پاکستان کی کہانی ۔ قسط نمبر4

پاکستان کی کہانی ۔ قسط نمبر4

یہ کیسے ہوا کہ لیاقت علی خان کی وفات کے بعد ایک فالج زدہ شخص پاکستان کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا؟ قصہ یہ ہے کہ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد مسلم لیگ نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کے نتائج خطرناک ثابت ہوئے۔

لیاقت علی خان کی جگہ ایک متحرک شخص کی ضرورت تھی جو پاکستان کا آئین بھی تشکیل دے اور ملکی معاملات بھی سنبھالے اس لیے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کو وزیرعظم کا عہدہ دے دیا گیا۔ گورنر جنرل کے پاس برطانیہ کے دئیے ہوئے کافی اختیارت تھے لیکن رسمی طور پر وہ انھیں استعمال نہیں کرتا تھا اس لیے وزیرخزانہ ملک غلام محمد کو بے ضرر سمجھتے ہوئے گورنرجنرل بنا دیا۔  فالج کے مریض غلام محمد بیوروکریٹ تھے۔ قیام پاکستان کی جدوجہد سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں تھا اس لئے وہ عوامی امنگوں کو سمجھنے سے سراسر قاصر تھے۔ اس پر مزید یہ کہ فالج کے باعث ان کی گفتگو کسی کو سمجھ نہیں آتی تھی۔ ان کی امریکی سیکرٹری ترجمے کے فرائض سرانجام دیتی تھی۔

اس وقت پاکستان کا آئین نہیں بنا تھا اور پاکستان کو انیس سو پنتیس کے برطانوی ایکٹ کے تحت چلایا جا رہا تھا۔ اس ایکٹ میں گورنر جنرل کے پاس کافی اختیارات تھے۔ گورنر جنرل غلام محمد نے فادر آف دا نیشن بننے کے بجائے اس ایکٹ سے فائدہ اٹھایا اور اپنے اختیارات کا کھل کر جائز اور ناجائز استعمال کیا۔ ان کے دور میں پاکستان میں دو بڑے اہم واقعات ہوئے۔

ایک یہ کہ مشرقی پاکستان میں بنگالی زبان کی حمایت کرنے والوں پرگولیاں برسائی گئیں۔ دوسرا یہ کہ پھر احمدیوں کے خلاف چلنے والی تحریک کو کچلنے کے لیے لاہور میں مارشل لاء نافذ ہوا جو پاکستانی تاریخ کا پہلا مارشل لاء تھا۔

اس پر بس نہیں بلکہ غلام محمد نے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو بھی برطرف کردیا۔

ناظم الدین نے ملکہ برطانیہ سے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی اپیل کی۔ لیکن بدقسمتی دیکھئیے کہ برطانیہ جو خود کو قدیم ترین جمہوریت کہتا ہے اس نے یہ جمہوری درخواست مسترد کر دی۔

غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کی جگہ امریکہ میں پاکستانی سفیر محمد علی بوگرہ کو وزیراعظم بنا دیا۔ اگلے برس یعنی انیس سو چون میں غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی کو بھی توڑ دیا۔ حالانکہ اس وقت پاکستان کے پہلے آئین کا مسودہ تقریباً تیار ہو چکا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ اسمبلی توڑنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ نئے آئین میں گورنرجنرل کے اختیارات کم کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس فیصلے میں انہیں آرمی چیف جنرل ایوب خان کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ غلام محمد کے دور میں حاضر سروس آرمی چیف جنرل ایوب کو وزیردفاع بھی مقرر کردیا گیا اور یوں اقتدار کے ایوانوں میں فوجی بوٹوں کی گونج سنائی دینے لگی۔

پاکستان کی کہانی جاری ہے۔ بظاہر مضبوط دکھائی دینے والے گورنرجنرل غلام محمد کو کیسے اقتدار سے بے دخل کیا گیا اور وہ کون تھا جو جمہوریت کی بحالی کیلئے سب سے پہلے عدلیہ اور آمروں کے سامنے سینہ سپر ہو گیا؟ دیکھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے اور دیکھو سنو جانو کو سبسرائیب کیجئے ۔ جبکہ پاکستان کی کہانی کی تمام اقساط دیکھنے کیلئے یہاں(Link) کلک کیجئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top