6-کونسی خفیہ ایجنسی کتنی طاقتور ہے؟

6-کونسی خفیہ ایجنسی کتنی طاقتور ہے؟

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ چھٹا باب

نوے کی دہائی میں فوجی نقل و حرکت بھارت نے عوام کو دھوکہ دینے کے لیے کی تھی

جنرل درانی کہتے ہیں کہ میں نے سی آئی اے کو کبھی بڑی ایجنسی نہیں سمجھا۔ وہ اچھے اندازوں پر یقنین ہی نہیں رکھتے انہوں نے بس بم ہی چلانے ہوتے ہیں۔ وہ صرف ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہیں۔ سہولت کار اور حتمی نتیجے میں اندازے صرف انسان ہی لگا سکتے ہیں۔ جیسے بھارتے کے ایٹمی ٹیسٹ کے وقت ان کے انٹیلی جینس ناکام ہوئی۔ یا شاید جان بوجھ کر ایسا کیا گیا۔ یا جیسے 1990کی مثال کو دیکھیں کہ جب رابرٹ گیٹس دوڑا دوڑا انڈیا پاکستان آگیا جب کشمیر کی وجہ سے بھارت نے پاکستانی سرحدوں پر فوجیں متحرک کر دی تھیں۔ اس وقت آئی ایس آئی کا تخمینہ تھا کہ بھارت کا کوئی جنگی ارادہ نہیں ہے کیونکہ ان کے اہم ترین جنگی آئٹم کنٹونمنٹوں میں ہی پڑے تھے۔ بس بھارت کی حکومت عوام کو اپنی سنجیدگی دکھانا چاہ رہی تھی۔ اس لیے ہم نے اپنی فوجی پوزیشن کو حالت امن والی پوزیشن پر ہی رکھا۔ اور ہمارا اندازہ درست نکلا۔ جبکہ امریکہ نے یہ دیکھا کہ بارڈر پر فوجیں متحرک ہیں اور کچھ کرینیں ہماری طرف حرکت میں تھیں جس سے انہوں نے سوچا کہ شاید ان میں میزائل ہیں۔ بہرحال گیٹس ڈر گیا کہ کہیں جوہری جنگ نہ ہو جائے۔ میرا پوائنٹ یہ ہے کہ جب انسانی انٹیلی جینس کی بات آتی ہے تو سی آئی اے اس میں مضبوط نہیں ہے۔ دونوں بار خلیجی جنگوں میں وہ غلط تھے وہ صرف امریکہ کے فوجی ایکشن کے جواز تراش رہے تھے ۔

امریکی سی آئی اے اکثر ہارنے والے گھوڑے پر دائو لگاتی ہے

آدیتیہ سنہا نے امرجیت سنگھ دولت سے پوچھا کہ آپ نے ذکر کیا کہ برطانوی سیٹ اپ میں ایم آئی 6 تجزیاتی کام نہیں کرتی۔ جس کے جواب میں سابق راچیف نے کہا کہ ہاں وہ نہیں کرتی۔ لیکن میرا مقصد یہ تھا کہ انسانی انٹیلی جینس اہم ہے۔ آپ کے پاس لوگ ہونے چاہئیں۔ اگر آپ حزب المجاہدین کے بارے میں صرف سننے پر اکتفا کریں گے اور تنظیم میں آپ کے لوگوں کی موجودگی نہیں ہوگی تو اکثر آپ کوغلط معلومات ہی کا سامنا ہوگا۔ ٹیکنالوجی سے معلومات نکالنے کی ایک حد ہے۔ کے جی بی ، سی آئی اے موساد بڑی خفیہ تنظیمیں ہیں مگر جنرل درانی نے درست کہا کہ بہت سے موقعوں پر سی آئی اے کے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ ان کے خام خیال زیادہ ہوتے ہیں ، فورا نتیجوں پر پہنچ جانا اور رپورٹیں بنا دینا ، انٹیلی جینس کا یہ طریقہ نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر 1980 کی بات لیں میں نیپال سے انڈیا آنے والا تھا۔ انڈیا میں ابھی ابھی الیکشن ہوئے تھے اور اندراگاندھی نے پھر اکثریتی سیٹیں لے لی تھیں۔ الیکشن سے قبل میری کھٹمنڈو میں سی آئی اے کے لوگوں کے ساتھ باتیں ہوئیں تو وہ پریقین تھے کے بابو جگجیون رام اگلے بھارتی وزیراعظم ہوں گے ایک بندے نے تو میرے ساتھ شرط تک لگا لی۔ مگر میں نے کہا نہیں مس گاندھی ہی واپس آئیں گے۔ میں چار سال سے بھارت سے دور تھا مگر مجھے یقین تھا۔ امریکی سی آئی اے اکثر ہارنے والے گھوڑے پر دائو لگاتی ہے۔

جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا

کے جی بی زیادہ سخت جان ہے، سابق را چیف کے مطابق کے جی بی نفاست سے کام نہیں کرتی اور کئی ملکوں میں ان کے لوگ مشکل میں پھنسے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ موساد والے سب سے زیادہ پروفیشنل ہیں لیکن میں نہیں جانتا۔ یہ اتنے سخت خو ہیں کہ انہیں اپنے ایجنڈے کے سوا کسی بات سے غرض نہیں ہوتی۔ لیکن موساد کو چند بہت اچھے چیف ملے ہیں۔ اس پر سنہا نے مزے کا سوال پوچھا کہ اگر موساد والے اتنے ہی تگڑے ہیں تو اسرائیل کا مسئلہ کیوں حل نہیں ہوا۔ اس پر دولت کا جواب تھا کہ مسئلے جامد مائنڈ سیٹ ک ساتھ حل نہیں ہوتے۔ کہ جو میں جانتا ہے، جو میرے مطابق درست ہے جو میرے مطابق غلط ہے۔ اگر سب طے شدہ ہے تو آپ کا کام رہ ہی کیا گیا۔ مسائل کے حل کے لیے کھلا دماغ ہونا ضروری ہے۔ موساد کا ایک میرا ہمعصر چیف تھا افرائیم حلیوی وہ ان میں مختلف تھا۔ اس موقع پر جنرل درانی بولے اور کہا موساد کو کچھ بہت اچھے چیف ملے ہیں ۔میں برلن میں پگواش کانفرنس کےد وران ان میں سے ایک کو دیکھا جس نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد شدید اور کھلے لفظوں میں کہا کہ اسرائین کا ایران پر حملہ کرنے کا خیال انتہائی احمقانہ تھا۔ دولت نے اس پر جنرل درانی سے اتفاق کیا۔

کونسی خفیہ ایجنسی کتنی طاقتور ہے؟

ایک سوال کے جواب میں جنرل درانی نے کہا کہ کے جی بی والے وہ ٹیسٹ پاس نہیں کر سکیں گے جو میں نے کیے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں اختلاف رائے کو نہیں سراہا جاتا۔ جس میں جونئیر اپنے سینئیر کونہیں کہہ سکتا کہ آپ غلط ہو۔ سابق را چیف اس کے بعد بولے اور کہا کہ یہ ہر ایجنسی کا حال ہے۔ کے جی بی کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ سب سے بہترین تھی۔ یہ وہ طریقہ ہے کہ جس سے پوٹین آج دنیا پر حکومت کر رہا ہے۔ یہ سرد  جنگ کے پرانے جنگجو جنہوں نے تبدیلیوں کو گلے سے نہیں لگایا جو روس میں آچکی ہیں۔ اسی لیے تو پوٹین وہ دور واپس لانے کے چکر میں جب سوویت یونین غالب تھا۔ جنرل درانی نے اس موقع پر کہا کہ میرے خیال میں جرمن بی این ڈی زیادہ منظم انداز سے کام کرتی ہے، ان کے کام کرنے کا طریقہ زیادہ سنجیدہ ہے۔ ویسے بھی جرمن کافی سنجیدہ لوگ ہیں مگر ان کی پراڈکٹ بعض اوقات زیادہ معیار کی نہیں ہوتی۔ دراصل بی این ڈی خود کو کامل رکھنے کے اپنے مرض کی مریض ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہر چیزاول تا آخر درست اور بے خظا ہو۔ تزویراتی تخمینہ لگانا والوں کو ایس کاملیت پسند نہیں ہونا چاہیے، ان کے پاس ہر قسم کی صورت حال کے لیے منصوبہ ہونا ضروری ہے ، یہ بی این ڈی کی خامی ہے۔ اس موقع پر سابق را چیف کا کہنا تھا کہ ہر ایجنسی یہ ماننا پسند کرتی ہے کہ اس کے پاس دنیا بھر سے زیادہ معلومات ہیں۔ پروفیشنل انداز میں دیکھوں تو میرے خیال میں برطانوی ایجنسی اچھی ہے۔ وہ کم بات کرتے ہیں اور خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں۔ سنہا نے اس موقع پر مزاق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس جیمز بانڈ بھی تو ہے اس پر جنرل درانی نے کہا کہ جیمز بانڈ کے بارے میں تو میں نہ جانتا لیکن سیون سیون کے بعد انہوں نے جس خاموشی کے ساتھ کام کیا وہ کام کا بہتر طریقہ ہے۔ ویسے بھی برطانویوں کی شہرت یہ ہے کہ وہ سوسال آگے ہوتے ہیں۔ اسی بنیاد پر وہ کئی صدیاں دنیا کی اکیلی سپر پاور رہی ہے ۔ جب 1990-91میں امریکہ سپر پاور بنا تو وہ برطانیہ سے کہیں بڑی معاشی سیاسی اور فوجی طاقت تھا کوئی خطرہ نہیں کوئی چیلنج نہیں مگر صرف دس سال میں ہی ان کا زوال شروع ہو گیا آج کون انہیں سیریس لیتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف بہت سے بم گرا سکتے ہیں اور شاید وہ صرف یہی کرنے کے قابل رہ گئے ہیں۔

