دور حکومت میں کہا تھا کہ جنگ کا خیال سب سے آخر میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے دماغ میں آئے گا۔ مگر کچھ پاگل لوگ ہوتے ہں جو سرجیکل سٹرائیک وغیرہ پر سوچتے ہیں۔ اس لیے اگر جنگ نہ بھی ہو تو کوئی ایسا شخص پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے ایسا کچھ کر سکتا ہے۔ مگر اس صورت میں کیا ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

بھارتی فوج کو سرحد پر جمع کرنے کا ہمیں نقصان ہوا

سابق را چیف بولے کہ واجپائی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان سے امن کی ہر ممکن کوشش کی۔ واجپائی نے کہا کہ میں نے کارگل آپریشن کے روح رواں تک کو دعوت دی جس نے فوجی آمریت کا سہارا لیا اور صدر بن گیا تھا۔ مگر اس کے باوجود اب پارلیمنٹ پر حملہ ہو گیا ہے۔ سابق را چیف نے کہا کہ واجپائی اس وقت مشکل صورت حال میں تھے اور ان کے پاس آپریشن پراکرام کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا اگرچہ اس آپریشن کا ہمیں نقصان ہوا۔ آرمی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جیسلمیر میں فوج جمع کر دی گئی جبکہ وہاں درجہ حرارت 47ڈگری سنٹی گریڈ ہوتا ہے۔

بھارت میں یہ خام خیال ہے کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا

سابق را چیف کا کہنا تھا کہ ہمارے بھارت میں یہ خام خیال پیدا ہو چکا ہے کہ پاکستان نہیں رہے گا، یہ ٹوٹ جائے گا۔ میں نے کئی ذمہ دار لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں مگر پاکستان رہے گا ہی نہیں ٹوٹ جائے گا۔ جبکہ میرا موقف یہ ہے کہ مجھے ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ دنیا کبھی بھی پاکستان کو ٹوٹنے نہیں دے گی۔ امریکہ کبھی اس بات کی اجازت نہیں دے گا۔

جنگ کے تاجر ہمیں کہتے ہیں کہ تمھار دشمن گولی کی زبان سمجھتا ہے

سابق آئی ایس آئی چیف کا کہنا تھا کہ جنگ کو شروع کرنا آسان ہے، کوئی بھی احمق سرپھرا شخص اسے شروع کر سکتا ہے۔ اور پھر وہ لوگ ہیں کہ جنگ جن کا بزنس ہے ۔ ہم نے تو امریکہ میں ملٹری انڈسٹریل کمپلکس کے بارے بھی سن رکھا ہے اور دنیا کے باقی ملکوں میں بھی جنگ فروش موجود ہیں۔ وہ ہر وقت ہمیں بس یہی بتاتے رہتے ہیں کہ آپ کا دشمن صرف بندوق کی زبان سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ قومیت اور قومی مفاد جیسے نظریات بھی جنگوں کو تقویت دیتے ہیں جو جدید قومی ریاستوں کے بنیادی نظریات بن چکے ہیں شاید اسی لیے علامہ اقبال نے وطن کو نیا خدا قرار دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top