7-نریندر مودی کے ہوتے امن نہیں ہو سکتا

7-نریندر مودی کے ہوتے امن نہیں ہو سکتا

  آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ ساتواں باب

سابق سربراہان کی ملاقاتوں سے کوئی ناخوش ہوا؟

جنرل اسد درانی اور سابق را چیف امرجیت سنگھ دولت، دونوں ہی کہتے ہیں کہ ان کی ملاقاتوں پر ان کی ایجنسیوں میں کسی کو پریشانی نہیں ہوئی۔ وہ دونوں اپنی مرضی کے مالک ہیں اور ان کی ایجنسیوں کے لوگ جانتے ہیں کہ وہ اپنی بات ذمہ داری سے کرتے ہیں۔

را چیف نے تعریف کی آڑ میں آئی ایس آئی پر طنز کر ڈالا

جنرل اسد درانی نے 1991 میں اپنی اور را کے چیف باجپائی کی ملاقات کی تفصیل بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات مقبوضہ کشمیر میں علیحدگی کی تحریک شروع ہونے کے بعد ہوئی تھی۔ میں ابھی ناتجربہ کار تھا جبکہ را چیف بہت تجربہ کار تھے۔ اس موقع پر امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں کہ انہیں یہ بات سن کر حیرانی ہوئی کہ جنرل اسد درانی را چیف کو تجکربہ کار کہہ رہے ہیں۔ جبکہ ہم لوگ سمجھتے ہیں کہ آئی ایس آئی بہت طاقتور ہے اور وہ جو چاہے کر سکتی ہے کیونکہ وہ ریاست کے اندر ریاست ہے۔

آئی ایس آئی اور را چیفس کی ملاقاتیں ہونی چاہئیں؟

جنرل اسد درانی اور امرجیت سنگھ دولت دونوں ہی مانتے ہیں کہ آئی ایس آئی اور را کے چیفس کی ملاقاتیں ہونی چاہیں۔ ان ملاقاتوں کو منظم طریقے سے مسلسل منعقد کرنا فائدہ مند ہے۔ جنرل درانی کہتے ہیں کہ جب وہ را چیف باجپائی سے ملے تھے تو بہت عرصے تک وہ اس ملاقات سے انکار کرتے رہے۔ آخر انہوں نے تسلیم کر لیا کہ یہ ملاقات ہوئی تھی۔

امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں کہ اگرچیفس کی سطح پر ملاقات ممکن نہیں ہے تو بھی خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کی ملاقاتیں ضروری ہونی چاہئیں۔ جنرل اسد درانی نے کہا کہ اگر را یا آئی ایس آئی کے سربراہ کچھ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو بھی وہ تنہا کچھ نہیں کرسکتے اس کے لیے ساری اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔

جب را چیف نے اسد درانی کو دوست کہا

جنرل درانی کہتےہیں کہ ان کے ایک دوست نے انہیں ٹیلیفون پر کہا تھا کہ وہ ٹی وی چینل آن کر کے امرجیت سنگھ دولت کا انٹرویو دیکھیں۔ جب انہوں نے ٹی وی آن کیا تو دولت کا انٹرویو چل رہا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان میں ان کا کوئی دوست ہے تو انہوں نے اسد درانی کا نام لیا۔

خفیہ ایجنسیوں کے افسروں کی ملاقاتیں سفیروں سے زیادہ فائدہ مند ہیں

را کے سابق چیف کہتے ہیں کہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی زیادہ بہتر ہے۔ ان ملاقاتوں کے دوران خفیہ ایجنسیوں کے ریٹائرڈ افسروں کی بات چیت بہت کامیاب رہتی ہے۔ جبکہ سابق سفیر آپس میں گھل مل نہیں پاتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اب بھی حکومتی سطح پر بات کررہے ہیں حالانکہ وہ ریٹائر ہو چکے ہوتے ہیں۔

نریندر مودی کی موجودگی میں سمجھوتہ ممکن نہیں

را کے سابق سربراہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں یہ سوچ بڑھ رہی ہے کہ جب تک مودی وزیراعظم ہیں تب تک مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل سکتا۔ جنرل درانی کہتے ہیں کہ 2016 میں بھارت میں مقبوضہ کشمیر میں جو تحریک شروع ہوئی تھی اس سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم اڑی سیکٹر حملے اور پھر نام نہاد سرجیکل سٹرائیکس کی وجہ سے حالات خراب ہو گئے۔ پاکستانیوں کو اس بات کا خوف ہے اڑی جیسے مزید حملے ہوں گے تو سرجیکل سٹرائیکس کی باتیں بھی ہوں گی اور حالات خراب ہی رہیں گے۔

اگلا باب پڑھیں

8 A-کشمیر کے حالات جوں کے توں کیوں ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top