9a-کشمیری پاکستان سے مایوس ہیں یا بھارت سے؟

9a-کشمیری پاکستان سے مایوس ہیں یا بھارت سے؟

  آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ نواں باب (پارٹ 1)

کشمیری پاکستان سے مایوس ہیں؟

را چیف امرجیت سنگھ دولت نے اعتراف کیا ہے کہ کشمیری پاکستان کو اپنا دوست سمجھتے ہیں۔ لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کشمیر میں کچھ بھی بدلنے والا نہیں۔ بھارت پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے پاکستان کو ہر طریقے سے آزما لیا ہے جس میں سرحد پار حملے اور جنگیں وغیرہ بھی شامل ہیں۔ لیکن پاکستان طاقت کے ذریعے کبھی بھی کشمیر کو واپس نہیں لے سکتا۔

کشمیر کے مسئلے کو حل کرنا ہی ہو گا، را چیف کا اعتراف

را چیف نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ مسئلہ کشمیرایک اہم معاملہ ہے ہے۔ اگر اسے حل نہ کیا گیا تو حالات پھر سے خراب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیر کو متنازعہ نہیں مانتے لیکن یہ مسئلہ تو بہرحال موجود ہے اور عقل کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اس مسئلے کو ہر صورت میں حل کریں چاہے یہ پیشرفت آہستگی سے ہی کیوں نہ ہو۔

پاکستان نے کشمیریوں کو تحریک آزادی میں مدد دی تھی

را کے سابق چیف امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں کہ 90-1989 کے دوران پاکستان نے کشمیریوں کی تحریک آزادی میں ان کی بھرپور مدد کی تھی۔ تاہم یہ تحریک پاکستان کے اندازوں سے بڑی ثابت ہوئی اور بے قابو ہو گئی۔ اور جب 9/11 جیسے واقعات کے بعد یہ تحریک کمزور پڑ گئی تو پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ وہ کشمیریوں کے احساسات کو سمجھ نہیں سکا ہے۔

کشمیر ’کور ایشو‘ ہے، بھارت نے مان لیا

جنرل درانی کہتے ہیں کہ بہت سے بھارتی اس حقیقت کو مانتے ہیں کہ کشمیر ’کور ایشو‘ ہے۔ لیکن کئی لوگ جان بوجھ کر اس حقیقت سے انکار کرتے ہیں تاہم ایسے لوگ بھی کشمیر کو بڑا مسئلہ مانتے ہیں۔

کیاcomposite dialogue سے کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟

جنرل درانی کہتے ہیں کہ کمپوزٹ ڈائیلاگcomposite dialogue کے ذریعے دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کی طرف پیشرفت کر سکتے ہیں۔ اس طرح کے مذاکرات میں پہلے کشمیر پر بات نہیں ہو گی۔ لیکن جیسے جیسے امن عمل آگے بڑھے گا تو پھر مسئلہ کشمیر کا ذکر بھی آئے گا اور اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان مسئلہ کشمیر سے نظریں چُرانے پرمجبور ہوا؟

را چیف کہتے ہیں کہ 2001 تا2008 وہ دور تھا جب کشمیر کا مسئلہ کافی حد تک ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کوئی ہلچل نہیں تھی۔ بعد میں 26/11 کے واقعات سے بھی ٹریک ٹو میٹنگز کے دوران پاکستانیوں کو شرمندگی اٹھانا پڑتی تھی۔ کچھ پاکستانی تو یہ کہتے تھے کہ اب بھی ہم نے سبق نہ سیکھا تو ہم تباہ ہو جائیں گے۔ اس وقت پاکستان کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ یہ معاملہ بات چیت کے ایجنڈے میں شامل ہی نہ ہو۔

مشرف کی پیشکش سے برہان وانی کی شہادت تک

جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ کارگل کی جنگ اور جوہری تجربات کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی امید تھی۔ جب جنرل مشرف آگرہ گئے تو یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اب composite dialogue ضرور شروع ہو جائے گا۔ لیکن بھارت کی طرف سے کوئی مثبت ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ جس کی وجہ سے ہمارا خیال تھا کہ بھارت ٹس سے مس نہیں ہو گا۔ انہوں نے اس موقع پر ایک محاورہ بھی بولا کہ زمین تو ہل سکتی ہے مگر گل محمد نہیں ہل سکتا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب 2016 میں برہان وانی کی شہادت ہوئی تو بھارتیوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ لوگوں کو لگتا تھا کہ کشمیر میں کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ حتیٰ کہ امرجیت سنگھ دولت نے بھی ایسا کہا تھا۔

اقبال، نوازشریف، سلمان تاثیر سب کشمیر سے آئے

جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ کشمیر کے پاکستان سے تعلقات زیادہ ہیں۔ اس لئے تقسیم کے بعد کشمیریوں کی پاکستان ہجرت کا زیادہ امکان تھا۔ پہلے بھی لوگ سرینگر، مظفر آباد شاہراہ کے ذریعے کشمیر چھوڑ کر موجودہ پاکستانی علاقوں میں آتے تھے۔ اقبال، نواز شریف اور سلمان تاثیر کشمیر سے آئے تھے۔

کیا مقبوضہ کشمیر کے لوگ امیر ہیں؟

امرجیت سنگھ دولت کا دعویٰ ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کی خوشحال ترین ریاستوں میں سے ایک ہے۔ سرینگر میں دولت مند لوگوں کا ایک پورا طبقہ موجود ہے جو دبئی جا کر شاپنگ کرتے ہیں حتیٰ کہ ان کے ٹوائلٹس کا سامان بھی دبئی سے آتا ہے۔ کشمیر کے زیادہ تر لوگ خوشحال ہیں اور وہ اچھا گوشت خرید کرکھاتے ہیں۔ بیف کم لوگ کھاتے ہیں تاہم دیہی علاقوں میں جہاں کے لوگ مٹن نہیں خرید سکتے وہ بیف پر گزارہ کرتے ہیں۔ دولت کہتے ہیں کہ کشمیری بھارت کی ترقی کا حصہ بننا چاہتے ہیں تاہم ان کی خواہش ہے کہ ان کی اپنی وادی زیادہ خوشحال ہو اور ان کی ترقی کا مرکز بھی وہی ہو۔

آزاد کشمیر پاکستانی علاقوں سے زیادہ خوشحال ہے

جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ پاکستانی حکومت کی سرمایہ کاری آزاد کشمیر میں سب سے زیادہ ہے۔ آزاد کشمیر میں سڑکوں کا جو نظام 1990 کی دہائی میں تھا وہ باقی پاکستان سے بہتر تھا۔ کشمیر کے لوگ پڑھنا چاہتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں بچوں کو سکول جاتے دیکھنا عام بات ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں وہ صبح کے7 بجے سردی سے ٹھٹھر رہے تھے جب انہوں نے کشمیری بچوں کو آدھی آستین والی شرٹس میں سکول جاتے ہوئے دیکھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top