8 A-کشمیر کے حالات جوں کے توں کیوں ہیں

8 A-کشمیر کے حالات جوں کے توں کیوں ہیں

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ آٹھواں باب، پارٹ 1

بھارت کو کشمیرکے مسئلے کے حل میں دلچسپی نہیں ہے

جنرل درانی نے کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں بھارت سٹیٹس کو کی طاقت ہے۔ پاکستان کے لیے اس کا مطلب ہے کہ کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہونی۔ اس وقت ہم صرف اور صرف کشمیر پر سوچ رہے تھے۔ کشمیر پر ہماری پالیسی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ اس مسئلے کو حل کی طرف لے جایا جائے مگر کوئی بھی اسے سنجیدہ نہیں لے رہا تھا۔ پاکستان واحد ملک ہے جو کشمیر کے سٹیٹس کو کو بدلنا چاہتا ہے کیونکہ یہ وہاں کے حالات سے خوش نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ 1998 کا کمپوزٹ ڈائیلاگ شاندار فریم ورک تھا جو پاک بھارت تعلقات کا حل بن سکتا تھا۔ وہ شاندار فارمولا تھا جس پر مذاکرات چل رہے تھے ، اعتماد سازی ہو چکی تھی۔ اور جب دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہو جاتی تو ہم کشمیر او سکیورٹی کے سنجیدہ مسائل کو میز پر لا سکتے تھے بعدازاں دہشت گردی کو بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کیا جا سکتا تھا۔ یہ مذاکرات کام کر رہے تھے اور جب 2006میں بھارتی وزیر خارجہ نے اسلام آباد کا دورہ کیا اور معاہدے پر دستخط کیے تو اس وقت بھی بہت امید تھی کہ حالات بہتری کی طرف جائیں گے۔ مجھے بھی اس معاہدے کا اعلان کرنے کے لیے اسلام آباد بلایا گیا میں فورا یورپ سے پاکستان آیا۔ اس وقت امید پیدا ہوئی تھی کہ دونوں ملک لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف کی کشمیری قیادت کو مل بیٹھنے کا موقع دے کر امن عمل کا آغاز کریں گے۔ اس وقت دوستی بس کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا گیا تب کچھ آوازیں ابھریں کہ اگر بس اڑا دی گئی تو کیا ہوگا۔ یہ تھوڑا سا خطرناک تھا مگر امن عمل کا شاندار آغاز بھی تھا۔ مگر یہ سب علامتی اقدامات تھے ٹھوس اقدامات تو دوسرے ٹریکس پر ہو رہے تھے۔ مگر جب سادہ سادہ چیزوں پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تو یہ وہ وقت تھا جب میں نے نتیجہ نکالا کہ بھارت سٹیٹس کو کو قائم رکھنے میں ہی دلچسپی رکھتا ہے۔

کشمیر میں سٹیٹس کو بدلا تو حالات بھارت کے قابو میں نہیں رہیں گے

جنرل درانی کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں بھارت یہ سوچتا ہے کہ اگر خطے میں سٹیٹس کو تبدیلی ہوا تو حالات اس کے بس سے باہر ہو جائیں گے۔ اگرکشمیر میں صورت حال ایک حاص حد سے زیادہ خراب ہوتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے ہی نقصان دہ نہیں ہوگی بلکہ بھارت کو بھی اس کا نقصان ہوگا۔ اسی طرح اگر کشمیری جدوجہد میں تیزی آتی ہے تو یہ بھارت کے لیے مفید  نہیں ہوگا، مگر پاکستان کا اعتماد اس سے بڑھے گا کشمیریوں کی آواز کچھ اور بلند ہوگی اور انہیں لگے گا کہ وہ اس صورت حال سے کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس لیے بھارت نے سوچا کہ کشمیری جدوجہد میں تیزی کو روکنا ہے۔ بھارت آرام دہ صورت حال میں ہے، پاکستان کو مسائل کا سامنا ہے۔ انڈیا حالات کو جوں کا توں رکھنے میں ہی دلچسپی رکھ رہا ہے حتی کہ اس کے لیے وہ اس طرف بھی نہیں بڑھ پارہا جہاں اسے فائدہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اسے خطرہ ہے کہ وہ پرانےد وست کھو بیٹھے گا جن کے ساتھ وہ آرام دہ ہے۔ جب اس نتیجے پر پہنچا تو تب بات سمجھ آئی کہ بھارت نے کیوں جنرل مشرف کی پیشقدمی پر کوئی ردعمل نہ دیا ۔

