بیوروکریسی کی تباہی بھٹو دور میں شروع ہوئی

بیوروکریسی کی تباہی بھٹو دور میں شروع ہوئی

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ پانچواں باب، پارٹ 3

شکر ہے کسی میدان میں تو پاکستان ہم سے پیچھے ہے: سابق را چیف

اس سوال کے جواب میں سابق را چیف نے کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ یہ دونوں ملکر کام نہیں کرتیں مگر دونوں میں حسد پایا جاتا ہے۔ مگر یہ مسئلہ صرف بھارت کا نہیں امریکہ میں بھی سی آئی اے اور ایف بی آئی میں ایسے مسائل ہیں۔ اس سوال پر جنرل درانی کاردعمل بڑا دلچسپ  تھا انہوں نے کہا کہ اگر بھارت میں را اور آئی بی ملکر کام کرتے ہیں تو پھر آپ پاکستان سے آگے ہیں کیونکہ پاکستان میں ایجنسیوں کے درمیان تعاون کبھی نہیں دیکھا۔ اس ردعمل پر سابق را چیف نے کہا شکر ہے کسی میدان میں تو پاکستان ہم سے پیچھے ہے۔ دولت نے کہا میں تیس سال تک آئی بی میں رہا۔ شروع میں را والے مجھے مشکوک نظروں سے دیکھتے تھے اور مباحثوں میں آئی بی والے کہتے ارے یار تم تو ہمارے آدمی ہو مگر میں جواب دیتا کہ ہاں میں تمھارا آدمی ہوں مگر اب میں را کا چیف ہوں جو میرے ذہن میں سب سے اوپر ہے۔ را اور آئی بی میں تقابل کروں تو دونوں ہی بہتر ہیں مگر آئی بی زیادہ مربوط ہے کہ اس میں صرف پولیس والے ہوتے ہیں جب کہ را میں چوں چوں کا مربہ بنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ زیادہ ہم آہنگ نہیں۔

کیا خفیہ ایجنسیوں میں بیوروکریسی کی روایتی کاہلی پائی جاتی ہے؟

کیا خفیہ ایجنسیوں میں بیوروکریسی کی روایتی کاہلی پائی جاتی ہے۔ اس سوال کے جواب میں سابق را چیف امرجیت سنگھ دولت کا کہنا تھا کہ ہاں دو قسم کی کاہلیاں ہیں ایک تو ادارے کے اپنے ڈھانچے کے اندر اور دوسری جب دوسرے اداروں کی نوکر شاہی کے ساتھ کام کرنا پڑے۔ مودی دور میں یہ مسئلہ نہیں کیونکہ یہاں صرف مودی ہے یا را چیف ڈووال۔ اور کوئی بیوروکریسی بیچ میں نہیں۔ حتی کہ دوسرے وزیروں کی بھی کوئی اہمیت نہیں۔ اسی طرح واجپائی دور میں یا واجپائی تھا یہ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر برجیش مشرا۔ دوسروں کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ ڈیفنس اور فارن منسٹر ہمارے کام میں مداخل نہیں ہوتے۔ جب میں بطور را چیف ایک بار کیبنٹ سیکرٹری سے ملا تو اس نے کہا میں انتظامی امور میں آپ کا معاون ہوں باقی آپ جو بھی کرتے ہیں میں وہ نہیں جاننا چاہتا ۔ وہ تو لگتا ہے ہم سے خوفزدہ تھا۔

