27a-افغانستان، طالبان، بھارت اور پاکستان

27a-افغانستان، طالبان، بھارت اور پاکستان

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ستائیسواں باب (پارٹ ون)

کشمیر کا مسئلہ چٹکی بجاتے ہی حل ہو سکتا ہے

سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل اسد درانی نے کہا کہ ایک زمانے میں میرا خیال تھا کہ پاک بھارت بامعنی تعاوان کی راہ افغانستان سے ہو کر گزرتی ہے مگر ایسا ہو نہ سکا جسکی وجہ ہمارا مائنڈ سیٹ ہے۔ اس پر سابق راچیف نے احمد رشید کی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت افغانستان کا مسئلہ حل کر لیتے تو کشمیر کا مسئلہ چٹکی بجاتے ہی حل ہو جاتا۔ سابق راچیف نے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے بھارت کی پالیسی مجھے کبھی سمجھ میں نہیں آئی، جب میں سروس میں تھا تو اس وقت بھی مجھے لگتا تھا کہ بھارت نے اپنا سارا وزن شمال اتحاد کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ افغانستان میں خانہ جنگی اسی طرح جاری رہے گی جب تک مرکزی فریق طالبان کو مذاکرت میں شامل نہیں کیا جاتا۔ اور مذاکرات نہایت ضروری ہیں بلکہ اب تو امریکہ بھی مذاکرات ہی کی بات کر رہا ہے۔

افغانستان میں پاکستانی اثرورسوخ کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتے: سابق راچیف

سابق را چیف نے کہا کہ ہم نےافغان طالبان کو تسلیم نہ کر کے اہم موقع گنوایا تھا۔ ہم افغانستان میں پاکستانی اثرورسوخ کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتے ، لیکن ہم طالبان کے ساتھ تعلقات بنانے میں کامیاب ہو جاتے تو اس سے ہمیں خاصی مدد مل سکتی تھی۔ خود امریکہ یہ مانتا ہے کہ مذاکرات میں پاکستان کا کردار مرکزی ہے۔ مذاکرت پاکستان کے بغیر ممکن ہی نہیں کیونکہ افغانستان کے کلیدی کردار ان کے ساتھ ہیں اس لیے سارے کارڈ پاکستان کے پاس ہیں۔ مجھے تو ہم سمجھ نہیں آتی کہ ہم افغانستان میں تعاون کی پالیسی کی بجائے تکرار کو پالیسی کیوں بنائے ہوئے ہیں۔ مجھے ذرا برابر بھی شک نہیں کہ افغانستان میں بھارت نے جو بھی کام کیا یا جو بھی سرمایہ کاری کی، وہاں ہم آگے نہیں بڑھ سکے، تو تعاون کی پالیسی کو اختیار کرنے میں آخر کیا برائی ہے۔

امریکہ چاہتا پے پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کرے

افغانستان کے حوالے سے جنرل درانی کا کہنا تھا کہ ہم پر اکثر الزام دیا جاتا ہے کہ ہم بھارتی اثر ورسوخ کو کم کرنے میں لگے ہیں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ بھارت کا افغانستان میں اثرورسوخ ہے، خاص طور پر ثقافتی میدان میں۔ یہ سوچنا کہ ہم سارا کھیل بھارتیوں کو گیم سے باہر رکھنے کے لیے کھیل رہے ہیں، سمجھدارانہ خیال نہیں۔ افغانستان کا حقیقی مسئلہ ہے امریکی اہداف، اور امریکہ پاکستان سے چاہتا ہے کہ وہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف پیش رفت کرے جبکہ طالبان اور حقانی کہتے ہیں کہ ہم ’قابض بیرونی قوتوں‘ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اگربالفرض ہم ایسا کرتے بھی ہیں کہ پاکستانی علاقوں میں مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائی کریں تو یہ ہمارے لیں تباہ کن ہوگا۔

فوجی آپریشن کے نتیجے میں تحریک طالبان پاکستان بنی

جنرل درانی کا کہنا تھا کہ 2004 میں پاکستان نے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کیا تو اس کا نتیجہ نکلا تحریک طالبان پاکستان کی صورت میں۔ حقیقت یہ ہے کہ قبائلیوں اور عام لوگوں میں بھی ان افغان مزاحمت کاروں کے لیے نرم گوشہ ہے جو امریکی قبضے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اگر ہم ان کے خلاف جاتے ہیں تو نہ صرف ہمارے اپنے لوگ ہمارے خلاف چلے جائیں بے بلکہ وہ گروپ بھی ہمارے خلاف ہو جائیں گے جنہوں نے ہمیں کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ لوگ تو2001 میں امریکا کہ اتحادی بننے پر بھی ناخوش ہیں لیکن وہ ہماری مجبوری کو دیکھتے ہوئے اسے بھلانے پر تیار ہیں۔ اگر ہم افغان طالبان یا حقانیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو جو نقصان ہمیں ہوگا اتنا نقصان بھارت یا امریکہ بھی ہمیں نہیں پہنچا سکتے۔

بھارتی فلموں کا افغان ثقافت پر گہرا اثر پڑ رہا ہے

بھارتی فلموں کے افغان کلچر پر اثر کے حوالے سے جنرل درانی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اگر کوئی ہم سے اردو میں بات کرتا ہے تو اس کی وجہ ہیں بھارتی فلمیں۔ 2015 میں جنرل عزیز کے ساتھ میں افغانستان گیا تو ایک دس سالہ لڑکی نے دونوں ہاتھ باندھ کر پرنام کرتے ہوئے ہم سے اردو میں بات کی۔ میں نے کہا یہ پرنام کہاں سے سیکھا تو لڑکی نے کہا ٹی وی پر دیکھا تھا۔ مسٹر دولت کی یہ بات ٹھیک ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں اثر و رسوخ حاصل ہے۔ یہ رسوخ جغرافیے کی وجہ سے ہی جو خدا نے ہمیں دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top