Japan

وہ واحد انسان جو دو ایٹمی حملے جھیل کر بھی زندہ رہا

جاپانی شہری سوتومو یاماگوچی دنیا کا وہ واحد انسان تھا جس نے دو ایٹم بم حملے سہے مگر زندہ رہا۔

دوسری جنگ عظیم کے آخری دنوں میں امریکہ نے دو جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے

6اگست 1945کو جب پہلا ایٹم بم ہیروشیما پر گرایا گیا تو یاماگوچی اس وقت کسی کاروباری سلسلے میں اسی شہر آیا ہوا تھا

امریکہ نے ہیروشیما پر ایٹم بم گرا دیا لیکن یاماگوچی بم گرنے کی جگہ سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔

اس نے بم گرتے دیکھ لیا تھا اور زمین پر گر گیا۔ معجزاتی طور پر وہ زخمی تو ہوا لیکن شہر میں بری طرح آگ لگنے کے باوجود وہ بچ رہا

وہ اپنے شہر ناگا ساکی پہنچا۔ جہاں اس نے ہیروشیما کا واقعہ سنایا تو اس کے افسر نے اس کا مذاق اڑایا۔ اور کہا کہ کیا میں احمق ہوں کہ یہ بات مان لوں کہ ایک بم نے پورے شہر کو تباہ کر دیا۔

ابھی یہ گفتگو جاری ہی تھی کہ یاماگوچی نے دور فلک پر ایک دھویں کی ایک چھتری بلند ہوتے دیکھی۔ وہ ایک بار پھر چیختا ہوا زمین پر لیٹ گیا۔ یہ ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرایا گیا تھا۔

اس حملے میں بھی یاما گوچی محفوظ رہا لیکن تابکاری کے باعث اسے ایک کان سے سنائی دینا بند ہو گیا۔

وہ کچھ دیگر بیماریاں کا بھی شکار رہا، مگر اس سب کے باوجود اس نے چرانوے سال کی طویل عمر پائی اور دوہزار دس میں پیٹ کے کینسر سے ان کی موت ہوئی

یاما گوچی اپنے تمام انٹرویوز میں عالمی طاقتوں سے یہی اپیل کرتا رہا کہ انسانیت کو ایٹمی خطرات سے بچانے کے لیے کوشش کریں

 

پاکستان کی کہانی

 

جاپان کی طاقت کا راز کیا ہے؟

کھبی جاپانیوں کو دنیا کی سب سے جنگجو قوم سمجھا جاتا تھا۔ جاپانی پہلوان دنیا میں طاقت کی علامت تھے۔ لیکن اب جاپانی دنیا میں ٹکنالوجی کی علامت ہے۔۔۔ جاپانی کی طاقت کی کہانی جانیے۔۔۔

Scroll to top