30-پاک بھارت تعلقات اور سابق انٹیلی جینس چیفس کا روڈ میپ

30-پاک بھارت تعلقات اور سابق انٹیلی جینس چیفس کا روڈ میپ

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔تیسواں باب (پارٹ ون)

 

پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات کیسے تعمیر ہو سکتے ہیں؟ یہ سوال آدیتیہ سنہا نے دونوں شخصیات سے کیا ان کی طرف سے جو روڈ میپ دیا گیا وہ کچھ یوں تھا:

امرجیت سنگھ دولت کا روڈ میپ

دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط بڑھائے جائیںَ ویزہ آن ارائیول کی سہولت نہ صرف ائیر پورٹس پر ہونی چاہیے بلکہ واہگہ بارڈر پر بھی یہ سہولت ہونی چاہیے۔ لاہور اسلام آباد کراچی دہلی ممبئی کے درمیان جہاز پروازوں میں اضافہ کیا جائے۔ ثقافتی، فنی، ادبی اور سپورٹس کی مشترکہ سرگرمیوں میں اضافہ کیا جائے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ بحال کی جائے۔ آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے۔ گریٹر پنجاب ٹو پنجاب روابط میں اضافہ کیا جائے۔ موسٹ فیورٹ نیشن کے باوجود یہ دوریاں کیوں۔ سرحدوں کو کھول یا نرم کر کے ابلاغ کی راہیں کھولی جائیں۔ تجارت کرنسی اور بینکنگ کے حوالے سے اعتماد سازی کے اقدامات کے سلسلے میں کشمیر کو ترجیح دی جائے۔ کشمیر کا مسئلہ سب سے پہلے حل کیا جائے ، دہشت گردی، سرکریک وغیر خود بخود حل ہو جائیں گے۔ پاک بھارت، بھارت کشمیر مذاکرات ہر صورت جاری رہیں۔ خارجہ سیکرٹریوں، قومی سلامتی کے مشیروں، آرمی چیفس کو ادارہ جاتی سطوح پر ملنا چاہیے، ان دنوں کوئی مذاکرت نہیں ہو رہے ، آخر اجیت ڈووال کو دعوت کیوں نہیں دی جاتی۔ انٹیلی جینس کی سطح پر تعاون سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی بڑھے گی، دونوں ملکوں میں سٹیشن چیفس کی پوسٹ اوپن ہونی چاہیے۔ علاقائی تعاون میں اضافہ کیا جائے، سارک کو پھر زندہ کیا جائے۔ عالمی سطح پر باہمی تعاون کو بڑھانا چاہیے، اسلامی فورمز میں بھارت کی مسلم آبادی کو شامل ہونا چاہیے۔ دونوں طرف کے میڈیا کو اوپن ہونا چاہیے، پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش ہو، بالی ووڈ میں زیادہ پاکستانی اداکار آئیں۔

جنرل اسد درانی کا روڈ میپ

کبھی کبھی ہو رہی بیک چینل ڈپلومیسی کو باقاعدہ شکل دی جائے۔ عام پبلک سے یہ ملاقاتیں خفیہ رکھی جائیں۔ وزرائے اعظم کے بااعتماد بندوں کی بجائے خارجہ امور، سکیورٹی اور علاقائی امور پر تمام سیاسی جماعتوں سے منظور شدہ ماہرین کی ایک چھوٹی سی ٹیم دونوں ملکوں میں بنائی جائے۔ جس کا کام یہ ہو کہ دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ کمیونیکیشن کی نگرانی کرے۔ بحرانی صورت حال میں آئیڈیاز شئیر کرے۔ دونوں طرف سے ہنگامی ردعمل کی پیش بندی کرے۔ ممبئی حملوں جیسی خراب صورت حال جیسے موقعوں پر یہ ٹیم نئے اور اختراعی خیالات سامنے لائے، جس پر دونوں ملک ایک دوسرے کےساتھ تعاون کر سکیں۔ جیسے مثال کے طور پر کشمیر یا افغانستان میں ہائیڈل پروجیکٹ، یہ ٹیم اس امر کو یقینی بنائے کہ دونوں ملکوں میں منفی عناصر کو صورت حال پر حاوی نہ ہونے دے۔ بحرانی صورتوں میں سیاسی ضرورتوں کے تحت نقصان دہ پیش رفتیں نہ ہونے پائیں۔ یہ بات مشکل نہیں ہے کہ نزاعی صورت حال میں سمجھدار لوگوں کو ثالثی مذاکرات کے لیے سامنے لایا جائے۔ ایسے لوگ جو پوائنٹ سکور کرنے کے چکر میں نہ ہوں، یا شہرت کے بھوکے نہ ہوں۔ جو زیادہ بڑھ چڑھ کر وعدے کرنے والے نہ ہوں۔

