26a-وعدوں سے مکر جانا امریکیوں کے ڈی این اے میں ہے

26a-وعدوں سے مکر جانا امریکیوں کے ڈی این اے میں ہے

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔چھبیسواں باب (پارٹ ون)

تعاون کے بغیراسامہ آپریشن بہت خطرناک ہو سکتا تھا

سابق را چیف کا اپنی کتاب (Spy Chronicles) میں کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کے پاکستان سے پکڑے جانے کے بعد پاکستان نے حالات کو اچھے طریقے سے ڈیل کیا۔ اسددرانی نے بتایا کہ 2مئی 2011 کو میں دبئی میں تھا جب بی بی سی کی کال آئی کہ وہ اسامہ پر ایک پروگرام کرنا چاہتے ہیں جو گذشتہ رات مارا گیا ہے۔ میں اس بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا لیکن چونکہ میں نے پہلے کبھی یہ کہا تھا کہ اسامہ قبائلی علاقوں میں نہیں ہوگا وہ کسی بڑے شہر میں ہی ہوگا۔ اور کیونکہ یہ بات ٹھیک ثابت ہوئی تھی تو اس لیے شاید وہ سمجھ رہے تھے کہ میں کچھ جانتا ہوں۔ میں نے وہاں یہی کہا تھا کہ میرا خیال ہے کہ اسامہ کے پکڑنے میں پاکستان نے تعاون کیا ہوگا کیونکہ تعاون کے بغیر ایسا آپریشن بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ مجھ سے پوچھ کہ پھر آپ اس کو مان کیوں نہیں رہے تو میں نے اس کے جواب میں کہا کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر۔ کیونکہ پاکستان میں اس بات کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جانا تھا کہ امریکہ سے پاکستان نے اس شخص کے قتل میں تعاون کیا جو بہت سے پاکستانیوں کے لیے ہیرو کا درجہ رکھتا تھا۔

ایبٹ آباد آپریشن پر پاکستانی تعاون کے میرے بیان پر ہنگامہ مچ گیا

جنرل درانی نے اپنی کتاب (Spy Chronicles) میں بتایا کہ جب پہلی بار میں نے کہا کہ اسامہ آپریشن میں پاکستان کا تعاون بھی شامل رہا ہوگا تو اس بات پر کوئی ہنگامہ نہیں مچا تھا لیکن دوسال بعد کسی اور جگہ میں نے وہی باتیں کیں تو سوشل میڈیا پر طوفان مچ گیا۔ کسی نے یہ غلط خبر پھیلا دی کہ آئی ایس آئی کا سابق سربراہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کو چھپا رکھا تھا۔ سیموئر ہرش نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ میرے پاس شواہد ہیں کہ ایبٹ آباد آپریشن میں پاکستان نے امریکہ سے تعاون کیا تھا لیکن میری بات کوئی نہیں مانے گا۔ میں نے اسے کہا آپ نے جو بھی لکھا ہے وہ مجھے بھیج دیں میں اپنا تبصرہ اس پر کردوں گا۔ سیموئر ہرش اچھا صحافی ہے مگر اسامہ پر اس کی رپورٹ کی امریکہ نے بھی تصدیق نہیں کی۔

کیسے امریکی ہیلی کاپٹر پاکستان کی سرحدوں میں 150کلومیٹر اندر تک جا پہنچے

ایبٹ آباد آپریشن میں پاکستان کے تعاون کے حوالے سے جنرل درانی کا اپنی کتاب (Spy Chronicles) میں کہنا تھا کہ سیموئر ہرش کے علاوہ بریگیڈئیر شوکت قادراور کینیڈا میں مقیم ایک سابق بریگیڈئیر کی کتاب میں بھی یہ ذکر ہے کہ پاکستان کا تعاون اس آپریشن میں ساتھ تھا۔ پاکستان نے اتنی بڑی ناکامی کا داغ سہہ لیا کہ امریکی ہیلی کاپٹر پاکستان کی سرحد کے اندر  150 کلومیٹر تک گھس آئے مگر تعاون کی بات نہ مانی۔

وعدوں سے مکر جانا امریکیوں کے ڈی این اے میں ہے

جنرل درانی کا اپنی کتاب (Spy Chronicles) میں کہنا تھا کہ امریکہ اپنے وعدوں کو کبھی احترام نہیں دیتی۔ ساٹھ کی دہائی میں کینیڈی نے خود ایوب خان سے کہا تھا کہ اگر وہ تبت اور مشرقی پاکستان میں امریکی اثاثے تخلیق کرنے میں امریکہ کی مدد کرے تاکہ وہ چین کے جنوب میں مضبوط ہو سکے، تو کشمیر کے بارے میں امریکہ کچھ نہ کچھ کرے گا۔ یہ بات  بروس ریڈل کی کتاب میں موجود ہے۔ ایوب خان نے ہچکچاتے ہوئے یہ بات مان لی مگر امریکہ نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا۔ افغانستان اور اسامہ کے حوالے سے بھی کئی وعدے تھے جو امریکہ نے کیے مگرایفا نہ کیے۔ وعدوں سے مکرنا امریکیوں کے ڈی این میں ہے۔

جب پاکستان پر ڈبل گیم کھیلنے کاالزام لگا

اس پر سابق راچیف نے سوال کیا کہ امریکہ کے ساتھ اسامہ پر آپ کی ڈیل کیا تھی؟ اس پر جنرل درانی نے کہا مجھے نہیں پتہ میرا بس تخمینہ ہے۔ اس وقت آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی تھے۔ وہ میرے شاگرد تھے اور پیشہ ور تھے، آخری بار جب میں نے ان سے پوچھ کے اسامہ پر کیا ڈیل تھی تو اس وقت سے انہیں مجھ سے دور رکھا جا رہا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کیوں اس وقت کے آرمی چیف اور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اس پر ابھی تک خاموش ہیں۔ انہیں یہ راز افشا کرنا چاہیے کیونکہ ہم ہر طرف سے تنقید کی زد میں ہیں۔ ہمیں نااہل ہونے کا طعنہ ملا، ڈبل گیم کا الزام لگ رہا ہے مگر بدلے میں ہمیں کیا ملا۔ یہ وہ بات ہے جو میں جاننا چاہتا ہوں۔ جب بی بی سی کے پروگرام میں مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا ڈیل ہوئی تھی تو میں نے اپنا اندازہ بتایا تھا کہ افغانستان سے امریکہ کا انخلا۔ میرا خیال ہے یہ ڈیل پیسوں سے متعلق نہیں تھی ۔ ہال بروک کی ٹیم میں شامل ولی نصر بھی ایگزٹ سٹریٹیجی کی بات کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top