32-اکھنڈ بھارت، کانگریس اور محمد علی جناح

32-اکھنڈ بھارت، کانگریس اور محمد علی جناح

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔بتیسواں باب

چاہے گالیاں ہی دیں، بات چیت جاری رکھیں

سابق را چیف نے کہا کہ ہمیں امید نہیں چھوڑنی چاہیے۔ مجھے واجپائی صاحب کی ایک بات اچھی لگتی تھی ۔ وہ کہتے تھے کہ یہ دیوانگی اسی طرح نہیں رہے گی، کبھی نہ کبھی اسے ختم ہونا ہوگا۔ میں پانچ سال واجپائی کو غور سے دیکھتا رہا ، منموہن اور مودی سے زیادہ مسائل میں گھرے ہونے کے باوجود ، واجپائی نے ہمیشہ قدم آگے بڑھاتے رہنے کی پالیسی کونہیں چھوڑا۔ ہمیں کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ اور کبھی بات چیت کے دروازے بند نہیں کرنے چاہیں، چاہے بات چیت گالیاں ہی کیوں نہ ہوں۔

لائن آف کنٹرول پر نیٹ لگا کر والی بال کھیلی جاسکتی ہے

جنرل درانی نے پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے گجرال ڈاکٹرائن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ معقول ڈاکٹرائن تھا۔ اگر آپ تمام ملکوں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم نہیں کرسکتے تو چھوٹے ملکوں سے شروع کریں۔ حتی کہ پاکستان سے بھی چھوٹے درجے سے تعلقات میں بہتری شروع کی جا سکتی ہے۔ دونوں پنجاب اور دونوں کشمیر کے درمیان کراس بارڈر کا آغاز کرتے ہیں۔ آپس میں کرکٹ ، ہاکی کھیلی جا سکتی ہے، لائن آف کنٹرول پر نیٹ لگا کر والی بال کھیلی جاسکتی ہے، جب لوگ اس طرح رہنا شروع کرتے ہیں تو ان میں اعتماد آتا ہے اور وہ اسی طرح رہنے کو بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ مگر آج گجرال ڈاکٹرائن کی بات کوئی بھی نہیں کررہا۔ امرندر سنگھ اور شہباز شریف نے ایک زمانے میں البتہ دونوں پنجاب ساتھ لانے کی کوشش کی تھی۔ مگر بھارت نے اس پیش رفت کو روک دیا۔ اسٹیبلشمنٹ تو تاجروں پر بھی اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔

محمد علی جناح کا مقصد پاکستان تھا ہی نہیں

جنرل درانی نے کہا کہ اکھنڈ بھارت کا خیال اب کوئی اور نہیں سوچ رہا، ایک وقت تھا کہ بہت سے لوگ بھارت میں کہتے تھے کہ محمد علی جناح کا مقصد پاکستان تھا ہی نہیں، انہوں نے تو یہ خیال اس لیے پیش کیا تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ مفادات لے سکیں۔ ان کے خیال میں بہترین فارمولا مسلم خطوں میں زیادہ سے زیادہ خود مختاری کا حصول تھا۔ سٹیفن کوہن نے بھی یہ لکھا ہے کہ ہندوستان کی تقسیم ناگزیر نہیں تھی۔ بہت سے لوگ ہیں جو تقسیم کو غلط کہتے ہیں۔ تقسیم نے بہت سے مسائل کھڑے کیے، جیسے بنگلہ دیش اور کشمیر کے مسئلے۔ اور اب دونوں ملک مسلسل لڑ رہے ہیں۔ مجھے ایک سکھ نے لندن میں کہا کہ آپ پاکستان میں لوگوں کو کیوں نہیں بتاتے کہ قائداعظم نے کابینہ مشن پلان کو قبول کر لیا تھا۔ اور کیوں نہیں بتاتے کہ وہ تقسیم کو روکنا چاہتے تھے، حقیقت یہ ہے کہ یہ کانگریس ہے جس نے پاکستان بنایا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ انہوں نے جانا کدھر ہے، یہ باقی ہی نہیں رہ پائیں گے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہندوستان کو توڑنے کا الزام آج بھی کانگریس پر لگتا ہے۔ مسٹر دولت نے کہا کہ مولانا آزاد بھی یہی لکھتے ہیں کہ ہمارے کانگریسی لیڈر تقسیم کی وجہ تھے کیونکہ وہ جناح کے ساتھ دیانت دار نہیں تھے۔

متحدہ آزاد کشمیرکا تصور دونوں ہی ملکوں میں پسند نہیں کیا جاتا

جنرل درانی نے کہا کہ تقسیم نے کئی مسائل کھڑے کیے مگر اب یہ ممکن نہیں کہ بارڈر تحلیل ہو جائیں اور متحدہ ہندوستان بن جائے۔ تاریخ پلٹائی نہیں جا سکتی۔ میں آج بات کرتا ہوں متحدہ خودمختار کشمیر کی تو یہ وہ خیال ہے جو دونوں ہی ملکوں میں پسند نہیں کیا جاتا۔ شاید یہ ممکن بھی نہیں۔ جب خودمختار کشمیر کا تصور آتا ہے تو سوال اٹھتا ہے یہ عالمی سازشوں کا مرکز بن جائے گا، اس سب پر بات ہو سکتی ہے۔ اور جب بات ہوتی ہے تو سوال اٹھتے ہیں اور نئے نئے خیال ابھرتے ہیں۔ ایک دن وہ آئے گا کہ جب دہلی اور اسلام آباد اس خیال کو رد نہیں کر سکیں گے۔

اگرامریندر سنگھ کا دارالخلافہ لاہور ہو؟

سابق را چیف کا کہنا تھا کہ اکھنڈ بھارت کا میرا نظریہ اگرچہ مختلف ہے، لیکن میرا سوال ہے کہ جنرل صاحب دونوں طرف کے پنجاب کی فیڈریشن پر کیا کہتے ہیں۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ مہاراجہ امریندر سنگھ کا دارالخلافہ لاہور ہو؟ امریندر سنگھ فوجی تھا اس کا سب سے بڑا پچھتاوا تھا کہ 65کی جنگ میں وہ لاہور نہ لے سکا اور اب مختلف جذباتی وجوہات ہیں جو اسے لاہور کے لیے تڑپاتی ہیں۔

’’اکھنڈ بھارت بن کر ہم بھارت کو اندر سے برباد کریں گے‘‘

جنرل درانی نے کہا کہ اپنے دیوانگی کے لمحات میں میں اپنے بھارتی مذاکراتیوں کو دھمکی دیتا تھا کہ پاکستان تقسیم ختم کرنے اور متحدہ ہندوستان بننے کو تیار ہے، تاکہ ہم بھارت میں رہتے ہوئے اس کو برباد کر سکیں۔ وہ کہتے تھے کہ جب ہم اکھنڈ بھارت کی بات کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا۔ مسٹر دولت کا کہنا تھا کہ اس سب کا حتمی نتیجہ کیا ہے، اکھنڈ بھارت، بھارت ختم یا آزاد کشمیر؟ اس پر جنرل درانی نے کہا کہ نتیجہ یہ ہے کہ کوئی چیز مستقل نہیں بس اپنا دماغ کشادہ رکھیں۔ آپ کو یاد ہے ناں کہ جب ایڈوانی 2005 میں کراچی آئے تھے اور مصلحت کی بات کی تھی۔ ایسی باتیں سٹیج تیار کرتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top