بیس لڑکے ہیں جن کے پیچھے کشمیر کی آبادی چل رہی ہے

کشمیر پر جنرل درانی کے خیالات سننے کے بعد امرجیت سنگھ دولت نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کشمیرکے تنازعے پر آپ ہمیشہ یہی دلیلیں دیتے ہیں۔ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان کچھ بھی نہیں ہے تو آخر سٹیٹس کو سے آپ کی مراد کیا ہے؟میں ہمیشہ اس بات کا حامی رہا ہوں کہ سٹیٹس کو کچھ نہیں ہے اور اگر کچھ ہے تو اس کا فائدہ پاکستان کو ہورہا ہے اور کسی کو نہیں۔ میں آپ کو اس کی ایک ٹھوس مثال دیتا ہوں۔ آج کے کشمیر کو دیکھیں۔ یہ 2012 سے سٹیٹس کو کی حالت میں ہے۔ مگر یہ سٹیٹس کو پاکستان کے حق میں ہے کیونکہ بھارت کی بی جے پی کی حکومت نے کشمیریوں کو کافی مایوس کیا ہے۔ محبوبہ مفتی یہ بات جانتی ہے مگر وہ پھنس چکی ہے۔ اور پاکستان اور بھارت دونوں جانتے ہیں کہ کشمیر میں عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔ جب سے کشمیر کی تحریک شروع ہوئی ہے یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کشمیریوں پر مبنی ہے۔ کشمیری نوجوان مایوس اور پریشان ہیں۔ یہ بیس تیس ہی لڑکے ہیں  مگر پوری آبادی ہی ان کے پیچھے چلنے پر راضی ہے۔ یہ صورت حال ہمارے لیے پریشان کن ہے تو آپ مجھے بتائیں کہ سٹیٹس کو ہمارے لیے کیسے مفید ہوا؟ ہاں میں موجودہ صورت حال کو دیکھوں تو یہ سٹیٹس کو پاکستان کے حق میں زیادہ ہے۔ لیکن بڑے تناظر میں دیکھیں تو سٹیٹس کو کبھی مددگار نہیں ہوتا۔

جلد یا بدیر بھارت کو اپنی کشمیر پالیسی کو بدلنا ہوگا

کشمیر پر دولت کے خیالات سننے کے بعد جنرل درانی نے کہا کہ پچھلے ایک دوسال سے میں دیکھ رہا ہوئی کہ مسٹر دولت کہہ رہے ہیں کہ سٹیٹس کو پاکستان کے حق میں ہے۔ میں یہ منطق سمجھنے سے قاصر ہوں۔ ہاں یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ سٹیٹس کو پاکستان کے زیادہ خلاف نہیں کیونکہ کشمیر میں جدوجہد جاری ہے اور جلد یا بدیر بھارت کو اپنی کشمیر پالیسی کو بدلنا ہوگا لیکن کشمیری مر رہے ہیں۔ اور اس صورت حال میں ہم چپ رہے تو لائن آف کنٹرول کی اس طرف بھی اس کا اثر پڑے گا۔ مگر ایسے خاموش نہیں بیٹھا جا سکتا ہمیں اور بھی کچھ کرنا ہے۔ میں تو بعض اوقات کہتا ہوں ہمارے تعلقات ہمارے تزویراتی استحکام کا باعث بنے ہیں۔

اگلا پارٹ پڑھیں

8b-منموہن نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ طے ہوگیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top