بھارت کے مقابلے میں ہماری بیوروکریسی مضبوط ہے

فوج میں بھی بیوروکریسیز ہوتی ہیں جب آپ آئی ایس آئی چیف تھے تو کیا وہاں بھی بیوروکریسی کر روایتی کاہلی تھی یا سب ہی ریاست کے اندر ریاست سے ڈرتے تھے؟ اس سوال کے جواب میں جنرل اسد درانی کا کہنا تھا کہ بلاشبہ بیوروکریسیز ہیں، ایک ملٹری بیوروکریسی اور ایک وزارت دفاع کی بیوروکریسی۔ ان کو جو اختیارات حاصل ہیں فوج اسے نظرانداز نہیں کرسکتی۔ فوجی بیوروکریسی عام بیوروکریسی سے بہرحال بہتر ہے۔ سول بیوروکریسی کوئی بھی فائل روک لیتی ہے کام کو آگے نہیں بڑھنے دیتی ۔ بھارت کے ساتھ مقابلہ کروں تو ہماری بیوروکریسی مضبوط ہے جس میں کچھ خامیاں بھی ہیں۔ طاقت تو یہ ہے کہ اس میں لوگ خوش ہوں یا نہ اپنا کام کرتے ہیں۔ کمزور یہ ہے کہ پاک فوج نے ملک کو جوڑ کر رکھا ہوا ہے مگر سیاسی آقائون کو قابو میں رکھنے کے لیے بیوروکریسی کے پاس زیادہ طاقت نہیں۔ بھارت میں صورت حال بہتر ہے۔ یہاں سیاستدانوں کو حد سے آگے نہیں جانے دیا جاتا۔ یہ امریکی سٹیبلشمنٹ کی طرح ہے وہاں بھی کسی کو ایک حد سے آگے جانے کی اجازت نہیں۔

بیوروکریسی کی اصل تباہی بھٹو دور میں شروع ہوئی

بیوروکریسی کو کہیں بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا، چاہے امریکہ ہو جرمنی ہو یا پاکستان اور بھارت۔ ہم جمہوری انداز میں کام کرنے کے زیادہ شائق نہیں ہیں۔ پاکستان میں بیورکریٹک کلچر کو بگاڑنے میں جمہوری حکمرانوں نے ہی نہیں فوجی قیادت نے بھی کردار ادا کیا ہے۔ جس کی وجہ سے بیوروکریسی غیر موثر ہوئی ، انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ ان کے مطالبے مانیں۔ یہ ہمارے ہاں پرانا کلچر ہے ۔ امرجیت سنگھ نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اندراگاندھی کے بعد بھارت میں بے غیر جانبدار بیوروکریسی ختم ہو گئی اب یہ کس حد تک موجود ہے تو وہ برطانیہ ہے۔ جنرل اسد درانی نے اس موقع پر کہا کہ ایوب خان کے دور میں اسے بہترکرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر بیوروکریسی کی اصل تباہی بھٹو دور میں شروع ہوئی اور ضیا دور میں یہ عروج پر پہنچ گئی۔ کرپشن کے کلچر نے اس کو اور بھی بھدا کر دیا۔ اور ملٹری کی بیوروکریسی بھی اس کلچر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکی۔

ہمارا کلچر وہ ہے کہ جہاں باس اختلاف کو پسند نہیں کرتا

سنہا نے اس موقع پر اسددرانی سے سوال کیا کہ  ایک بار آپ نے بتایا تھا کہ سوویت نظام اس لیے نہیں چل سکا تھا کیونکہ انہوں نے اختلاف کو برداشت نہیں کیا تھا تو کیا فوج میں بھی یہی نظام نہیں ہے۔ جنرل درانی نے اس کا جواب دیا کہ ہمارا نظام اب ایسا بن چکا ہے کہ اگر کسی کو کوئی چیز پسند نہین آتی تو اسے کہہ دیا جاتا ہے کہ تمھیں زیادہ پتہ نہیں ہے۔ ہمارا کلچر وہ ہے کہ جہاں باس اختلاف کو پسند نہیں کرتا۔ میں ایک بار جرمن آرمی کی ایک مشق کا حصہ تھا۔ شام کو ہم ایک بار میں گئے ۔ کچھ سپاہی تھے جبکہ کچھ افسر۔ ہر شخص نے اپنے جام کے پیسے خود دیے اور سب کھل کر ایک دوسرے سے اختلاف کرتے رہے۔ ہم ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں۔

اگلا باب پڑھیں

 

دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں صحافی خریدتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top