الیکشن 2018: کانٹے دار میدان کہاں سجنے والا ہے؟

Tough competition

الیکشن 2018: کانٹے دار میدان کہاں سجنے والا ہے؟

انتخابی ہنگامے اب کاغذات کی جانچ پڑتال، اعتراض ومسترد ہونے کے مرحلے سے انتخابی مہم میں داخل ہونے جا رہے ہیں۔ انتخابی سرگرمیاں، جلسے اور گلی محلوں میں رونقیں لگنا شروع ہو چکی ہیں۔ پی ٹی آئی اور ن لیگ کی مخاصمت اب نعروں میں گونج رہی ہے۔ اس دھواں دھار فضا میں آئیے ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کی وہ کونسے حلقے ہیں جہاں کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

سعد رفیق بمقابلہ عمران خان

لاہور کا حلقہ این اے 131جو پچھلے الیکشن میں حلقہ 125 تھا، اس بار لاہور کی انتخابی سیاست کا مرکزی ہنگامہ خیز حلقہ رہنے کی توقع ہے جہاں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نیازی خود میدان میں ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں ن لیگ کے اہم لیڈر اور سابق وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق ہیں جنہوں نے انتخابی ہنگامے سے قبل یہ اعلان کیا تھا کہ وہ لاہور کے اسی حلقے سے الیکشن لڑیں گے جہاں سے عمران خان امیدوار ہوں گے۔ اب دیکھتے ہیں کہ عمران خان کی بذات خود آمد کے بعد حلقے کے انتخابی نتائج پر کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ 2013کے انتخابات میں یہاں سے سعد رفیق نے ایک لاکھ 23ہزار ووٹ لے کر میدان مارا تھا۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ لاہور کا سب سے بڑا جوڑ اسی حلقے میں پڑے گا۔

تحریک انصاف بمقابلہ ایم ایم اے، پی پی پی، ن لیگ اور اے این پی

این اے 35 بھی اس بار خصوصی توجہ کا مرکز رہے گا۔ یہاں تمام ہی سیاسی جماعتیں اپنے ایجنڈے کے ساتھ ایک ہی طاقت کے خلاف جمع ہیں۔ یہاں سے بھی سربراہ تحریک انصاف عمران خان قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔ جہاں انہیں ہرانے کے لیے ایم ایم اے، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور اے این پی نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر رکھی ہے۔ بنوں کے اس حلقے میں عمران خان کے مدمقابل سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا اکرم درانی ہیں۔

 

 

 

مریم نوازشریف بمقابلہ ڈاکٹر یاسمین راشد

لاہور کا ایک اور حلقہ این اے125بھی اس بار خصوصی سیاسی دلچسپیوں کا باعث رہے گا۔ اس حلقے میں میں کل ووٹرزکی تعداد4لاکھ74ہزار21  ہے۔ یہاں سابق وزیراعظم نوازشریف کی بیٹی مریم نواز کے مقابلے پر پی ٹی آئی کی ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں، جنہوں نے 2013 کے الیکشن میں میاں نوازشریف کے مقابلے پر اچھے ووٹ لیے تھے اور نوازشریف کی نااہلی کے بعد اسی حلقے میں جو اس وقت حلقہ این اے 120 تھا میں حکمران جماعت کو سخت مشکل میں ڈال دیا تھا۔ اگرچہ وہ ضمنی الیکشن بھی ہار گئی تھیں مگر ان کے ووٹس کی تعداد بتاتی ہے کہ اس الیکشن میں وہ ایسے پہلوان کے طور پر اتریں گی جو کسی احساس کمتری کے ساتھ میدان میں نہیں اترتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top