4-B کیا آئی ایس آئی ریاست کے اندر ریاست ہے؟

4-B کیا آئی ایس آئی ریاست کے اندر ریاست ہے؟

  آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ چوتھا باب (پارٹ 2)

آئی ایس آئی کو کئی خطرات کا سامنا ہے

جنرل اسد درانی کہتے ہیں آئی ایس آئی کو خطے میں کئی خطرات کا سامنا ہے۔ بھارت بہت بڑا ہے، افغانستان میں حالات کشیدہ رہتے ہیں، ایران زیادہ تجربہ کار ہے اور کبھی کبھار من مانی کرتا ہے جبکہ امریکہ بھی خطے کے معاملات میں مداخلت کرتا رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آئی ایس آئی کو ایک وقت میں کئی گیند ہوا میں اچھالنا پڑتے ہیں۔ بھارت اکثر سوچ سمجھ کر طویل مدتی فیصلے کرتا ہے جبکہ آئی ایس آئی کو اکثر فیصلے جلدی میں کرنا پڑے کیونکہ اسے جن خطرات کا سامنا تھا اس میں ایسے کام کرنا پڑتے تھے جن کے نتائج جلد برآمد ہوں۔

جب آئی ایس آئی کا اندازہ غلط ثابت ہوا

جنرل درانی یہ کہتے ہیں کہ پہلے آئی ایس آئی کی سیاسی اندازے لگانے کی صلاحیت بہت محدود تھی۔ 1970 کے الیکشن سے پہلے آئی ایس آئی نے جنرل یحیٰ خان کو رپورٹ دی تھی کہ الیکشن میں کسی جماعت کو واضح برتری نہیں ملے گی اور یوں جنرل یحیٰ کی حکومت جاری رہے گی۔ لیکن الیکشن کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں یحیٰ خان اور مغربی پاکستان میں بھٹو کو بھاری اکثریت ملی اور جنرل یحیٰ ناکام رہے۔ اسد درانی کہتےہیں انہوں نے خود بھی 1990 کے الیکشن کے متعلق اندازہ لگایا تھا کہ پی پی پی کو صرف تھوڑا سا ہی نقصان پہنچے گا۔ لیکن یہ اندازہ غلط ثابت ہوا اور الیکشن میں پی پی پی کو بری طرح شکست ہوئی۔

ایک ایس ایچ او بھی لال مسجد آپریشن کرسکتا تھا

جنرل درانی کہتے ہیں انٹیلیجنس کا سب سے موثر ہتھیار پولیس کی سپیشل برانچ ہے۔ لال مسجد آپریشن کے وقت ایک ایس ایچ او بھی مسجد میں جا کرعسکریت پسندوں کی طاقت کا اندازہ لگا سکتا تھا۔ اس کے بعد رشوت دے کر یا کچھ لوگوں کو ساتھ ملا کر یرغمالی عورتوں اور بچوں کو رہا کرایا جا سکتا تھا۔ اس کام کے بعد باقی عسکریت پسندوں پر آسانی سے قابو پایا جا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ اس آپریشن کے لیے سپیشل فورسز ضروری تھیں جو خفیہ طور پر کام کرتی ہیں تاکہ زیادہ نقصان نہ ہو۔ لیکن حکومت کو پولیس کی صلاحیت پر اعتماد نہیں تھا اور اس نے وہاں رینجرز کو بھیج دیا جنہوں نے سب تباہ کر دیا۔ اسد درانی کہتے ہیں لال مسجد واقعے کے دو ہفتے بعد راولپنڈی میں وہ ایک ایس ایچ او سے ملے۔ ایس ایچ او نے انہیں پہچان لیا اور بولا جنرل صاحب یہ تو ایک ایس ایچ او کا کام تھا آپ ساری فوج لے کر وہاں پہنچ گئے؟