مودی کے دورہ رائیونڈ میں پاکستانی میڈیا نے منفی کردار ادا کیا

جب دونوں انٹیلی جینس چیفس نے اپنا اپنا روڈ میپ دے دیا تو جنرل درانی نے کہا کہ فوجی ہونے کے وجہ سے میں نہ کوشش کی ہے کہ ادارہ جاتی تجاویز دوں، جس پر امرجیت سنگھ نے کہا کہ سر انہیں ادارہ جاتی تجاویز میں تو ہم دونوں ملک پھنس کر رہ گئے ہیں۔ اس پر درانی نے کہا کہ سادہ انداز میں کہہ دینا کہ یہ کر لیا جائے، وہ کر لیاجائے، اس سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا، کیونکہ اس کے بعد سوال اٹھتا ہے کہ کیسے، راستہ کیا ہو؟ راستہ ٹھوس ساختی طریقہ ۔۔۔ اور یہ ہم پہلے بھی کر چکے ہیں۔ اس پر امرجیت سنگھ دولت نہیں کہا کہ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں مگر آپ ماڈل پیش کر رہا ہوں میں ان علامتی اشاروں کی بات کر رہا ہوں جس سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی ہو سکے۔ دونوں ملکوں کےد رمیان جمی برف کو کہیں سے تو توڑنا ہوگا۔ اور یہ برف ایسی مضبوط ہے کہ اسے توڑنے کے لیے حیران کن اقداامات اٹھانا ہوں گے۔ اسی لیے میں مودی کو پورا کریڈت دیتا ہوں کہ اس نے رائیونڈ کا دورہ کیا اگرچہ آپ کے میڈیا نے منفی ردعمل دیا۔ اس پردرانی نے کہا میڈیا والے تو پاگل ہیں۔ اے ایس دولت کی طرف سے برجستہ جواب آیا ہم سب پاگل ہیں۔

جنرل درانی میری تجویز کو سنجیدہ نہیں لے رہے: سابق را چیف

جنرل درانی نے کہا کہ پاک بھارت معاملے میں کئی بے چہرہ لوگ ہیں جو پس پردہ ہیں۔ اس پر دولت نے کہا کہ کیا آپ کی خواہش ہے کہ دونوں ملکوں کی چھ رکنی مذاکراتی ٹیم کو کیا دو رکنی ہونا چاہیے۔ جنگی کھیلوں میں دو یا چار کی بات نہیں ہوتی بات ہوتی ہے لوگوں کی اور ان کے کردار کی۔ سابق را چیف نے کہا کہ میں اپنے روڈ میپ میں جن علامتی اقدامات کی بات کر رہا ہوں آپ اسے کیوں سنجیدہ نہیں لے رہے۔ اس پر جنرل درانی نے کہا ، اس کے لیے پس منظر درکار ہے۔

پاکستان اجیت ڈوول کو دورے کی دعوت کیوں نہیں دے رہا؟

سابق را چیف نے کہا کہ آپ اجیٹ ڈووال کو پاکستان بلانے کی میری تجویزکو کیوں نہیں مان رہے۔ میں یہ علامتی قدم نہیں اٹھا سکتا، اجیت ڈووال کے لیے تو نہیں۔ لیکن اگر کوئی اور دعوت دیتا ہے تو مجھے خوشی ہوگی، حقیقت یہ ہے کہ بال اب بھارت کے کورٹ میں ہے۔ اصل میں آپ بات کررہے ہیں کسی فرد پر انحصار کی اور میں بات کررہا ہوں ڈھانچوں کی۔ ایسے ڈھانچے جو تعمیر اور تخلیقی ہوں۔ کیونکہ فرد ہمیشہ نہیں رہتا ، ڈھانچہ ہمیشہ رہتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top