25b-فوج کو بھارت سے نفرت نہیں سکھائی جاتی

25b-فوج کو بھارت سے نفرت نہیں سکھائی جاتی

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔پچیسواں باب (پارٹ ٹو)

سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ حماقت ہے

سابق را چیف کا کہنا تھا کہ ہاں قومیت بھی مسئلہ ہے۔ جنرل درانی نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ آپ ملک کے مفاد کو اس وقت تک عزیز نہیں رکھ سکتے جب تک پورے خطے کا مفاد آپ کو عزیز نہ ہو۔ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ یہ افغان بارڈر قبضے میں رکھنے کو قومی مفاد کہنا حماقت ہے۔

کسنجر نے کہا تھا ایران دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا

سابق راچیف نے بتایا کہ جب ’’امن کی آشا‘‘ کے سلسلے میں کراچی میں اجلاس میں میں نے شرکت کی تو وہاں فرانس اور جرمنی کے سفیر بھی تقریر کرنے آئے تھے۔ فرانسیسی سفیر نے جنگ کے اثرات اور اس کے نتیجے میں یورپ کے قریب آنے کا ذکر کیا تھا جبکہ جرمن سفیر نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی نے شعوری طور پر فیصلہ کیا کہ جنگ اب آپشن نہیں ہے۔ کیونکہ جرمنی نے جنگوں میں بہت کچھ گنوایا ہے اور اب وہ جنگ کی طرف نہیں جائے گا۔ 2009میں بہت سے سفیر اچانک ہی افغان امور کے ماہر ہو گئے۔ نیٹو کا ایک گروپ دہلی آیا تو انہوں نے امن اور مذاکرات پر زور دیا میں نے ان سے کہا آپ لوگ نیٹو کے نمائندے ہیں یہ بتائیں کہ نیٹو کے ساتھ کیا ہوا۔ دنیا بدل رہی ہے دس سال قبل ہنری کسنجر دہلی کے دور پر آیا اور کہا تھا کہ ایران اگر سیدھا نہ ہوا تو دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا مگر دیکھ لیں ایران آج بھی موجود ہے۔

نیٹو کا روزگار تو جنگوں سے جڑا ہے

جنرل درانی نے کہا نیٹو کے سفیر امن کی بات کرتے ہیں مگر نیٹو خود جنگی ادارہ ہے۔ سابق را چیف نے کہا بلکل ایسا ہی ہے۔ جنرل درانی نے کہا نیٹو جنگی اتحاد ہے اور جنگ نہ ہو تو یہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ وارسا پیکٹ کے تحلیل کے بعد خیال تھا کہ نیٹو بھی ٹوٹ جائے گا مگر یہ نئے نئے اہداف ایجاد کرتا رہتا ہے تاکہ زندہ رہ سکے۔ نیٹو بنی تو اس لیے تھی کہ یورپ میں امن کو قائم رکھ سکے مگر بوسنیا کے بحران کے بعد اس کی سانسیں افغانستان یا دوسرے خطوں میں نا ختم ہونے والی جنگوں سے جڑی ہیں۔ ان کا روزگار لگا ہوا ہے۔ سابق را چیف کا کہنا تھا کہ کسنجرنے کہا تھا کہ نیٹو افغانستان میں ناکام ہوئی تو مٹ جائے گی۔

پاکستان میں کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ خطے میں مسائل رہیں تاکہ  امریکہ نہ جائے

جنرل درانی نے کہا کہ خود پاکستان میں محدود تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کا مشورہ ہے کہ اس خطے میں مسائل موجود رہیں تاکہ امریکہ یہاں ملوث رہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اس سے ایک تو معاشی مدد ملتی رہے گی اور دوسرا بھارتی غلبے کا خواب پورا نہیں ہوگا۔ افغان طالبان کو دیکھ لیں ان کی اکثریت جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے۔ مگر کچھ لوگ ہیں جو بری صورت حال سے زیادہ سے زیادہ نفع اٹھانا چاہتے ہیں۔ دیکھیں نہ انہیں نیٹو سے سالانہ 500ملین ڈالر مل رہے ہیں۔جنگ کے بغیر کئی اہداف ہیں جو پورے نہیں ہو سکتے، جنگ نہ ہوتی تو بنگلہ دیش نہ بنتا ، کویت جنگ نہ ہوتی تو امریکہ کو اس خطے میں قدم جمانے کا موقع نہ ملتا، افغانستان پر حملہ نہ ہوتا توامریکہ اندرون ملک نائن الیون کا تسلی بخش ردعمل ثابت نہ کر پاتا۔

