29-روس اور پاکستان کے درمیان برف پگھل رہی ہے

29-روس اور پاکستان کے درمیان برف پگھل رہی ہے

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔انتیسواں باب

روس دونوں ملکوں کا تماشا دیکھنے پر خوش ہے

آدیتیہ سنہا نے سوال کیا کہ کیا روس پاک بھارت تعلقات کی پیش رفت میں کوئی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس پر سابق را چیف نے کہا کہ روس کردار ادا کر سکتا ہے مگر کرے گا نہیں۔ پوٹین کے بارے میں چاہے آپ کچھ بھی جانتے ہوں وہ تماشا دیکھنے پر خوش ہے۔ ہمارے روس سے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں۔ مگر اب میں نہیں کہہ سکتا۔ ایک وقت تھا جب روس نے بھارت کی بہت مدد کی جیسے 71کی جنگ میں۔ اندراگاندھی کے دور میں روس بھارت تعلقات مثالی تھے۔

روس چین اور بھارت کا اتحاد۔۔۔۔ کیا ایسا ممکن ہے؟

سابق راچیف نے بتایا کہ وہ روس کے دورے پر گئے تو روس کے انٹیلی جینس چیف نے کہا کہ اگر ہم روس بھارت چین انٹیلی ایجنس اتحاد کی طرف جائیں تو آپ اس پر کیا کہیں گے۔ میں نے کہا یہ ایک شاندار خیال ہے مگر میرا سوال یہ ہے کہ چین کا اس پر ردعمل کیا ہوگا۔ اس پر روسی انٹیلی جینس چیف نے ہنستے ہوئے کہا کہ چین کا معاملہ ہم دیکھ لیں گے۔ آپ تو صرف یہ دیکھیں کہ پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا۔ اس پر ہم دونوں ہی ہنس دیے۔ اس کے بعد میں چین کے دورے پر گیا اور یہی بات کی تو انہوں نے اپنے روایتی انداز میں کہا کہ اچھا خیال ہے ہم اس کا جائزہ لیں گے۔ جیسے کہ وہ کسی یونیورسٹی کو کہنے جا رہے ہوں کہ اس پر تحقیق کرے۔

جب واجپائی نے روس کے انٹیلی جینس چیف کو ملنے سے انکار کیا؟

سابق را چیف نے بتایا کہ ٹربنکوف روسی خفیہ ایجنسی کا چیف تھا ، جب روسی اقتدار یلسن سے پوٹن کو منتقل ہوا تو ٹربنکوف کو خارجہ امور کا وزیر مملکت بنا دیا گیا۔ جب وہ دہلی دورے پر آیا تو اس نے مجھ سے کہا کہ میری واجپائی سے ملاقات کرائو۔ میں نے جواب میں کہا کہ واجپائی انٹیلی جینس کے لوگوں سے نہیں ملتے۔ اس پر ٹربنکوف نے مجھے کہا کہ یاد ہے میں نے تمھاری ملاقات پیوٹن سے کرائی تھی۔ تم واجپائی سے ملو اور اسے بتائو کہ تم مجھے جانتے ہو، واجپائی نے کمال مہربانی دکھائی اور میرے کہنے پر ٹربنکوف سے ملاقات کرلی۔ سابق راچیف نے بتایا کہ ہم امریکیوں سے جوہری ڈیل کے بعد ان سے تعلقات اتنے بڑھا لیے کہ روس سوچنے لگا کہ بھارت پرانے اتحادی کو بھول گیا ہے۔ بزنس میں کوئی مستقل دشمن ہوتا ہے نہ دوست۔ اور یہ بات پاکستان بھی سمجھتا ہے اور پیوٹن بھی۔

مغربی بلاک میں جانے کی وجہ سے روس ہم سے ناخوش تھا

جنرل اسد درانی نے کہا کہ امرجیت سنگھ دولت کہانی بہت شاندار انداز میں سناتے ہیں۔ ان کو سنتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے قصہ خوانی بازار پشاور یا بغداد کے الف لیلی کا کوئی کہانی گو بات کر رہا ہے۔ میری بھی ٹربنکوف سے آستانہ میں پگواش کانفرنس میں ملاقات ہوئی تھی۔ اس میں پاک بھارت افغان سیشن میں اس نے پاکستان کے موقف کی تائید کی تھی۔ پاکستان میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بھارت اور روس کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ جبکہ ہمارے تعلقات روس کے ساتھ سردمہری پر مبنی رہے ہیں کیونکہ ہم نے طاقت ور ہمسائے کی بجائے مغربی بلاک کو چنا تھا۔ 65کی جنگ کے بعد تاشقند میں روس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالث کا کردار نبھایا تھا اور ہمارے تعلقات کچھ بہتر ہو گئے تھے مگر پھر 1971 میں ہم نے چین اور امریکہ کے درمیان پل کا کردار نبھایا تو روس دور ہو گیا اور 71 کی جنگ میں اس نے ہماری مخالفت کی۔

