ہم لال قلعہ دہلی پر سبز پرچم لہرانے کا عزم نہیں رکھتے: اسد درانی

ہم لال قلعہ دہلی پر سبز پرچم لہرانے کا عزم نہیں رکھتے: اسد درانی

 آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ پانچواں باب ، پارٹ 2

افغانستان اور کشمیر کے معاملات ایک دوسرے سے جڑے تھے

سابق راچیف نے کہا کہ افغانستان کے بارے میں ہمیں ہمیشہ تحفظات تھے کیونکہ اگر سی آئی اے افغانستان میں آئی ایس آئی کو کھل کھیلنے کاموقع دیتی تو پھرکشمیر میں بھی حزب،لشکراورجیش بنانے کی کھلی چھٹی مل جاتی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے براہ راست جڑے تھے۔ اگرامریکہ کو لگتا کہ آئی ایس آئی کنٹرول سے باہر جارہی ہے، جیسا کہ انہیں لگ بھی گیا تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے خدشات بجا تھے تو کشمیر پر اس کے برے اثرات مرتب ہوتے۔ اس پر اسددرانی نے کہا کہ کے امکانات اور متوقع صورت حال پر بات کرنا آسان ہوتا ہے کیونکہ زمین پر رہتے ہوئے جب کام کرنا پڑے تو بہت سی دیگر چیزوں کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔ یہ ایسا نہیں کہ بھارت نے اپنے لوگ افغانستان میں بھیج دیے تو ہم کشمیر میں بھیج دیں۔ یہ کوئی سائبر گیم نہیں ہے کہ ایک علاقے میں جیش محمد کے لوگوں کو نشانہ بنایا جائے اور دوسرے علاقے میں را کے لیے کام کرنے والوں کو ٹارگٹ کیا جائے۔ یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ مقامی لوگوں سے سپورٹ ملے گی کہ نہیں۔ یہ ادلے بدلے کا کام نہیں ۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ امریکہ یا انڈیا کچھ کرے تو ہم کریں گے بلکہ ہو سکتا ہے کہ ہم پہلے ہی کچھ نہ کچھ کر رہے ہوں کسی نہ کسی شکل میں۔ امرجیت سنگھ دولت اس موقع پر بولے اور کہا یہ ادلے بدلے والی بات نہیں ادلہ تو ہو چکا تھا ہم تو بدلہ لے رہے تھے۔

ہم دلی کے لال قلعے پر سبز پرچم لہرانے کا عزم نہیں رکھتے

جنرل درانی نے کہا کہ بعض اوقات صورت حال ایسی ہو جاتی ہے جو ہمارے قابو میں نہیں ہوتی لیکن میں یہ بتادوں کہ پاکستان کا مقصد قطعا بھی لال قلعہ دہلی پر سبز پرچم لہرانا نہیں ہے۔ بلکہ کوئی کہہ سکتا تھا کہ سوویت یونین کے جانے پرضیا اور حمید گل کے منصوبے افغانستان سے کہیں آگے کے ہوں گے لیکن ہم اس وقت بھی بھارت سے  تجارتی اور ثقافتی تعلقات پر سوچ رہے تھے۔ اس وقت ہم وسطی ایشیا سے بجلی لانے کے منصوبے سوچ رہے تھے۔ تب 25 سال پہلے ہماری یہ سوچ بچکانہ نظر آتی تھی مگر آج سی پیک ایک حقیقت ہے۔

کیا را کی قیادت اوسط دماغ لوگوں کے ہاتھ میں ہے

کیا را کی قیادت ایسے لوگوں کے پاس نہیں رہی جو اوسط ذہن کے لوگ تھے۔ اس پر سابق را چیف نے کہا کہ دنیا بھر میں خفیہ ایجنسیوں میں یہ ہوتا ہے کہ کبھی اعلی دماغ اور کبھی اوسط دماغ اس کا سربراہ بن جاتا ہے۔ جس طرح کہ جنرل درانی نے کہا ہے کہ سی آئی اے بڑی خفیہ ایجنسی ہے مگر دنیا میں اس کی پوزیشن تیسری ہے۔ اگر یہ تیسرے نمبر پر ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے سربراہ معمولی لوگ ہوں گے۔ اس لیے یہ کوئی اصول نہیں، معمولی ذہن کے لوگ کسی بھی خفیہ ایجنسی کے سربراہ بن جاتے ہیں اب آئی بی ہو یا آئی ایس آئی، کہیں بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اس بات پر جنرل درانی نے کہا کہ عموما ہم بھارتی نظام کو زیادہ موثر سمجھتے ہیں۔ یہ ادارہ جاتی ہے۔ یہ کسی کی خواہش کے طابع نہیں۔ پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا جیسے طارق عزیز کو ریونیو سروس سے نکال کر اچانک ہی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر لگا دیا گیا۔ اسی طرح کسی وفادار کو سکیورٹی آفیسر سے اٹھا کر آئی بی کا چیف لگا دیا گیا۔  پاکستان میں ڈی جی آئی ایس آئی کو آرمی چیف نامزد کرتا ہے مگر تقرر وزیراعظم نے کرنا ہوتا ہے۔

