دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں صحافی خریدتی ہیں

دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں صحافی خریدتی ہیں

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ پانچواں باب، پارٹ 4

جب بھارتی جاسوس کو اسلام آباد میں پیٹا گیا

کیا اسلام آباد میں را کے لوگوں کو زیادہ مشکل کا سامنا رہتا ہے بنسبت دلی میں موجود آئی ایس آئی کے لوگوں کو۔ اس سوال کے جواب میں جنرل درانی نے کہا کہ مجھے اس بارے میں معلوم نہیں اور میرے دور میں کہ جب کشمیر کا معاملہ گرم تھا مجھے اس وقت بھی دونوں طرف سے کوئی خاص شکایات موصول نہیں ہوئی تھیں۔ مگر مجھے پتہ ہے دونوں ہی ایجنسیوں کے لوگ اپنی اپنی حکومتوں سے احتجاج کرتے رہتے ہیں کہ انہیں مشکل کا سامنا ہے۔ سابق را چیف نے اس پر اضافہ کیا کہ خوش قسمتی سے ہمارے دور میں ایسا کم ہی ہوا یہ بعد میں ہوا اور ہمارے کچھ افسروں کو پاکستان میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اترکھنڈ کے ایک افسر کو پیٹا گیا تھا، اس کی تصویریں اخبارات میں بھی اچھلی تھیں۔ جنرل درانی نے کہا کہ میں اس وقت ڈی جی ایم آئی تھا مجھے یاد نہیں۔

را نے چینل کو 25ملین ڈالر دیے

دونوں ایجنسیاں میڈیا کو کیسے استعمال کرتی  ہیں اس سوال کے جواب میں جنرل درانی نے کہا کہ میڈیا وار دونوں طرف سے ہی ہوتی ہے۔ بلکہ دونوں ہی ٹی وی چینلوں کو فنانس بھی کرتے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے کام کر سکیں۔ ایسا پہلا چینل بھارت نے بنایا تھا جس کو پیسے دیے گئے تھے۔ سابق را چیف نے اس پر کہا کہ کس نے پیسے دیے تھے ؟ کیا آئی ایس آئی نے؟ جنرل درانی نے کہا کہ نہیں اس وقت آئی ایس آئی ابھی اس وقت میدان میں نہیں اتری تھی ۔ دولت نے کہا کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ بھارتی چینل تھا جس بھارتی ایجنسی سپانسر کر رہی تھی؟ جنرل درانی بولے جی جی را نے۔ مجھے اگر ٹھیک یاد ہو 25ملین ڈالر دیے تھے اور یہ اس وقت معمولی رقم نہیں تھی۔ سنہا نے اس موقعہ پر لقمہ دیتے ہوئے کہا یہ تو آج بھی چھوٹی رقم نہیں ہے۔ سابق را چیف نے اس پر کہا لیکن یہ کس مقصد کے لیے تھے۔ میں نے کبھی اس بارے میں نہیں سنا۔ جنرل درانی نے کہا اس کا مقصد تھا کہ ایک ایسا چینل شروع کیا جائے جو را کے لیے کام کرے

دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں صحافی خریدتی ہیں

میڈیا وار کے حوالے سے جنرل درانی نے کہ اکہ دنیا بھر میں انٹیلی جینس ایجنسیاں یہ کرتی ہیں اس کا مقصد ہوتا ہے نفسیاتی جنگ کو جیتنا۔ سی آئی اے تیسرے درجے کی ایجنسی سہی مگر اس میدان میں وہ کافی کامیاب ہے۔ وہ کسی بھی ایشو پر جیسے پاکستان کے خلاف آگ اگلنا یا سول نیوکلئیر ڈیل کے فوائد جیسے موضوع پر کچھ صحافیوں کو جمع کر لیتی ہے۔ جب کسی میڈیا گروپ کا اعتبار قائم ہو جاتا ہے، تو اس کے بعد ایجنسیاں اپنے مقاصد کو بروئے کار لانا شروع کرتی ہیں۔ جس کے لیے مائیکرو منیجنگ کی جاتی ہے، کوریوگرافنگ، پردے کے پیچھے سے پتلیوں کی رسی ہلانا یا کوریج دینا یا نہ دینا جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ جنرل درانی نے یہ بھی کہا کہ میرا ملک ابھی اس میدان میں زیادہ آگے نہیں ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسیاں یہ کام بڑی مہارت سے کرتی ہیں۔ حقائق تراشنا، جنگ کے لیے ماحول بنانا یہ سارے کام یہ میڈیا کے ذریعے سے کرتے ہیں۔

آئی ایس آئی کے ایک افسر نے ہندو نام سے نیشن اخبار میں مضمون لکھا

جب آدیتیہ سنہا نے جنرل درانی سے یہ سوال کیا کہ آئی ایس آئی انڈیا کے کسی چینل کو سپانسر کیوں نہیں کرتی؟ تو جنرل درانی نے اس کا جواب دیا میرا خیال ہے کہ وزیراعظم اور نیشنل سکیورٹی کونسل بھارت میں اثاثے تخلیق کرنے کے خیال کی حوالے سے کچھ بیدار ہوئے تھے ان کا خیال تھا کہ یہ آئیڈیا برا نہیں ہے کہ انڈیا میں اپنے خلاف تاثر کو مینیج کیا جائے۔ اب یہ مجھے معلوم نہیں کہ انہیں درست اثاثہ ملا یا نہیں۔ یہ کام کتنا باریک ہے میں آپ کو ایک مثال دوں۔ لاہور کے ڈیلی نیشن میں ہندو یا سکھ کے نقلی نام سے ایک مضمون شائع ہوا۔ میں نے دیکھ لیا کہ یہ آئی ایس آئی کے کسی افسر نے لکھا ہوگا۔ جس آدمی کو پبلشنگ کے لیے مضمون دیا گیا اس نے اسے بھارت زدہ کرنے کے لیے اصطلاحیں تک تبدیل نہیں کی تھیں۔

اگلا باب پڑھیں

کونسی خفیہ ایجنسی کتنی طاقتور ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top