28a-مودی نوازشریف رائیونڈ ملاقات اور امریکا کا کردار

28a-مودی نوازشریف رائیونڈ ملاقات اور امریکا کا کردار

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔اٹھائیسواں باب (پارٹ ون)

2003کے سیز فائر میں امریکہ کا کردار تھا

سابق راچیف نے پاک بھارت تعلقات میں امریکی کردار کے حوالے سے اپنے تجربات کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اکثر مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ لوگ امریکہ کے دبائو میں ہوتے ہیں، تو میں نے کہا یہ دبائو میں نے تو کبھی مایوس نہیں کیا۔ لیکن امریکی مداخلت یا ڈانٹ ہوتی ضرور ہے اور سہائے اور احسان دونوں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ 2003کے سیز فائر میں امریکہ کا کردار ضرور تھا۔ امریکہ کے ساتھ میرا براہ راست تجربہ سی آئی اے کے اینٹی ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کوفر بلیک کے واسطے سے ہوا۔ وہ برجیش مشرا سے ملنے آیا تھا، برجیش مشرا نے اسے میرے پاس بھیج دیا۔ را نے اسے حسب روایت ایک پریزنٹیشن دی۔ اس کے بعد اس نے کہا میں آپ سے پانچ منٹ اکیلے بات کرنا چاہتا ہوں۔ ہم چائے کی میز پر اکیلے جا بیٹھے تو اس نے مجھے کہا کہ ہم پاکستان پر دبائو ڈال رہے ہیں، آپ کچھ احمقانہ حرکت نہ کیجئے گا۔ میں نے جواب دیا ایسی حرکتیں ہم نہیں کرتے پاکستان کرتا ہے۔

مودی نوازشریف رائیونڈ ملاقات۔۔۔ اور امریکا کا کردار  

سابق راچیف نے مودی نوازشریف رائیونڈ ملاقات کے بارے میں جنرل درانی سے پوچھا کہ میرا خیال ہے اس کے پیچھے امریکا تھا، آپ کا کیا خیال ہے کہ امریکا کا کیا کردار ہوتا ہے؟ اس پر جنرل درانی نے کہا کہ یہ ہمیشہ ہی ہوتا ہے۔ اس پر دولت نے ہنستے ہوئے کہا ’ہمیشہ‘ ، میں یہی سننا چاہتا تھا۔ اس پر جنرل درانی نے کہا امریکہ ہروقت دبائو ڈالتا رہتا ہے، یا درخواست کرتا رہتا ہے یا مشورے دیتا رہتا ہے۔ یہ ہر وقت ہوتا رہتا ہے مگر اس کی کوئی زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ ہماری قیادت کے ذہنی رجحان پر اس کا انحصار زیادہ ہوتا ہے ، کوئی لیڈر ہوتا ہے جو دبائو لے سکتا ہے کوئی جھک جاتا ہے۔ مگر جہاں تک ہمارے کلیدی مفادات یا پالیسیوں کا تعلق ہے وہاں ہم ہمیشہ مزاحمت کرتے ہیں اور ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں۔

ہم خطے میں چین کی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتے، سابق را چیف

سابق راچیف نے کہا کہ پاکستان جانتا ہے کہ امریکہ سے کیسے تعلقات نبھانے ہیں، پاکستان یہ کافی عرصے سے کر رہا ہے اور پاکستان امریکہ کی کمزوریوں کو خوب جانتا ہے۔ پاکستان ایسا ملک ہے جو اسامہ بن لادن کی سرپرستی کرکے پھر اس کو واپس کرنے کے لیے بہت سے ڈالر نکلوا سکتا ہے۔ بھارت میں یہ صلاحیت نہیں ہے ، اس وقت کہا جاتا ہے کہ ہمارے امریکہ کے ساتھ خصوصی تعلقات ہیں لیکن ہمیں اس سے ملا کیا ہے؟ امریکہ سے تعلقات سدھارنے کے چکر میں روسیوں سے تعلقات کا ستیاناس کر لیا ہے، چین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہااورپڑوسیوں کے ساتھ بھی ہمارے کہیں اچھا تعلقات نہیں۔ امریکہ ہم سے یہ امیدیں لگا کر بیٹھا ہے کہ ہم اس خطے میں چین کی بڑھتی طاقت کو متوازن کر سکتے ہیں۔ یہ بھی ایک خام خیال ہے۔ کیونکہ اول تو ہم اس پوزیشن میں نہیں کہ چین کا مقابلہ کر سکیں اور دوم کوئی بھی بھارتی حکومت چین کے ساتھ ایک خاص حد سے زیادہ تعلقات کو خراب نہیں کرے گی۔

