زلفی بخاری کون ہے اور اس کا کاروبار کیا ہے؟

زلفی بخاری کون ہے اور اس کا کاروبار کیا ہے؟

کیا عمران خان نے اثرورسوخ کو استعمال کیا

جولائی 2018 کے انتخابات سرپرہیں کہ ایک اور سکینڈل کا عمران خان کو سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ ہوا یوں کہ عمران خان اپنی اہلیہ بشری مانیکا کے ساتھ  زلفی بخاری کے ہمراہ عمرے کے لیے سعودی عرب روانہ ہونے کے لیے ائیر پورٹ پہنچے جہاں ایک چارٹر طیارہ ان کا منتظر تھا۔ مگر پرواز سے تھوڑی دیر قبل معلوم ہوا کہ زلفی بخاری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ہے اور وہ ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔ مگر ایک گھنٹے کے اندر اندر ہی وزارت داخلہ نے ایک خصوصی اجازت نامہ جاری کرتے ہوئے چھ دن کی اجازت دے کہ وہ عمرہ کے لیے جا سکتے ہیں۔ اب الزام یہ لگایا جا رہا ہے کہ عمران خان نے اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے زلفی بخاری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوایا۔ عمران خان اس الزام سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس ضمن میں انہوں نے کسی کو فون نہیں کیا۔ کچھ صحافیوں کی طرف سے یہ الزام بھی سامنے آیا کے زلفی بخاری نے عبوری وزیر داخلہ اعظم خان کو کہہ کر اپنا نام عارضی طور پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوایا۔ یاد رہے کہ اعظم خان عمران خان فائونڈیشن کے بورڈ ممبر بھی ہیں۔

زلفی بخاری کون ہے؟

عمران خان عمرہ کی ادائیگی کے لیے تو پہنچ گئے مگر اس کی وجہ سے ایک اور سکینڈل ان سے جڑ گیا ہے۔ اب لوگ سوال کر رہے ہیں کہ زلفی بخاری کون ہے؟ زلفی بخاری برطانوی شہری اور عمران خان کے ذاتی دوست ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جتنا عرصہ پاکستان میں ہوتے ہیں عمران خان کے ساتھ ہوتے ہیں اور عمران خان بھی جب لندن جاتے ہیں تو انہی کے ہاں قیام کرتے ہیں۔ عمران ریحام طلاق کے سارے معاملات بھی زلفی بخاری نے دیکھے تھے اور ان کی تیسری شادی میں وہ عمران خان کی طرف سے نکاح کے گواہ بھی تھے۔ لندن میں عمران کے فنڈز پروگرامز کا انتظام بھی وہی سنبھالتے ہیں۔ اگرچہ تحریک انصاف میں ان کا کوئی عہدہ وغیرہ نہیں ہے مگر ان کی ذاتی زندگی سے جڑے اہم معاملات کا زلفی بخاری حصہ رہے ہیں۔

زلفی بخاری کا کاروبار کیا ہے؟

زلفی بخاری کیا بزنس کرتے ہیں اس بارے میں جب ایک اینکر نے عمران خان سے سوال کیا تو ان کا جواب تھا کہ میں نہیں جانتا کہ ان کا بزنس کیا ہے حالانکہ عمران خان اسی انٹرویو میں پہلے یہ بھی کہہ چکے تھے کہ زلفی چھ سال سے ان کا دوست ہے۔ زلفی بخاری کے بزنس کے بارے میں ان کے قریبی رشتے دار اور مسلم لیگ ن کے سابق سینیٹر سید ظفر علی شاہ کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ میں پراپرٹی کا کام کرتے ہیں اور پاکستان میں ان کا ایک بھی روپے کا کاروبار نہیں ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق زلفی بخاری کی لندن کے پوش علاقوں میں درجن بھر کمرشل پراپرٹیز ہیں۔ اس کے علاوہ چھ آف شور کمپنیاں بھی ہیں۔ اس کے علاوہ لندن میں ان کا ایک شاپنگ مال اور سیون سٹار ہوٹل بھی ہے۔ ہم اپنے قارئین کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ زلفی بخاری پاکستانی فلم پروڈیوسر کے طور پر بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں انہوں نے ’کیک‘ نامی ایک فلم بنائی تھی جو ان کے لنکس کی وجہ سے برطانیہ میں بھی ریلیز ہوئی تھی۔

 

میں کسی کو جواب دہ نہیں: زلفی بخاری

پانامہ پیپرزکے سکینڈل کے سلسلے میں ان کا نام نیب کی لسٹ میں تھا جس کی وجہ سے وہ بلیک لسٹ تھے۔ اس حوالے سے زلفی بخاری کا موقف یہ ہے کہ کیونکہ وہ پاکستانی شہری ہی نہیں، ان کا بزنس بھی پاکستان میں نہیں اس لیے یہاں وہ جواب دہ بھی نہیَں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top