را اور آئی ایس آئی کے بڑے بڑے مسائل کیا ہیں؟

را کے مسائل پر بات کرتے ہوئے دولت نے کہا کہ ہمارا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ دوسری ایجنسیوں کے برعکس ہمیں انٹیلی جینس کو جمع ہی نہیں کرنا ہوتا اس کا تجزیہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ بلکہ میرا خیال ہے کہ اس معاملے میں آئی ایس آئی بھی ہماری طرح ہے۔ میرے خیال ہے کہ تجزیے کے لیے دونوں ملکوں کو مزید لوگ شامل کرنے چاہیں کیونکہ ہم دونوں ہی ایجنسیوں پر بہت زیادہ بوجھ ہوتا ہے۔ دوسرا مسئلہ ہے ہماری مدت ملازمت ۔ اسددرانی نے کہا کہ موساد چیف چھ سال کے متعین ہوتا ہے۔ دولت نے کہا کہ ایم آئی 6 چیف اس سے بھی زیادہ مدت کے لیے مقرر کیا جاتا ہے۔ جبکہ ہمارے ملکوں میں کیا ہوتا ہے کہ میں سترہ اٹھارہ ماہ را چیف رہا۔ جنرل درانی خود اتنی مدت کے لیے رہے۔ ابھی ہم چیزیں سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وقت ختم ہو جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کم سے کم تین سال ہونے چاہئیں۔ جنرل صاحب رونا رہ رہے تھے کہ ہمیں کم بجٹ ملتا ہے اس طرح تو میں کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا بجٹ ہوتا ہی نہیں کیونکہ سی آئی اے نے کبھی ہماری فنڈنگ نہیں کی۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان ایجنسیوں کے سربراہوں کو لو پروفائل ہونا چاہیے۔ پرانے چیف کبھی تصویر تک نہیں بنواتے تھے مگر اب معاملہ ویسا نہیں رہا۔

وزیراعظم نرسمہا رائو خفیہ کو فراڈ اور چغلی باز کہتے تھے

مصنف نے ایک بڑا دلچسپ سا سوال کیا کہ کیا مضبوط وزیراعظم کے ساتھ کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس پر سابق را چیف نے کہا مشکل تو ہوتا ہے مگر بہتر بھی ہے۔ ہاں یہ مشکل ہوتا ہے اگر مقصد وزیراعظم کو خوش رکھنا ہو جیسا کہ جنرل درانی نے اشارہ کیا ہے۔ مودی جیسا مضبوط وزیراعظم ہوگا تو ہمارا کام کٹھن ہوگا۔ مضبوط وزیراعظم کے نیچے کام کرنا سادہ سہی مگر کام آسان نہیں۔ المیہ ہے کہ بھارت میں ایسے وزیر اعظم بھی رہے جنہیں خفیہ ایجنسیوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ مرارجی ڈیسائی ایجنسی کو اثاثہ ہی نہیں سمجھتے تھے۔ نرسمہا رائو خفیہ ایجنسیوں کو فراڈ اور چغلی باز کہتے تھے۔ آئی کے گجرال بھی را کے بارے میں مشکوک تھے۔ راجیو گاندھی البتہ ایسے وزیراعظم تھے جواس کام کو دلچسپ سمجھتے تھے شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جوان آدمی تھے۔ وہ را اور دیگر ایجنسیوں پر بہت انحصار کرتے تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ انٹیلی جینس بیورہ کا ڈائریکٹر روزانہ رات ساڑھے دس بجے ان کے ساتھ چائے پیتا تھا۔ میں نے واجپائی کے ساتھ کام کیا ہے وہ بہت غور سے بات سنتے تھے۔ وہ ہمیں اہم محسوس کراتے تھے لیکن ردعمل بلکل نہیں دیتے تھے۔

 

اگلا باب پڑھیں

بیوروکریسی کی تباہی بھٹو دور میں شروع ہوئی

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top