8b-منموہن نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ طے ہوگیا ہے

8b-منموہن نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ طے ہوگیا ہے

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ آٹھواں باب، پارٹ 2

کشمیر کی موجودہ صورت حال ایسی ہے کہ دونوں ملک ہاریں گے

سابق راچیف کا کہنا تھا کہ کشمیر میں مستقل خانہ جنگی مثبت کیسے ہوسکتی ہے۔ اگر ہم انٹیلی جینس ایجنسی پر ملکر مقالہ لکھ سکتے ہیں اور اگر اپنی ہر ملاقات میں ہم نے انٹیلی جینس چیفس کی ملاقاتوں کی حمایت کی ہے تو یہ سٹیٹس کو کہاں سے ہوا۔ بلکہ میں نے تو یہ بھی کہا ہوا ہے کہ دونوں دارالحکومتوں میں خفیہ ایجنسیوں کے سٹیشن چیفس آفیشل پوسٹ ہونی چاہیے۔ ہمارا بھارت میں یہ معمول تھا کہ ہم آل پارٹیز حریت کانفرنس کی دلی میں پاکستان ہائی کمیشن میں چائے پارٹی کو روکیں۔ پھر جب 1995 میں صدر فاروق لغاری نے بھارت کا دورہ کیا تو نرسمہارائو نے کہا کہ یہ حماقت بند کرو۔ جو بھی کسی سے ملنا چاہتا ہے یا ملک سے باہر جانا چاہتا ہے اسے جانے دو۔ بلکہ واجپائی کے دور میں تو حریت کے لیڈروں کو پاکستان جانے میں سہولت مہیا کی جاتی تھی۔ مطلب یہ کہ پیش رفت ہو رہی تھی مگر پھریہ رک گئی۔ اور اب صورت حال یہ ہے کہ ہم پیچھے کی طرف جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی وہیں ہیں جہاں ہم تھے۔ دہلی میں آج مزاج یہ بن چکا ہے کہ حریت سے بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حتی کہ فاروق عبداللہ سے بھی بات کرنے کی ضرورت نہیں حالانکہ یہ وہ شخص ہے جو کشمیر، دہلی بلکہ پوری دنیا میں کشمیر کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔ اسی لیے وہ شخص کبھی جنوبی افریقہ کبھی دوبئی  اور کبھی کہیں اپنے گھروالوں کے ساتھ چھٹیاں مناتا پھر رہا ہے۔ یہ وہ صورت ہے جس میں دونوں ملک ہاریں گے۔

کشمیر پر مشرف کا چار نکاتی فارمولا معقول تھا

جنرل درانی نے اپنے جواب میں کہا کہ سٹیٹس کو کا یہ مطلب نہیں کہ ملاقاتیں یا پیش رفت یا آنا جانا نہ ہو۔ مگر بھارت نے یہ ساری سرگرمیاں اس طرح انتظام کر رکھی ہیں کہ سیاسی انتظام میں کوئی تبدیلی نہ ہو۔ مشرف نے جو چار نکاتی فارمولا دیا تھا وہ ان کے بقول معقول تھا اور بہت سوں کی نظر میں وہ بھارت کے حق میں تھا مگر بھارت اس میں بھی ہچکچاتا رہا۔ میں یہ مانتا ہوں کہ پاک بھارت تعلقات بہتر ہونا چاہیں، اور صرف کشمیر تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ امن کے لیے کیونکہ اسی طرح ہم پالیسیوں پر سمجھوتہ کرنا سکیھیں گے اور پیش رفت کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ کچھ دو اور کچھ لو۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ امن کی قیمت بعض اوقات تصادم کی قیمت سے کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ تصادم قابل انتظام ہوتا ہے، کبھی کبھار فائرنگ ہو گئی اور شاید لوگ بھی مریں۔ لیکن امن کی قیمت میں کشمیر کی پرانی تقسیم کو ماننا، پاکستان کے ساتھ نئی قسم کے تعلقات، انڈس واٹر ٹریٹی میں تبدیلیاں وغیرہ وغیرہ ۔ امن نئی حرکیات کو جنم دیتا ہے۔

منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ کشمیر ڈیل طے ہوگئی ہے

امرجیت سنگھ نے کہا کہ میں اس بات پر متفق ہوں کہ سادہ چیزیں بھی ہم نہیں کر پائے۔ چارنکاتی فارمولا پاکستان کی طرف سےا ٓیا تھا اور کشمیریوں نے بھی اسے قبول کیا تھا۔ بھارت کو بھی اس پر زیادہ اعتراض نہیں تھا اس لیے یہ فارمولا عملی تھا۔ مگر پھر بیک چینل باتیں ہوئیں اور ہوتی ہی چلی گئیں۔ ہمیں اس وقت یہ کرنا چاہیے تھا کہ میز پر بیٹھتے اور مشرف کے چار نکات پر بات کرتے اور جن باتوں پر اعتراض تھا ان کو بحث کا موضوع بناتے ۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ معاملہ طے ہوگیا مگر معاملہ طے پاکر بھی طے نہ پا سکا ، یہی پاک بھارت تعلقات کا المیہ ہے۔ مگر چارنکاتی فارمولے کی یہ کھڑکی بھی مشرف کی رخصتی سے پہلے بند ہوگئی، اور اس کے جانے کے بعد ہم بھارتیوں نے کہنا شروع کردیا کہ وہ ہوتا تو بات آگے بڑھ سکتی تھی۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ مشرف ہی وہ شخص تھا جس کے بارے میں ہم کہتے تھے کہ کارگل کا ولن وہی ہے۔ مشرف نے ہمیشہ ایک بات کی تھی کہ جو کشمیر کا کوئی بھی ایسا حل انہیں قبول ہے جو کشمیریوں کو قبول ہے۔ اور اس کا چارنکاتی فارمولا اسی اصول کی بنیاد پر ہی تھا۔

کیا کشمیر20سال بعد بھی اسی حالت میں ہوگا

کشمیر پر یہی بحث جاری تھی کہ جب آدیتیہ سنہا نے مزیدار سوال کیا کہ کیا بیس سال بعد بھی سٹیٹس کو کی یہی حالت ہوگی اور ہم یہی باتیں بیٹھے کر رہے ہوں گے۔ اس پر سابق را چیف نے کہا مجھے نہیں معلوم کہ کیا اصطلاح استعمال کروں مگر حقیقت یہ ہے کہ جب حالات منفی ہوں تو سٹیٹس کو کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ ایٹمی تجربوں سے پہلے اسی کو تزویراتی استحکام کا نام دیا ہوا تھا۔ ہم اکثر اس پر بات کرتے ہیں بلکہ ہماری وزارت دفاع نے تو اس موضوع پر میری آرا کو شائع بھی کیا ہے۔ مرکزی بات یہ ہے کہ تذویراتی استحکام موجود ہے مگر یہ استحکام بھی ساقط نہیں ہوتا متحرک ہوتا ہے۔ اور بیس سال بعد کی بات کروں تو ہمارے درمیان استحکام ہوگا چاہے مختلف قسم کا بھی ہو۔ پتہ نہیں اگلے بیس سال بلکہ اگلے ایک سال میں کیا ہو جائے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ تب کا سٹیٹس کو نوے یا اسی کی دہائی کا سٹیٹس کو نہیں کہلائے گا۔ میں بیس سال پیچھے جائوں تو تب بھی یہی مسئلے تھے، پاک بھارت تنازعہ، کشمیر افغانستان۔ بیانیہ کم و بیش وہی ہے۔جنرل درانی نے اس پر کہا کہ  سٹیٹس کوکا مطلب ہے بنیادی طور پر مختلف قسم کا استحکام ۔ یعنی ہم جتنا بدلتے ہیں اتنا ہی ویسے رہتے ہیں۔

اگلی سپر پاور کون ؟ امریکہ روس یا چین

جنرل درانی نے اگلی سپرپاور کون ہوگی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بیس سال پہلے امریکہ سوویت روس کو دیکھ لیں۔ سوویت یونین ٹوٹ گیا، امریکا اگلی سپر پاور بن گیا، تنہا سپر پاور۔ اور اب پھر جنگ جاری ہے جس میں ایک طرف امریکا ہے اور دوسری طرف روس یا چین و روس کا اتحاد۔ یورپ بھی اب امریکہ کاایسا حلیف نہیں رہا جیسا کبھی ہوتا تھا۔ اب صورت حال ایسی ہے کہ مختلف طاقتیں طاقت کے توازن کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اگلا پارٹ پڑھیں

کشمیر، بلوچستان اور برصغیر کی تقسیم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top