c8-کشمیر، بلوچستان اور برصغیر کی تقسیم

c8-کشمیر، بلوچستان اور برصغیر کی تقسیم

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ آٹھواں باب، پارٹ 3

سارک ۔۔۔ ہرچند کہیں کہ ہے نہیں ہے

سنہا نے سوال کیا کہ کیا بیس سال بھی سارک کا وجود باقی ہوگا۔ جس پر جنرل درانی نے کہا کہ مجھے تو اب بھی اس کا وجود نظر نہیں آتا اور آیا اس کی کوئی اہمیت ہے بھی یا نہیں۔ اس کی اہمیت بھارت کی ایٹم بم پہلے نہ استعمال کرنے کی جوہری پالیسی سے بھی کم ہے جو کہ صرف نعرہ ہے۔ میری نظر میں سارک صرف ایک ایسا فورم ہے جہاں مل بیٹھنے کا موقع ملتا ہے تاکہ لوگ گپ شپ کر سکیں۔ اس تبصرے پر سابق را چیف نے امریکی صدرکنیڈی اور روسی رہنما خروشیف کی گفتگو کا ایک ٹکڑا سنایا جس میں روسی رہنما دریا کے ایک پل کا ذکر کر رہا ہے، اس نے کہا لوگوں کو بتائو کہ دریا پر پل ہے چاہے وہ پل نہ بھی ہو۔ لوگ یقین کر گئے تو کام ہوجائے گا۔ جنرل درانی نے اس مثال کو پاکستان کے جوہری پروگرام پر لاگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایٹمی تجربے نہیں کیے تھے لیکن اگر لوگوں کو یقین تھا کہ ہمارے پاس بم ہے تو ہمارا مقصد پورا ہو گیا۔ امرجیت سنگھ دولت نے مثال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پاکستان اور انڈیا کے درمیان پل تعمیر کرنا چاہیے لیکن جب تک یہ پل تعمیر نہیں بھی ہوتا تو بھی لوگوں کو یقین ہونا چاہیے کہ یہ پل بنے گا میں صرف آپ کی وجہ سے لفظ ’امید‘ استعمال نہیں کر رہا۔

دہلی کے پنجابی طے کر کے بیٹھے ہیں کہ پاک بھارت تعلق بہتر نہیں ہوں گے

سابق را چیف نے بتایا کہ جب اپریل 2005 میں جنرل مشرف دہلی کرکٹ میچ دیکھنے آئے۔ ان دنوں کی بات ہے کہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ لان میں بیٹھا تھا میرا کزن وہاں اپنے ایک دوست کے ساتھ آیا جس کا تعلق پاکستان سے تھا اور کراچی و لاہور میں جس کے بزنس تھے۔ میں نے اسے خوش آمدید کہا اور ڈرنکس آفر کیے۔ جب وہ جانے لگا تو اس نے کہا یہاں مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے میں لاہور یا کراچی میں ہوں۔ یہاں اور وہاں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں طرف کے پنجاب کے تعلق ایسے ہیں۔ اس لیے دونوں ملکوں کے لوگوں کے درمیان رابطے بہت اہم ہیں۔ میں اپنی کم عقلی کو تسلیم کرتا ہوں کہ جب میں آئی بی میں تھا تو میں دونوں ملکوں کے درمیان عوامی رابطوں کا مخالف تھا۔ میں کہا کرتا تھا کہ پاکستان نے کشیمر میں ہمیں ذلیل کر رکھا ہے اور لوگ آپسی رابطوں کی بات کر رہے ہیں، مگر اس کے بعد میں نے بہت کچھ دیکھا، تجربہ کیا اور میں سمجھتا ہوں کے دونوں ملکوں کے درمیان عوامی رابطے ہونے چاہیں۔ حققیت یہ ہے کہ دلی کے باسی شمالی اور پنجابی کلچر کے لوگوں نے سوچ رکھا ہے کہ ان دو ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کی کوئی امید نہیں جبکہ ہندوستان کے باقی علاقوں کے لوگ دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات کے حوالے سے پرامید ہیں۔