اسد درانی نے پشاور سکول حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انٹیلیجنس رپورٹس آ چکی تھیں کہ کسی بڑے مقام کو نشانہ بنایا جائے گا لیکن بہت سے مقامات میں سے کسی ایک کو لاحق خطرے کی نشاندہی ممکن نہیں تھی۔ ایسے میں سپیشل برانچ بہتر اور مفید معلومات فراہم کر سکتی تھی۔

را جنرل حمید گل سے ڈرتی تھی؟

جب سنہا نے اسد درانی سے پوچھا کہ ان کی حمید گل کے بارے میں کیا رائے ہے جنہیں بھارت میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تو جنرل اسد درانی نے جواب دیا کہ وہ اور حمید گل اچھے دوست تھے۔ تاہم دونوں کے خیالات مختلف تھے۔ حمید گل ہر چیز کو اپنی نظر سے دیکھتے تھے اور پھراسے کسی خاص تناظر پر فٹ کر دیتے تھے۔ مجھے ان سے اختلاف بھی ہوتا تھا۔ تاہم جنرل حمید گل کا مطالعہ بہت زیادہ تھا اور تاریخ پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ را کے سابق چیف امرجیت سنگھ دولت نے کہا کہ ہم جنرل حمید گل کو ولن اور گاڈ فادر کہتے تھے اور پھر بھی جب ان کا انتقال ہوا تو کچھ ہی لوگوں نے ان کے متعلق رائے دی اور چند لوگوں کی رائے تو بہت خراب تھی۔ اے کے ورما نے لکھا کہ حمید گل نے انہیں امن کی پیشکش کی تھی حالانکہ اے کے ورما خود امن پر جنگ کو ترجیح دیتے ہیں پھر بھی انہوں ںے حمید گل کو کریڈٹ دیا۔

حمید گل نے1988 کے الیکشن کی نگرانی کی تھی

جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ جنرل حمید گل 1988 کے الیکشن کی نگرانی کررہے تھے۔ تاہم پنجاب اور سندھ میں انتخابی نتائج سے متعلق ان کا اندازہ غلط ثابت ہوا۔ حمید گل کے خیال میں پیپلزپارٹی کو پنجاب میں زیادہ نشستیں ملنی چاہئیں تھیں جبکہ سندھ میں کم۔ لیکن اس کے برعکس پیپلزپارٹی نے سندھ میں کلین سویپ کیا اور پنجاب میں اسے تھوڑی نشستیں ملیں۔

خفیہ ایجنسیوں میں فوجی افسروں کے تقرر و تبادلوں کا طریقہ کار

خفیہ ایجنسیوں میں بھرتی کے طریقہ کار پر جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی میں فوجی افسران کو ہی تعینات کیا جاتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ان کا انٹیلی جنس کے شعبے میں تجربہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ افسران ایجنسی میں شامل ہو کر خود ہی اپنا کام سیکھتے جاتے ہیں اور جب انہیں تجربہ ہو جاتا ہے تو ترقی مل جاتی ہے۔ فوج کی نظر میں انٹیلی جنس کے اندر افسران کی تعیناتی فورسز کے اندر ہی افسروں کے ردوبدل کے مترادف ہے۔

جب ایک جونیئر افسر نے جنرل کو ٹوک دیا

جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ 2010 میں کشمیریوں کی طرف سے مظفرآباد سے چکوٹھی تک مارچ میں وہ بھی شریک تھے۔ جب مارچ کے شرکاء لائن آف کنٹرول کے قریب پہنچے تو انہیں پاک فوج کے جوانوں نے روک لیا۔ جنرل اسد درانی نے فوجیوں کو بتایا کہ وہ کون ہیں۔ تو ایک جونیئر کمیشنڈ افسر نے ان سے کہا کہ ’صاحب آپ کبھی تھے تو تھے ابھی تو نہیں ہیں نا‘۔

