28b-مشرف، صدام،مبارک امریکہ کی دوستی کے ڈسے ہیں

28b-مشرف، صدام،مبارک امریکہ کی دوستی کے ڈسے ہیں

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔اٹھائیسواں باب (پارٹ ٹو)

کیاٹرمپ طالبان سے ڈیل کرے گا؟

سابق راچیف نے جنرل درانی سے پوچھا کہ مشرف کے امریکہ تعلقات سے سب سے زیادہ پہلا نقصان تو جنرل محمود کو ہوا، امریکیوں نے ہی بتایا تھا کہ وہ ان تعلقات کے لیے اچھا نہیں ہے، اس لیے اسے راہ سے ہٹائو۔ اس پر درانی نے کہا بالکل ٹھیک ہے، ایسا ہی تھا۔ اس کے بعد سنہا نے جنرل درانی سے سوال کیا کہ کہا ٹرمپ طالبان سے ڈیل کرے گا؟ جنرل درانی نے کہا ہاں اس کے لوگ کریں گے۔ میٹس سیانا آدمی ہے اور گذشتہ دس سال سے پاکستان اور طالبان پر دبائو ڈال رہا ہے۔ وہ یقینا کوشش کریں گے کہ ایسی راہ نکل آئے جس میں طالبان کے سامنے جھک جانے کا تاثر نہ ملے۔

ٹرمپ خود کو ڈیل میکر سمجھتا ہے

سابق راچیف نے جب جنرل درانی سے پوچھا کہ کیا امریکہ طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے، تو جنرل درانی نے کہا بلکل ہمیشہ سے ہی یہ مذاکرات چل رہے ہیں۔ سابق راچیف نے کہا کہ ٹرمپ عملی آدمی ہے اگر اسے لگے گا کہ طالبان سے بات کرنا مفید ہے تو وہ اپنے لوگوں کو کہے گا کہ جائو اور ڈیل کرو۔ ٹرمپ خود کو ڈیل میکر سمجھتا ہے۔ جنرل درانی نے کہا کہ ڈیل ہر ملک کرتا ہے، پاکستان بھی ڈیل کرتا ہے۔ سابق راچیف نے کہا ہاں ڈیل تو اسرائیل بھی کرتا ہے۔

امریکہ کو جب کام ہو پاکستان کو آنکھیں دکھا کر کام نکال لیتا ہے

سابق راچیف نے کہا کہ امریکہ کے لیےپاکستان کو آنکھیں دکھانا آسان ہےاورجب بھی اسے کوئی کام نکالنا ہو وہ اس طریقے سے نکال لیتا ہے۔ اس پر جنرل درانی نے کہا کہ نائن الیون کے بعد ہم نے کوشش کی ڈلیور کرنے کی، مگر ان کی طرف سے ہمیشہ ڈومور کی رٹ لگی رہی چاہے یہ ہمارے قومی مفاد کے خلاف یا ہمارے بس سے باہر ہی کیوں نہ ہو۔ مگر بھارت پر امریکہ کا پریشر نہیں ہوتا۔ اس پر مسٹر دولت نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ امریکہ کو کہے کہ ہمارے پیچھے پڑے ہو بھارت کو کیوں کچھ نہیں کہتے ، دیکھو وہ کشمیر میں کیا کر رہا ہے؟

پاک بھارت جنگ میں امریکہ ثالث ہوا تو بھارت کا ساتھ دے گا

آدیتیہ سنہا نے سوال کیا کہ امریکہ کوکشمیر میں کیا دلچسپی ہو سکتا ہے یا اس کا کیا کردار ہو سکتا ہے ، اس پر جنرل درانی نے کہا کہ امریکی ہر ایشو پر ہی دلچسپی دکھانے کے شوقین ہیں مگر کشمیر میں ان کا کردار بہت محدود ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ یہاں کچھ کر نہیں سکتے اور دوسرا وہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کو دھمکانے میں ہمیشہ ناکام رہے ہیں۔ اس مسئلے پر وہ بھارت سے بھی کچھ ایسا نہیں کرا سکتا جو بھارت نہیں چاہتا۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ اگر خدانخواستہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہو جاتی ہے اور ہم امریکہ کو ثالث بنا لیتے ہیں تو وہ پاکستان کی نہیں بھارت کی حمایت کرے گا۔

نائن الیون کے بعد امریکہ کو کشمیر میں کوئی دلچسپی نہیں

سابق را چیف نے کشمیر کے حوالے سے امریکی دلچسپی کے سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ کی کشمیر میں جو بھی دلچسپی تھی اور نوے کی دہائی میں بہت سے امریکی کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے خطے میں آ جا رہے تھے، وہ دلچسپی نائن الیون کے بعد بالکل ختم ہوگئی ہے۔ نائن الیون گیم چینجر تھا بالکل پرل ہاربر کی طرح۔ اس نے امریکیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ حتی کے اس حملے کے بعد دہشت گردی کی پرانی تعریف کو ہی بدل دیا گیا۔ مجاہدین آزادی دہشت گرد قرار دے دیے گئے۔ مسٹر دولت نے کہا کہ پاکستان ہو یا بھارت دونوں ہی ملک ایسے نہیں کہ امریکہ یا کوئی بھی ملک ان پر دھونس جما سکے۔

مشرف، صدام، حسنی مبارک اور شاہ ایران امریکہ کی دوستی کے ڈسے ہیں

جنرل درانی کا کہنا تھا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب اپنے مسائل کے حل کے لیے ہم باہر والوں کو بلائیں گے تو جو بھی معاہدہ ہوگا وہ ان کے حق میں ہوگا اور ان کی شرطوں پر ہوگا۔ بندر اور بلی کی کہانی تو یاد ہوگی کہ جب پنیر کے ٹکڑے پر دو بلیوں نے اپنے جھگڑے میں بندر کو ثالث بنایا تھا اور سارا پنیر بندر لے اڑا تھا۔ سابق راچیف نے اس پر کہا کہ میں بالکل اتفاق کرتا ہوں ، امریکہ ہم دونوں ملکوں کی کھٹ پٹ سے خوش ہے۔ اس لیے یہ کرنا چاہیے کہ بھارت اور پاکستان خود اپنے مسائل اور تنازعات پر سوچیں۔ جنرل درانی نے اس پر کہا کہ ہنری کسنجر کا وہ مشہور قول سب کو یاد رہنا چاہیے کہ امریکہ کا دشمن ہونا خطرناک ہے مگر اس کا دوست ہونا جان لیوا ہے۔ مشرف ہو صدام، حسنی مبارک ہو یا شاہ ایران سب اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top