30b-پاکستانی کرکٹر اور انڈین پریمئیر لیگ

30b-پاکستانی کرکٹر اور انڈین پریمئیر لیگ

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔تیسواں باب (پارٹ ٹو)

واجپائی کی لاہور آمد پر لاہوری حیران رہ گئے

آدیتیہ سنہا نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ بغیر مشہور کیے قدم اٹھائے جائیں مگر بھارت میں ہر پالیسی کو پبلک سپورٹ درکار ہوتی ہے، آپ کا کیا خیال ہے کہ کوئی ایسا قدم مفید ہو سکتا ہے جو اچانک اٹھا لیا جائے۔ اس پر دولت نے کہا یقینا ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر جب واجپائی نے بس کے ذریعے لاہور کا دورہ کیا تو اس بارے میں لوگوں کو پہلے سے کوئی اندازہ نہیں تھا اس نے یہ کیا کہ ملکھا سنگھ، کپل دیو، دیو آنند کو ساتھ لیا اور لاہور آ گیا، لاہوری حیران رہ گئے۔

ہمیں موسٹ فیورٹ نیشن کے خطاب کی ضرورت نہیں: بھارت

ایک دوسرے کے دئیے گئے روڈ میپ کا تقابل کرتے ہوئے سابق راچیف کا کہنا تھا کہ جنرل درانی نے ایک پورا لائحہ عمل دیا ہے جس پرکام ہونا چاہیے ، جو میں نے کہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سی چیزیں جو آسان ہیں انہیں کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر مارچ 2014میں پاکستانی ہائی کمشنر دہلی عبدالباسط سے میں ملا تو میں نے کہا امید ہے آپ خوشی کی خبر لائے ہوں گے، تو ان کا جواب تھا جی بالکل، ان کا اشارہ موسٹ فیورٹ نیشن کے سٹیٹس کے اعلان کی طرف تھا۔ بی جے پی نے اس پرفورا ایکشن لیا اور کچھ بزنس مین لاہور اور اسلام آباد گئے، مگر اس پر کچھ نہیں ہوا، دہلی میں کچھ لوگ اب کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ موسٹ فیورٹ نیشن کا کیا فائدہ ہوا؟ ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب ایم ایف این ایک طے شدہ ڈیل تھی تو ہوئی کیوں نہیں۔ میری فہرست سادہ فہرست ہے جس میں وہ چیزیں ہیں جو ہو سکتی ہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری پر بات ہوتی رہتی ہے مگر جب لوگوں کو ویزہ لینا پڑتا ہے تو انہیں عذاب جھیلنا پڑتا ہے۔

میری بیوی کوویزہ مل جاتا ہے مجھے نہیں: سابق راچیف

سنہا نے سابق را چیف سے کہا کہ آپ کی تجاویز بہت سادہ اور عملی ہیں۔ اس پر مسٹر دولت نے کہا کہ ان پر کئی بار بات ہو چکی ہے مگر عمل کبھی نہیں ہوا۔ میں آپ کو دلچسپ بات بتائوں اگر ایک کشمیری کو ویزہ درکارہو تو آسانی سے نہیں ملتا، لیکن میرواعظ یا گیلانی صاحب تجویز کریں تو آسانی سے ویزہ مل جاتا ہے، میری بیوی کو ویزہ آسانی سے مل جاتا ہے مجھے نہیں۔ اس پر سنہا نے کہا تو آپ گیلانی صاحب سے سفارش کرا لیں۔ مسٹر دولت نے کہا مزے کی بات ہے کہ کسی نے مجھے یہ تجویز دی بھی تھی۔ میں نے کہا شاید ہمیں ویزہ نہ ملے تواس نے کہا گیلانی صاحب سے بول کر ہم دلا دیں گے۔ یہ پاگل پن ہے۔

برطانوی کرکٹر پاکستان میں محفوظ ہیں، بھارتی کیوں نہیں؟

سنہا نے کہا کہ کرکٹ (Cricket) ٹیمیں کیوں نہیں کھیل رہیں۔ اس پر مسٹر دولت نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ بحال ہونی چاہیے۔ اگر برطانوی اور آسٹریلوی پاکستان میں خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں تو ہم میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں۔ اور اگر ہم وہاں محفوظ تصور نہیں کرتے تو انگلینڈ یا دوبئی میں کھیلنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ سنہا نے کہا کہ انہوں نے ٹی ٹوئنٹی لیگ لاہور میں کرائی تو لوگ مذاق اڑاتے رہے کہ اتنے تماشائی نہیں تھے جتنے سکیورٹی والے تھے۔ دولت نے کہا اگر ہم لاہور یا کراچی میں نہیں جا سکتے تو پاکستان کو بھارت آنے کی دعوت دینے میں کیا چیز مانع ہے۔ اور وہ آنے کو تیار بھی ہیں۔

آفریدی کو بیٹنگ کرتا دیکھنے کے لیے اکثر لوگ آتے تھے

سنہا نے کہا کہ یہاں بھارت میں آئی پی ایل کا سرکس چالو ہے، اور کیسے کیسے شاندار پاکستانی کھلاڑی ہیں، آفریدی تو شاید ریٹائر ہو چکے ہیں، لیکن لوگ اسے خصوصی طور پر دیکھنے کوآتے تھے۔ مگر اس طرح کے لوگ آئی پی ایل میں نہیں لیے جا رہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ صرف ضد، کہ پاکستانی کھلاڑی پیسے نہ کما سکیں۔ عجیب بات ہے کہ ظہیر عباس، جن کی بیگم بھارت کی ہیں، اور وسیم اکرم اور رمیز راجہ ہر وقت بھارت میں ہوتے ہیں لیکن نوجوان کھلاڑیوں پر پابندی ہے۔

پنجاب، راجھستان اور گجرات کے بارڈر نرم ہو جائیں تو لوگ آسانی سے آ جا سکتے ہیں

سنہا نے سوال کیا کون ہٹ دھرم ہے؟ اس پر سابق را چیف نے کہا ، خدا معلوم، مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہم اپنے بارڈر نرم کیوں نہیں کر سکتے، پنجاب، راجھستان اور گجرات کے بارڈر نرم ہو جائیں تو لوگ آسانی سے آ جا سکتے ہیں۔ اعتمادی سازی کے حوالے سے کشمیر کو ترجیح دینا میری تجویز ہے۔ مفتی صاحب بھی کشمیر کی مشترک کرنسی کی بات کر چکے ہیں۔ جنرل درانی نے اس موقع پر کہا کہ یہ اچھے آئیڈیاز ہیں مگر ان پر اتنی بات ہو چکی ہے کہ فیصلہ سازوں میں کوئی بھی اب انہیں سیریس نہیں لیتا۔ حقیقی رکاوٹ بیوروکریسی ہے وہ سیف کھیلنے والے لوگ ہیں۔ زیادہ تر لوگ سخت موقف رکھتے ہیں ہمارے ہاں کوئی پاک بھارت تعلق کے حوالے سے نرم گوشہ رکھے تو خود اس کے ساتھی اس کو نیچے گرانے کی کوشش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ فیصلہ سیاسی قیادت کو لینا ہوگا، منموہن سنگھ شریف آدمی تھے اور راست سوچ رکھتے تھے مگر اپنے سیاسی مخالوں، میڈیا اور خود اپنے لوگوں سے دب گئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top