9b-بھارت شیطان، پاکستان بہترین دوست نہیں؟

9b-بھارت شیطان، پاکستان بہترین دوست نہیں؟

  آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ ۔۔۔ نواں باب (پارٹ 2)

کیا حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین مقبوضہ کشمیر لوٹنا چاہیں گے؟

امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں کہ پاکستان کے زیر کنٹرول کشمیر میں بھی حالات زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی کشمیریوں سے ان کی بات ہوئی ہے جو آزاد کشمیر کو زیادہ اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔ دولت کہتے ہیں کہ کشمیریوں کو اگر آزاد کشمیر جانے کی اجازت ملے تو وہ مایوس لوٹ آئیں گے۔ اس کے ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین بھی شاید مقبوضہ کشمیر لوٹنا پسند کریں گے اور ان کی خواہش ہو گئی کہ وہ علی گیلانی کی جگہ لے لیں۔ کیونکہ وہ کئی بار اپنے سیاسی عزائم کا اظہار کرچکے ہیں۔

بھارت شیطان، پاکستان بہترین دوست نہیں؟

جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ اگر کشمیریوں کو موقع ملے تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ بھارت تم سب سے بڑے شیطان ہو اور پاکستان تم ہمارے بہترین دوست نہیں ہو۔

فاروق عبداللہ پاکستان کے حامی ہیں؟

را چیف نے بھارت نواز کشمیری رہنما فاروق عبداللہ کے متعلق کہا ہے کہ اب ان جیسے لوگ بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان سے مذاکرات ہونے چاہئیں۔ اور یہ کہ حالات کو جوں کا توں رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

پاک بھارت بہتر تعلقات سے کشمیری خوش نہیں ہوں گے؟

را کے سابق چیف کا دعویٰ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری سے کشمیریوں کو فائدہ ہو گا۔ لیکن جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ اس سے کشمیری پریشان ہوں گے۔ کیونکہ کشمیریوں کا خیال ہے کہ اگر پاک،بھارت تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو کشمیر کا مسئلہ سردخانے میں ڈال دیا جائے گا۔ جبکہ بھارت کو ڈر ہے کہ اگر تعلقات میں بہتری کے بعد کشمیریوں کو ایل او سی کے پار آنے جانے کی اجازت مل گئی تو وہ زیادہ پراعتماد ہو جائیں گے۔ اس صورت میں ان کے سلگتے جذبات اور بھڑک اٹھیں گے۔

امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں کہ کشمیری سمجھتے ہیں کہ پاکستان مصیبت میں ان کے کام آنے والی جگہ ہے۔ اس لئے جب حالات بہتر ہوں گے تو کشمیری پاکستان پر زیادہ توجہ نہیں دیں گے تاہم مشکل وقت میں وہ پاکستان کی طرف دیکھیں گے۔ دولت نے یہ تجویز بھی دی کہ ایل او سی کے آر پار آمدورفت بڑھائی جائے۔ بسوں کے ساتھ ٹرینیں بھی چلائی جائیں، پھلوں سے لدے ہوئے ٹرک دونوں طرف آتے جاتے رہیں۔ ایل او سی پر امن سے دونوں طرف کشمیریوں کا جانی و مالی نقصان بھی نہیں ہو گا۔ جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے بھارت نواز حکمران ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔

کشمیری پاکستان سے ڈرتے ہیں، را چیف کا دعویٰ

امرجیت سنگھ دولت نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارت کشمیریوں کو پاکستان سے بہتر سمجھتا ہے اور کشمیری پاکستان سے خوفزدہ ہیں۔

کیا جنرل درانی مقبوضہ کشمیر جا سکتے ہیں؟

بھارتی صحافی نے امرجیت سنگھ دولت سے سوال کیا کہ کیا اسد درانی مقبوضہ کشمیر جا سکتے ہیں تو دولت کا کہنا تھا کہ جس دن میں مری جا سکوں گا اس دن جنرل درانی بھی سرینگر جا سکتے ہیں۔ جنرل درانی نے کہا کہ آپ کسی بھی وقت مری آ سکتے ہیں۔ دولت نے کہا کہ میں نے ایک بار جنرل درانی سے مری جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میں آپ کو مری واڈکا اسلام آباد میں ہی پیش کر دوں گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top