جب آئی ایس آئی نے نیپال کو بھارت سے دور کرنا چاہا

جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ بینظیر کے پہلے دور حکومت کے دوران بھارت اور نیپال کے تعلقات خراب ہو چکے تھے۔ نیپال نے چین سے اسلحہ خریدا تو بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی نے ان پر پابندیاں لگا دیں۔ بینظیر حکومت اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی تھی جنرل اسد درانی اور ان کے ساتھیوں نے سوچا کہ اس وقت ضیاء ہوتے تو کیا کرتے؟ چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ نیپالی سفیر سے ملیں گے۔ جب ملاقات ہوئی تو نیپالی سفیر نے ان سے کہا کہ ہم لوگ بھارت سے پریشان ہیں۔ بھارت ہمیں اپنا صوبہ بننے پر مجبور کررہا ہے اور ہم پر حکم چلاتا ہے۔ ہم چین کے قریب ہونا چاہتےہیں۔ اس موقع پر امرجیت سنگھ دولت نے کہا کہ اس ملاقات کا مقصد صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرنا تھا۔ وہ کہتےہ یں کہ نیپالی تو بھارت کا چھوٹا بھائی بننے پر تیار تھے۔

کیا افغانستان ہمارا چھوٹا بھائی ہے؟

جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے۔ افغانستان ہم سے چھوٹا ہے لیکن جب ہمارے لوگ کہتے تھے کہ آپ ہمارے چھوٹے بھائی ہو تو افغان کہتے تھے کہ ہم تو آپ سے 200 سال پہلے سے موجود ہیں اور ہمارے ملک میں کسی نے آپ کا نام بھی نہیں سنا تھا۔

جب ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ نے غلام اسحاق خان سے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کی شکایت کی

اسد درانی کا کہنا ہے کہ جنرل ضیا کی موت کے بعد غلام اسحاق خان پاکستان کے جوہری پروگرام کے نگران بنے۔ اس دور میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان مختلف پارٹیوں میں شریک ہوتے تھے اور بیانات دینا پسند کرتے تھے۔ اسد درانی کہتے ہیں ہکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کمزور یہ تھی کہ وہ خود پسند تھے۔ اسی لئے اسد درانی ان کی شکایت لے کر غلام اسحاق خان کے پاس گئے۔ انہوں نے صدر سے درخواست کی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو تقریبات سے دور رکھا جائے۔ تاہم غلام اسحاق خان نے یہ کہہ کر تجویز رد کر دی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جوہری پروگرام کے لیے ضروری ہیں لہٰذا جو کچھ بھی وہ کر رہےہیں اسے برداشت کیا جائے۔

شراب کی محفل میں لوگ آئی ایس آئی چیف سے کیوں ڈرے؟

جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ لوگ آئی ایس آئی کے سربراہ سے عام طور پر ڈرتے تھے۔ ایک بار ان کے دوست نے انہیں کھانے کی دعوت دی۔ جب دعوت میں شریک لوگوں نے جنرل اسد درانی کو دیکھا تو وہ ڈر گئے۔ کیونکہ ان میں سے کئی لوگ جو فوجی افسر بھی تھے وہ شراب پی رہے تھے۔ لوگوں نے میزبان سے شکایت کی کہ آئی ایس آئی چیف ان کے متعلق لوگوں کو بتائیں گے کہ یہ لوگ شراب پیتے ہیں۔ تاہم میزبان نے انہیں سمجھایا کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ بڑی مشکل سے لوگوں کی پریشانی کم ہوئی۔

جنرل ضیا بھی شرابیوں میں گھرے رہتے تھے

جنرل اسد درانی کہتے ہیں جنرل ضیا کے گرد بہت سے ایسے لوگ تھے جو عادی شراب نوش تھے۔ لیکن انہوں نے کبھی نہیں سنا کہ شراب پینے پر کسی کو کوئی سخت سزا دی گئی ہو۔

5- آئی ایس آئی یا بھارتی ایجنسی را، کون زیادہ طاقتور ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top