روسی فوج کے افغانستان سے انخلا میں پاکستان نے مدد کی

جنرل درانی نے کہا کہ جب 1979میں روس نے افغانستان میں مداخلت کی تو ہمارے تعلقات تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ گئے۔ اسکے بعد روسیوں کا انخلا ہوا، روس ٹکڑے ٹکڑے ہوا تو فطری طور پر پاکستان مخالف جذبات روس میں عام تھے حالانکہ ہم نے ان کے فوجی انخلا میں ان کی مدد کی تھی۔ مگر ثبات بس ایک تغیر کو ہے زمانے میں، ماسکو کے زخم بھی بھر چکے ہیں، اس نے چین سے بھی تعلقات بہتر کر لیے ہیں اور واحد سپر پاور کے خلاف طاقت کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے شنگھائی 5کو بھی دوبارہ زندہ کر لیا ہے۔

روس اور پاکستان کے درمیان برف پگھل رہی ہے

جنرل درانی نے روس کے حوالے سے بتایا کے نائن الیون کے حملوں کے بعد طاقتور مغربی اتحاد ایشیا کے دل میں آ بیٹھا تھا ، مشرق وسطی میں بھی پیش رفتیں ہو رہی تھیں، اس لیے روس کو خطے میں زیادہ اتحادیوں کی ضرورت تھی، اس موقع پر روس نے پاکستان تک رسائی کی کوشش کی جس آئی ایس آئی نے مثبت جواب دیا۔ اور بھارت چونکہ امریکہ کے قریب ہو چکا تھا اس لیے پاک روس بہتر تعلقات کی راہ میں وہ بھی رکاوٹ نہیں رہا تھا۔ میں نے روس کے دو دورے کیے ایک دورے میں گریٹ گیم کے حوالے سے میں نے کھل کر بات کی اور یہ بات نوٹ کی کہ روس اور پاکستان کے درمیان برف پگھل رہی ہے۔

چین اور روس ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے

جنرل درانی نے کہا کہ پوٹین اپنے کارڈ بہتر طور پر کھیل رہا ہے۔ امریکہ نے اسے اپنی طاقت بڑھانے کا موقع دیا ہے۔ اگرچہ وہ روس میں زیادہ مقبول نہیں رہا۔ اس پر دولت نے کہا کہ روسی اس کی مخالف چاہے ہو گئے ہوں مگر کوئی بھی پیوٹون کو چیلنج نہیں کر رہا۔ چائنا اور روس اپنے کارڈ احتیاط سے کھیل رہے ہیں۔ وہ اپنا ردعمل فورا نہیں دیتے۔ حالانکہ میں آج بھی مانتا ہوں کہ دونوں ایک دوسرے پر زیادہ اعتماد نہیں کرتے۔ مگر ان کے مفادات انہیں ایک دوسرے کے قریب لے آئے ہیں۔

کیا روس چین کی طرح پاکستان اور بھارت بھی قریب آسکتے ہیں؟

آدیتیہ سنہانے سوال کیا کہ کیا روس اور چین کی طرح پاکستان اور بھارت کو بھی ایک دوسرے کے قریب نہیں آنا چاہیے۔ اس پر جنرل درانی نے کہا، بلکل، کیوں نہں۔ تحمل کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، ہر دوسرے دن کوئی بڑا بیان داغنے سے بچاجائے اور فوری ردعمل دینے سے احتراز کیا جائے۔ پاکستان اور بھارت دونوں کو ان خطوط پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

شمالی کوریا جو بھی کر رہا ہے اس کے پیچھے چین اور روس ہے

سابق را چیف نے شمالی کوریا کی حالیہ پیش رفتوں کے حوالے سے کہا کہ شمالی کوریا اس وقت جو بھی کچھ کر رہا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ روسی اور چینی اس کے پیچھے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top