ستر سالوں میں بلوچستان میں پانچ کے قریب بغاوتیں ہوئیں

جنرل درانی نے کہا کہ یہ سوچنا مشکل ہے کہ بھارت کشمیر کے معاملے پر کوئی خلاف معمول اقدامات کرے گا۔ بھارت اسی طرح مسئلے کو ڈیل کرتا رہے گا، جو بھی ہو یہ اسے سنبھال سکتا ہے، یہ کشمیریوں کو فوجی طاقت سے دبا سکتا ہے، انہیں مراعات دے کر خوش کر سکتا ہے۔ یہ ہوا ہے اور ہوتا رہے گا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسئلہ مر جائے گا۔ میں پاکستان کی مثال دوں گذشتہ ستر سالوں میں بلوچستان میں پانچ کے قریب بغاوتیں ہوئیں جس میں تھوڑے سے لوگ ہی ملوث تھے پانچ ہزار سے دس ہزار کے قریب ناراض نوجوان۔ مگر بلوچستان ایک وسیع علاقہ ہے اس لیے وہ پھیل جاتے تھے۔ یہ لوگ متحد بھی نہیں تھے ہم نے ہر دفعہ اس کو سنبھال لیا ہے اور اسے چونتیس اضلاع سے سمیٹ کر پانچ یا چھ اضلاع تک لے آئے ہیں۔ ان کی کمزوری اور انہیں سنبھال سکنے کی ہماری صلاحیت کے باوجود مسئلہ موجود ہے،بات پانچ ہزار لوگوں کی نہیں، وہ لوگ جو ان کے ساتھ نہیں اور جو پاکستان کے ساتھ ہیں ان کو بھی پاکستان سے گلے ہیں اور یہ لوگ کم نہیں ہیں۔ ہماری معیشت اور سیاست میں کچھ وراثتی خامیاں ہیں جو بہت پیچیدہ ہیں اور یہ جاری رہیں گے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مسائل کے حل کے کئی طویل المعیاد اور قلیل المدتی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ یہی کچھ کشمیر میں بھی جاری ہے۔

کشمیر حل نہ ہوا تو برہان وانی پیدا ہوتے رہیں گے

اس پر سنہا نے سوال کیا کہ اگلے بیس سال کے دوران برہان وانی پیدا ہوتے رہیں گے؟ اس پر جنرل درانی نے کہا کہ یہ سمجھ لینا کہ ہم کشمیر کو سنبھال لیں گے ، کریک ڈائون کر لیں گے یا سیاسی انتظام کر لیں گے  اور اس خیال سے چمٹے رہنا مسئلے کا حل نہیں کہ کشمیر ہمارا ہے۔ کشمیر کا شعلہ کئی بار سلگا ہے، اس کی وجہ یہ نہیں کہ پاکستان نے کچھ کیا۔ کبھی کسی مدعے پر کبھی کسی مسئلے پر یہ شعلہ سلگتا رہے گا۔ کشمیر ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور کشمیری امور کے ماہرین کی آرا سے طے نہیں ہوگا۔ اس پر ایس اے دولت نے جواب دیا یہاں کوئی امور کشمیر کا ماہر نہیں۔ کشمیر کا مسئلہ اگلے بیس یا پچاس سال میں کہیں جاتا نظر نہیں آرہا اگر کشمیر کو دیکھنے کا نظریہ ہم نے نہیں بدلا برہان وانی پیدا ہوتے رہیں گے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ ہم کشمیر کے ساتھ ایماندار نہیں ہیں۔