سی آئی اے کا ایک سیکشن صرف پبلسٹی کے لیے مخصوص ہے

ان ایجنسیوں کے تاریخی ریکارڈ کو تصنیف کی صورت میں محفوظ کیوں نہیں کیا جاتا؟ اس سوال کے جواب میں جنرل درانی نے کہا کہ The Bear Trap کے عنوان سے آئی ایس آئی نے تو کوشش کی ہے۔ سابق را چیف نے بھی بتایا کہ ملک صاحب نے بھی اپنی یادداشتیں قلم بند کی ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر یادداشتیں اور صحافتی حوالے بھی ہیں۔ جنرل درانی نے کہا کہ یہ رویہ غلط ہے کہ کوئی بندہ چھ ماہ ایجنسیوں کے ساتھ گزارے اور کتاب لکھ مارے۔ سوویت انخلا کے بعد پیٹر ٹامسن امریکی صدر کے خصوصی انوائے مقرر ہوئے وہ میرے آئی ایس آئی کے دور میں وہیں تھے۔ میں نے تو کبھی اس شخص پر وقت ضائع کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ایک بار تو امریکی سفیر نے مجھ سے یہ تک کہا کہ تم اس سے کیوں نہیں ملتے ؟ میں نے کہا کہ میں نے تو اس کا نام تک نہیں سنا کون ہے یہ شخص۔ پھر بھی میں اس سے ملا مجھے وہ معمول صلاحیتوں کا بندہ لگا۔ اس بندے نے جا کر واپسی پر کتاب لکھ دی وہ بھی صرف اخبارات دیکھ کر ، وہ کسی سے ملا تک نہیں۔ مجھ پر اس کتاب میں پورا ایک باب تھا۔ اس کی کتاب کو پڑھیں تو یوں لگتا ہے کہ افغانستان میں وہی سب کچھ تھا میں اس کا ڈپٹی تھا۔ اس پر سنہا نے کہ سطحی بات مگر سی آئی اے کتابیں چھاپتی تو ہے۔ اس پر سابق را چیف نے کہا کہ سی آئی اے کا ایک سیکشن ہے جو پبلسٹی کے معاملات دیکھتا ہے وہ اس پر کافی توجہ دیتے ہیں۔ جنرل درانی نے کہا کہ میں تو ایسی فضول کتابیں پڑھنے پر اپنا وقت کبھی ضائع نہ کروں۔  ہم بس یہ سمجھتے ہیں کہ سی آئی اے کے بندے نے کتاب لکھی ہے، ٹھیک ہو گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے قلم پر تلوار کا سایہ ہے وہ تلوار یا طاقت جو ہمارے پاس نہیں ہے۔

اگلا باب پڑھیں

7-نریندر مودی کے ہوتے امن نہیں ہو سکتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top