پاکستان اب امریکہ سے زیادہ اسلحہ کیوں نہیں خرید رہا۔

جنرل درانی نے کہا امریکہ کیا چیز ہے جو سب سے زیادہ بیچتا ہے، جی اسلحہ۔ چند ہفتے قبل ہی ایک سیمینار میں امریکی انڈر سیکرٹری نے کہا کہ بھارت امریکہ سے بہت سا اسلحہ خرید رہا ہے جس پر ہم خوش ہیں۔ اس پر امرجیت سنگھ نے کہا کہ پاکستان کیوں آج کل زیادہ اسلحہ امریکہ سے نہیں خرید رہا۔ اس پر جنرل درانی نے کہا شاید ہمارے پاس پیسے ختم ہو گئے ہیں۔ اس پر دولت نے کہا تو وہ آپ کو پیسے دیں گے۔ جنرل درانی نے کہا کہ ہم ان سے ایف 16 بھی مانگیں تو کہتے ہیں کہ جب تک آپ حقانی نیٹ ورک کے پیچھے نہیں جاتے ایف 16 پر کوئی سبسڈی نہیں ملے گی۔

افغانستان پر امریکی حملہ امریکیوں کو خوش کرنے کے لیے تھے

جنرل درانی کا کہنا تھا کہ عالمی امور جتنے بھی اہم ہوں بات اندرونی ملکی سیاست ہی کی اہم ہوتی ہے۔ امریکہ نے نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملہ کیوں کیا تھا کیونکہ امریکا کی اندرونی سیاست خون مانگ رہی ۔ پاکستان نے کہا تھا کہ آپ کو اسامہ چاہیے تو ہم آپ کو اسامہ لا دیتے ہیں افغانستان پر حملہ نہ کریں۔ لیکن امریکی اس حل سے مطمئن نہ ہوتے۔ اس لیے اندرونی سیاست کو بچانے کے لیے امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔

پاکستان فوج کو بھارت سے نفرت نہیں سکھائی جاتی

جنرل درانی نے کہا کہ ہم آرمی میں دوران تربیت اپنے فوجیوں کو بتاتے ہیں کہ دشمن فوج سے لڑیں، جی جان لگا کر لڑیں، کیونکہ آپ کا نشانہ چوک گیا تو شاید ان کا نشانہ نہیں چوکے گا۔ مگر ان سے نفرت کرنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ وہ بھی اپنے ملک کے لیے وہی کام کر رہے ہیں جو آپ اپنے ملک کے لیے کر رہے ہیں۔ ایک امریکی وفد نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا آپ فوج کو بھارت سے نفرت سلیبس میں سکھاتے ہیں تو میں نے کہا ایسا نہیں ہے، بلکہ میں نے غصے سے کہا ایسا امریکی فوج میں ہوتا ہے۔ آج بھی یہی ہوتا ہے کہ دوران امن پرچم کشائی کی تقریبات ہوتی ہیں دونوں ملکوں کے فوجی ایک دوسرے سے مذاق کرتے ہیں، بلکہ چائے کافی تک ساتھ پیتے ہیں۔

پاک بھارت فوجی جرنیل جنگ نہیں چاہتے

سابق را چیف نے بتایا کہ میرا تعلق شمالی بھارت سے ہے میرے کئی رشتے دار فوج میں ہیں۔ جوانی میں جنگ کا جذبہ ہوتا ہے مگر پھر پتہ چل جاتا ہے کہ جنگ گندا کام ہے جو کوئی بھی نہیں چاہتا۔ میرا ایک کزن 65کی جنگ میں چھمب میں تعینات تھا جب وہ واپس آیا تو صدمے کی کیفیت میں تھا۔ اس نے بتایا کہ جنگ میں ایک نوجوان پاکستانی سیکنڈ لیفٹیننٹ جاں بحق ہوا تھا اس کی وجہ سے میں کئی راتیں نہ سو پایا۔ اس نے بتایا کہ جب مرنے کے بعد میں نے اس نوجوان پاکستانی کی جیبیں کھنگالیں تو اس میں اس کی منگیتر کا ایک خط تھا۔ اس خط کو دیکھ کر میرا دل دہل گیا۔ سابق را چیف نے بتایا کہ جب میرا یہ کزن جنگ سے واپس آیا تو وہ رات کو چیخیں مار کر اٹھ بیٹھتا تھا۔ اسے ڈرائونے خواب آتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاک بھارت فوجی جرنیل جنگ نہیں چاہتے اس لیے میں کہتا ہوں دونوں ملکوں کی فوجی قیادت میں بات چیت ہونی چاہیے۔ اسی بنیاد پر میں ہمیشہ یہ کہتا رہا ہوں کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کو آپس میں ملنا چاہیے۔ جنرل درانی نے بھی اس سے اتفاق کیا ان کا کہنا تھا کہ آج کی جنگیں بہت تباہ کن ہیں۔ ماضی کی جنگوں میں چند سو یا چند ہزار لوگ مرتے تھے اب تو شہر کے شہر ملیا میٹ ہو جاتے ہیں۔ بہترین فوجی حکمت عملی وہی ہے جو سن زو نے سکھائی تھی کہ لڑے بغیر جیتنا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top