دلی میں کئی لوگ ہیں جو کہہ رہے ہیں پاکستان ٹوٹ جائے گا

سنہا نے سوال کیا کہ کشمیریوں کو یہ بھی ڈر ہے کہ وہاں آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے کیا اس سے سٹیٹس کو نہیں بدلے گا۔ اس پر جنرل درانی نے کہا ایک طریقہ تو ہے بس یاترا یا یوری جیسے طریقوں سے کوئی دھماکہ انگیز واقعات کا ہونا۔ میری تجویز زیادہ ٹھوس بنیادیں رکھتی ہے۔ ہم دونوں بات کر رہے ہیں یا لوگوں کو پھُسلانے کی کوشش نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد ہے مباحثہ۔ ہو سکتا ہے سال ڈیڑھ سال بعد اسی موضوع پر سنجیدگی سے بات ہونا شروع ہو جائے۔ اس سے سٹیٹس کو میں حقیقی تبدیلی آئے گی۔ مثال کے طور پرایک ٹی وی چینل پر یہ مباحثہ چل رہا تھا کہ کشمیر اگر دونوں سے آزاد ہوجائے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے، پاکستان کے لیے برا ہے یا بھارت کے لیے۔ ایسی بحثیں نئی راہیں تراشتی ہیں۔ بھارت تقسیم ہوا پاکستان اور بھارت بنے، پاکستان تقسیم ہوا پاکستان اور بنگلہ دیش بنا۔ ان واقعات سے پہلے کوئی ان کو تقسیم کرنے کی بات کرتا تو سر اڑا دیا جاتا مگر کسی نہ کسی سٹیج پر یہ ہو کر رہا۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں مباحثہ ضروری ہے۔ اس پر دولت نے سوال کیا سر دلی میں کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو یہ فضول بات کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا اس پر جنرل درانی نے کہا تو اس پر بات کرو کہ اس کے نتائج کیا نکلیں اچھے یا برے۔ جو بھی ہے اس پر مباحثہ کرو چاہے آپ کے لیے اچھا یا برا۔  

حمید گل کہتے تھے بھارت کو توڑنا ہوگا

سابق را چیف نے کہا کہ واجپائی سیانا سیاستدان تھا جو تمام تر مشوروں کے باوجود مینار پاکستان پر گئے۔ اس پر جنرل درانی نے کہا کہ حمید گل بات کیا کرتے تھے کہ بھارت ہم سے بہت بڑا ہے ہمیں پورا زور لگانا چاہیے بھارت کو توڑنے پر۔ ہم اس پر ہنستے تھے مگر کوئی یہ نہیں کہتا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا اور کسی نے کہا بھی کہ اگر ایسا ہوا تو اچھا ہوگا۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو غیر سرکاری طور پر عفریت کو توڑنا چاہتے ہیں۔ دولت نے کہا یوں تو کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اکھنڈ بھارت پر یقین رکھتے ہیں۔ مجھے اکھنڈ بھارت پر بھی بات کرنے میں کوئی اعتراض نہیں۔ ہم کنفیڈریشن کی طرف بڑھ سکتے ہیں اور پھر یونائٹڈ انڈیا کی طرف۔ اس سائیکل کو ریورس کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کم سے کم بات تو کریں۔ یورپئین کتنے عرصے سے یہی کر رہے ہیں۔ چرچل نے یونائٹڈ یورپ کا خواب دیکھا تھا نصف صدی میں خواب پورا ہو گیا۔ سنہا نے اس پر کہا کہ یورپ تو مجتمع ہونے کے بعد بکھرنا بھی شروع ہو گیا ہے اس پر درانی نے کہا کہ کوئی چیز حتمی نہیں، بارڈر کی لکیریں بدلتی رہتی ہیں۔ منموہن سنگھ نے کہا تھا ناشتہ امرتسر میں لنچ لاہور میں اور ڈنر کابل میں کی وہ خواب دیکھ رہے تھے؟ اس سوال کے جواب میں جنرل درانی نے کہا اس پر بات تو تب ہو جب مباحثہ ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top