نائن الیون کے بعد امریکہ پر سعودی عرب پر حملے کا دبائو تھا

آدیتیہ سنہا نے جنرل درانی سے پوچھا کہ اگر امریکی زمین پر دہشت گردانہ حملے ہوتے ہیں تو ٹرمپ پاکستان کے حوالے سے کیا کرے گا؟ اگر اس کے سرے پاکستان سے ملے تو اس کا ردعمل خوفنا ک ہوگا۔ پاکستان پر چند بم گرانے کا ڈرامہ بھی رچایا جا سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بھارت کو کہے کہ پاکستان کو تھوڑا سا کھینچے۔ امداد تو وہ خیر کسی بھی وقت روک سکتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ کسی بھی حملے میں صرف کسی ایک ملک کو پورا الزام نہیں دیا جا سکتا۔ نائن الیون کے بعد انہوں نے سعودی عرب پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا حالانکہ پس پردہ اس کے لیے ان پر بہت دبائو تھا۔                                                                                          

پاک بھارت تنازعات امریکہ حل نہیں کرا سکتا

جنرل درانی نے کہا کہ کسی ایسے ملک پر جو کمزور ہو اور جواب نہیں دے سکتا ہو اس پر حملہ کرنا اور فوجیں بھیج دینا اور بات ہے لیکن پاکستان پر افغانستان جیسا حملہ مجھے نہیں لگتا کہ ممکن ہے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ایک دو جگہ پر چند بم گرادیے جائیں۔ مسٹر دولت نے اس پرکہا کہ میں نے امریکیوں سے اتنی بار کہا ہے کہ بہت ہو گیا آپ لوگ پاکستان پر دبائو کیوں نہیں ڈالتے تو امریکیوں کا جواب ہوتا ہے کہ ہم ایک خاص حدتک ہی امریکہ پر دبائو ڈال سکتے ہیں اس سے آگے ہم بے بس ہیں۔ جنرل درانی نے کہا یہ  بات بالکل درست ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان میں کچھ لوگوں میں یہ غلط خیال موجود ہے کہ امریکہ پاک بھارت مسائل حل کراسکتا ہے۔

نائن الیون کے بعد مشرف کو امریکہ نے دھمکی دی کہ نہیں؟

جنرل درانی نے مشرف کے حوالے سے کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکہ نے مشرف پر دبائو ڈالا کہ بندے بنو اور تعاون کرو۔ مشرف تعاون کرنا چاہتا تھا مگر وہ جانتا تھا کہ پاکستانی اس بات کو پسند نہیں کریں گے۔ اس لیے اس نے ایک کہانی گھڑی کہ میں کیا کرتا؟ امریکہ نے بمباری کرنے کی دھمکی دی تھی، کشمیر کاز خطرے میں تھا، ہمارے جوہری اثاثے چھین لیے جاتے، ہماری معیشت تباہ ہو جاتی۔ اور یہ ساری وجوہات بتا کر مشرف نے قوم کو بتایا کہ اس لیے میں نے یہ قبول کیا۔ لیکن قطعا بھی مشرف کو اس طرح سے نہیں دھمکایا گیا تھا۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ کچھ مطالبات مانے جاتے، کچھ رد کیے جاتے کچھ پر مذاکرات کیے جاتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top