31-کلبھوشن یادو کو پاکستان سے لے لیں گے: سابق راچیف

31-کلبھوشن یادو کو پاکستان سے لے لیں گے: سابق راچیف

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔اکتیسواں باب

را کا بندہ اسلام آباد میں کچھ بھی نہیں کر سکتا

آدیتیہ سنہا نے سابق راچیف سے پوچھا کہ آپ انٹیلی جینس تعاون کی بات کیسے کر رہے ہیں جبکہ ایجنسیاں چھپ کر کام کرتی ہیں۔ اس پر سابق راچیف نے کہا کہ میں اور جنرل صاحب کبھی کبھار ملتے ہیں تو آخر یہ کام اداروں کی سطح پر کیوں نہیں ہو سکتا۔ ہمیں دہشت گردی کا سامنا ہے جو اہم ایشو ہے اس پر دونوں ایجنیسوں کو بات کرنی چاہیے۔ دہلی اور اسلام آباد میں سٹیشن چیفس کی پوسٹس کو اوپن کیا جائے۔ بھارت کا موقف ہے کہ اسلام آباد میں ان کے بندے کو مشکل کا سامنا رہتا ہے، اتنی کڑی نگرانی کی جاتی ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ تو آخر ایسے آفیسر کی اسلام آباد میں تعیناتی سے کیا حاصل ہوگا جو کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ میں اور جنرل صاحب اپنے مقالے میں اس پر بات کر چکے ہیں کہ کچھ خفیہ گوشے ہوتے ہیں وہ چھپ کر ہی ہو سکتے ہیں۔

بھارت میں دہشت گردی پاکستان سے آتی ہے

جنرل درانی نے کہا انٹیلی جینس کے شعبے میں معلومات کا شئیر کرنا اور تعاون کرنا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جسمیں کئی رکاوٹیں ہیں۔ بعض اوقات ایسی مشکوک معلومات شئیر ہو سکتی ہیں جو ٹھیک نہ نکلیں تو بعد میں شرمندگی اٹھانا پڑ سکتی ہے۔ مگر اگر کوئی امن کا دشمن گروہ ہے تو اس کے خلاف معلومات کو شئیر کیا جا سکتا ہے۔ مسٹر دولت نے کہا کہ بھارت میں دہشت گردی زیادہ تر پاکستان سے آتی ہے اگر ہماری ایجنسیاں تعاون کر رہی ہوں تو انہیں ہینڈل کرنا آسان ہوگا۔ فرض کریں کہ آئی ایسی آئی لشکر کو چلارہی ہے اور حافظ سعیدکو پاکستان کے حوالے نہیں کرے گی لیکن اگر تعاون کا معاہدہ ہو تو کئی دیگر چیزوں میں تعاون سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

کلبھوشن یادو کو پاکستان سے لے لیں گے: سابق راچیف

سابق را چیف نے کہا کہ اگر کلبھوشن یادو امریکہ کے قبضے میں ہوتا تو اس کی واپسی ناممکن ہوتی، مگر پاکستان سے اسے لے لینا زیادہ مشکل نہیں۔ ایک بار را کا ایک سینئر بندہ 2004 میں امریکہ میں پکڑا گیا اور ہمیں اس کا کوئی پتہ نہیں مل رہا تھا، کسی نے بتایا کہ وہ ورجینیا میں کسی فارم ہائوس میں رہتا ہے، کسی نے بتایا کہ وہ مرچکا ہے۔ یہ مضحکہ خیز لگ سکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر پاکستان ہوتا تو اس بندے کو واپس لانا آسان ہوتا۔ جنرل درانی نے کہا میں اپنےد وست سے اتفاق کرتاہوں کہ جلد یا بدیر یادو واپس ہو جائے گا اگرچہ ہم نے اس کے کیس کو برے طریقے سے ہینڈل کیا۔

شاید مجھے پاکستان کا ویزہ بھی نہ مل سکے: سابق را چیف

سابق را چیف کا کہنا تھا کہ جو میں سٹیشن چیفس کی اوپن پوسٹس کی بات کر رہا ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن دہلی میں آئی ایس آئی افسر کا ایک عہدہ ہوگا اور وہ آئی بی اور را کے ساتھ معمول کی کمیونیکیشن کر سکتا ہے۔ یا اجیت ڈووال کے ساتھ۔ جب باقاعدہ ابلاغ ہو رہا ہو تو بہت سی چیزیں ممکن ہو سکتی ہیں۔ آج تو صورت حال یہ ہے کہ ہم ویزہ تک حاصل نہیں کر سکتے۔ میں پاکستان میں چار بار جا چکا ہوں، آج مجھے یقین ہے کہ ویزہ اپلائی کروں توشاید مجھے پاکستان کاویزہ نہ ملے۔ جنرل صاحب دہلی آنا چاہتے تھے اور دعوت چاہ رہے تھے، میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ نہیں ابھی ٹھیک وقت نہیں۔ یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے۔

مسعود اظہر پاکستان کو بھی مطلوب ہے مگر اس کا سراغ نہیں ہے

جنرل درانی نے کہا کہ ہم ان کے لوگوں کو جانتے ہیں وہ ہمارے لوگوں کو جانتے ہیں اس لیے اوپن پوسٹس کی بات معقول ہے۔ جہاں تک حافظ سعید کی بات ہے تو ہم کسی واضح افہام و تفہیم تک پہنچ سکتے ہیں اور اس کے بعد اس معاملے کو عدالت پر چھوڑ دیں کہ وہ جو فیصلہ کرے۔ اسی طرح کے اور کئی معاملے ہیں جو زیادہ پیچیدہ نہیں ہیں۔ اس پر دولت نے مسعود اظہر کا حوالہ دے کر کہا کہ احسان کے ساتھ بات کرتے ہوئے جب بھی مسعود اظہر کا نام آیا تو انہوں نے کہا کہ وہ مطلوب ہے مگر اس کا سراغ نہیں ہے، اگر کوئی شخص پاکستان اور بھارت دونوں کو مطلوب ہے تو تعاون کرنے میں کیا رکاوٹ۔ اور پاکستان اسے دہلی نہ بھی بھیج سکے تو تعاون کی صورت میں یہ تو ہو سکتا ہے کہ آئی بی کا کوئی بندہ جائے اور وہیں اس سے بات کرسکے۔ یہ تو بڑا مسئلہ نہیں ہوگا۔

زرداری کا بیان احمقانہ تھا

جنرل درانی نے مسٹر دولت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میڈیا کے بارے میں میرے پاس کچھ اچھے لفظ نہیں ہیں لیکن بھارتی میڈیا پھر بھی منظم ہے۔ اس پر سابق را چیف نے کہا کہ وہ پاکستان سے بھی بدترین ہے۔ اس پر سنہا نے کہا کہ شاید ہمارے ڈی این اے میں کچھ ایسا ہے کہ ہم جذباتی ہیں۔ سنہا نے سوال کیا کہ ممبئی حملوں کے بعد آئی ایس آئی سربراہ نے اعلان کیا کہ وہ بھارت جائیں گے، کیون نہیں گئے تھے؟ جنرل درانی نے کہا کہ میں اس کی تفصیل نہیں جانتا لیکن آصف زرداری کا وہ بیان احمقانہ تھا کہ آرمی ڈی جی آئی ایس آئی کو بھارت بھیجے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top