33-یہ کتاب کشمیریوں کے لیے ہے

33-یہ کتاب کشمیریوں کے لیے ہے

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ آخری باب

جنرل اسد درانی کے ساتھ بات کر کے مزہ آیا

جنرل اسد درانی کا کہنا تھا کہ اس کتاب کے حوالے سے میرے جوش کی وجہ مختلف نظریات کو سننا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جو میں سنتا رہا ہوں وہ اس سے بہت مختلف تھا جو میں دوران ملازمت سنتا تھا۔ مسٹر دولت نے کہا کہ جنرل صاحب سے بات کرکے بڑا مزہ آیا، یہ بہت اچھا آئیڈیا تھا، ہم نے ایک ساتھ وقت گزارا، باتیں کیں۔ یہاں بیٹھنے کا میرا ایک ہی مقصد تھا کہ پاک بھارت تعلق کے حوالے سے میرا ایک خواب ہے جیسا کہ واجپائی کا خواب تھی کہ یہ دیوانگی ایک دن ختم ہوگی۔ یہ کتاب اسی خواب کے بارے میں ہے کہ پاک بھارت تعلقات بہتر ہوں گے۔ ہماری بات کا مرکزی نقطہ یہی رہا کہ اگر پاکستان اور بھارت قریب آتے ہیں تو بہت کچھ پا سکتے ہیں۔

یہ دیوانگی کب ختم ہوگی؟

جنرل درانی نے کہا کہ دیوانگی کے حوالے سے میں ایک واقعہ سنانا چاہتا ہوں، دو ہزار پندرہ میں ہم دونوں نے حامد انصاری سے ایک مشترکہ کال ملائی ، میں پانچ منٹ پہلے ہی کانفرنس کال پر آچکا تھا۔ حامد انصاری کا پہلا فقرہ تھا کہ یہ دیوانگی کب ختم ہوگی۔ اتنا مکمل فقرہ اور یہی ہماری اس کتاب کا موضوع ہے۔

یہ کتاب کشمیریوں کے لیے ہے

سنہا نے مسٹر دولت سے پوچھا کہ ہماری تمام تر گفتگو سے میں نے اندازہ لگایا ہے کہ آپ انڈیا اور پاکستان سے زیادہ کشمیر کے لوگوں کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر مسٹر دولت نے کہا کہ کشمیری لوگ ہمیشہ میرے ذہن میں ہوتے ہیں۔ میری پچھلی کتاب کا موضوع یہی تھا کہ کشمیر کا مسئلہ مذاکرات سے ہی حل ہوگا۔ اس لیے جب بھی کشمیر پرکوئی مذاکرات کی بات کرتا ہے تو میری امید زندہ ہو جاتی ہے۔ یہ کتاب کشمیریوں کو حوصلہ دے گی، جب وہ یہ جانیں گے کہ یہ دو لوگ مل رہے ہیں تو وہ سوچیں گے کہ کچھ نہ کچھ ہوگا۔ یہ کتاب بھی دراصل کشمیریوں کے لیے ہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top