پاکستان کی کہانی قسط نمبر 12

پاکستان کی کہانی قسط نمبر 12

ضیاالحق کے پورے دور پر سوویت روس کے ایک خفیہ آپریشن کی گہری چھاپ رہی ہے۔ اس آپریشن کو اسٹارم ٹرپل تھری کہا جاتا ہے۔ 27دسمبر 1979 کو روسی کمانڈوز نے کابل کے قریب صدارتی محل میں افغان صدر امین اللہ حفیظ کو قتل کر دیا۔ صرف تینتالیس منٹ پر مشتمل اس آپریشن نے افغان جنگ کی بنیاد رکھی۔ یہ جنگ دس سال تک انسانی المیوں کا باعث رہی  اور ساڑھے بارہ لاکھ انسان لقمہ اجل بن گئے۔

ایک سپرپاور ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی اور دنیا میں امریکہ واحد سپر پاور کےطور پر ابھرا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں افغانستان پر روسی حامیوں کا قبضہ ہو گیا۔

سوویت روس اور افغانستان میں ہونے والی یہ تبدیلیاں جنرل ضیا الحق بہت غور سے دیکھ رہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ سوویت روس دراصل افغانستان سے ہوتا ہوا پاکستان کے راستے گوادر کی بندرگاہ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ گرم پانیوں تک رسائی حاصل کر سکے۔ اس دور میں بھارت اور روس جنگی اتحادی تھے۔ اس لیے جنرل ضیا کو یہ بھی خطرہ تھا کہ افغانستان میں روس اور بھارت کی حامی حکومت پاکستان کے لیے مستقل خطرہ ہو گی۔

اس وقت امریکہ کا بھی یہی مفاد تھا کہ روس کو افغانستان میں روکا اور جنگ میں الجھا کر کمزور کیا جائے۔ چنانچہ امریکہ نے پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ بنایا اور سعودی عرب کی  مدد سے مجاہدین تیار کرنا شروع کر دئیے۔ امریکہ اور سعودی عرب اس جنگ کیلئے مالی وسائل فراہم کر رہے تھے جبکہ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک سے سادہ لوح مسلمانوں کو جہاد کے نام پر افغانستان میں جمع بھی کیا جا رہا تھا۔ اب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اس حقیقت کو برملا تسلیم کررہے ہیں۔

جنرل ضیا، امریکہ اور سعودی عرب… سوویت روس کو افغانستان میں نیست و نابود کرنے کیلئے ایک جان ہو گئے۔ لیکن اس وقت پاکستان پر امریکہ پابندیاں عائد تھیں جن کی وجہ سے پاکستان دنیا سے اسلحہ اور ٹکنالوجی حاصل نہیں کر پا رہا تھا۔ امریکی صدر جمی کارٹر نے سوویت روس سے جنگ کے بدلے پاکستان کو چالیس کروڑ ڈالر امداد کی پیشکش کی۔ جنرل ضیاء الحق نے اس موقعے پر مشہور فقرہ کہا کہ ’’یہ مونگ پھلی کے دانے اپنے پاس ہی رکھیں۔‘‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ صدر جمی کارٹر کے مونگ پھلی کے فارمز تھے. اس گہرے طنز پر امریکی میڈیا نے ضیاء الحق کے فقرے کو خوب مرچ مسالہ لگا کر پیش کیا۔ لیکن مونگ پھلی کے باغات والا صدر انیس سو اکیاسی میں چلا گیا اور ایک بزنس مین کا بیٹا رونلڈ ریگن امریکہ کا صدر منتخب ہو گیا۔ صدر ریگن ایک سیلزمین کے بیٹے تھے اور انھیں سودا کرنا خوب آتا تھا۔ انھوں نے امریکہ کو دنیا کی واحد سپر پاور بنانے کیلئے پاکستان کی طرف خزانوں کے منہ کھول دیئے۔ پاکستان کے لیے تین ارب بیس کروڑ ڈالر کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا گیا۔ معاشی پابندیاں ختم کر دیں گئیں، پاکستان کو دنیا کے جدید ترین اور کبھی نہ ہارنے والے ایف سولہ طیارے فروخت کرنے کی منظوری دی۔ انھی ایف سکسٹین کے باعث پاک فضائیہ کو کئی سال تک انڈین ائرفورس پر برتری حاصل رہی۔ امریکہ سے دوستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل ضیا نے 34 ایف سکسٹین اور پاک بحریہ کیلئے ہارپون میزائل خریدے۔

ضیاء الحق کی خواہش اور مطالبے پر امریکہ نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو بھی نظرانداز کرنا شروع کیا جس کی وجہ سے پاکستان نے افغان جنگ کے دوران ایٹمی پروگرام کو خفیہ طریقے سے مکمل کیا اور پہلا کولڈ ایٹامک ٹیسٹ بھی کیا۔ یعنی بم چلائے بغیر ہی ٹکنالوجی کی مدد سے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی جانچ کر لی گئی۔ اس دوران امریکی کانگریس نے کئی بارپاکستانی جوہری پروگرام پر پابندیاں لگانے کی کوششیں کیں لیکن ضیاء الحق کانگریس مین چارلی ولسن جیسے دوستوں کی مدد سے ان کوششوں کو ناکام بناتے رہے۔

امریکہ اور سعودی عرب  نے مل کر دس برس تک ساٹھ کروڑ ڈالر سالانہ مجاہدین کو فراہم کئے۔ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب نے یہ ذمہ داری لے رکھی تھی کہ وہ ہر امریکی ڈالر کے بدلے میں ایک ڈالر مجاہدین کی امداد کے لیے خرچ کرے گا۔

امریکی پابندیوں کے خاتمے کے نتیجے میں پاکستان کو دوسرے یورپی ممالک سے بھی اسلحہ ملنے لگا تھا۔ ان میں فرانس سے جدید طیارہ شکن میزائل مسترال اور کروٹیل بھی ملے۔

پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی افغان مجاہدین کی تربیت کر رہی تھی۔ دوسری طرف سعودی امداد سے مدارس کا نیٹ ورک پھیلایا جا رہا تھا تاکہ مجاہدین کی مستقل سپلائی برقرار رکھی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے اسلام سے محبت کے جذبات کو استعمال کیا گیا اور عالمی جہاد کے تصور کو عام کیا گیا۔ اسامہ بن لادن بھی اسی دور میں افغانستان پہنچے۔

اس سب کے باوجود افغانستان میں روس کو ہرانا مشکل نظر آ رہا تھا۔ کیونکہ روس کی فضائی طاقت کو افغان مجاہدین شکست نہیں دے پا رہے تھے۔ ایسے میں امریکہ نے ایک ایسا ہتھیار تیار کیا جو اپنی مثال آپ تھا۔

یہ ہتھیار کیا تھا اور روس کی شکست میں اس نےکیا کردار ادا کیا۔ بلکہ پاکستان میں بھی اس ہتھیار نے کس انتشار کو جنم دیا۔ اس کی تفصیل قسط نمبر 13 میں دیکھیں۔

 

پاکستان کی کہانی کی مکمل اقساط دیکھیں

https://www.youtube.com/playlist?list=PLYt5jguM4dGwPAeLXmNorJV559crcMvuN

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top